استخارہ کرنے کا طریقہ . How to do (perform) Istikhara with dua. Arabic Text with Urdu

 نکاح سے پہلے دعاء و استخارہ کی ضرورت

دعاء ایک ایسی چیز ہے کہ دین و دنیا دونوںکے لئے برابر طور پر مشروع و موضوع ہے اسی لئے قرآن مجید و حدیث شریف میں نہایت درجہ اس کی ترغیب و فضیلت اور جابجا تاکید وارد ہے‘ چنانچہ ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے ’’دعاء کرو مجھ سے‘ میں قبول کروں گا‘‘ اور ارشاد فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے‘ بڑی عبادت تو دعاء ہے۔ اور فرمایا جس شخص کو دعا کی توفیق ہو گئی اس کے لئے قبولیت کے دروازے کھل گئے۔ اور ایک روایت میں ہے کہ جنت کے دروازے کھل گئے اور ایک روایت میں ہے کہ رحمت کے دروازے کھل گئے اور ارشاد فرمایا کہ قضا کو صرف دعاء ہٹا سکتی ہے۔

ستخارہ کرنے کا طریقہ . How to do (perform) Istikhara with dua. Arabic Text with Urdu

دعاء تمام تر تدبیروں اور احتیاطوں سے بڑھ کر مفید ہے‘ دنیوی حوائج (ضروریات) میں بھی دعاء مانگنے کا حکم ہے۔ دعاء قبول تو ضرور ہوتی ہے مگر (قبولیت کی) صورتیں مختلف ہوتی ہیں۔ کبھی تو وہی چیز مل جاتی ہے اور کبھی اس کے لئے (آخرت میں ذخیرہ ثواب) جمع ہو جاتا ہے اور کبھی اس کی برکت سے کوئی بلا ٹل جاتی ہے۔ غرض اس دربار میںہاتھ پھیلانے سے کچھ نہ کچھ مل کر رہتا ہے۔ (مقدمہ مناجات مقبول صفحہ ۱۲‘۱۳)

دعاء کے ساتھ تدبیر و توکل کی ضرورت

دعاء کے متعلق بھی لوگوں کو غلطی ہو رہی ہے (کہ محض دعاء کو کافی سمجھ کر کوشش و تدبیر نہیں کرتے حالانکہ) دعاء میں وہ تدابیر بھی داخل ہیں۔ کیونکہ (دعاء کی دو قسمیں ہیں) ایک دعاء قولی ہے اور ایک دعاء فعلی ہے (دعاء فعلی کا مطلب کوشش و تدبیر اختیار کرنا ہے)

اگر دعا کے صرف وہی معنی ہیں جو تم سمجھتے ہو تو پھر نکاح بھی نہ کرو اور کہہ دو کہ ہم کو پیر صاحب کی دعاء پر اعتماد ہے۔ اولاد کی تو ہمیں بڑی تمنا ہے مگر نکاح نہیں کریں گے‘ بس یوں ہی کسی طرح دعاء سے اولاد ہو جائے گی۔ (کیا ایسا بھی عادۃً ممکن ہے ) دعاء کے معنی یہ ہیں کہ جتنی تدبیریں (اور ظاہری اسباب و کوشش) ہو سکیں سب کرو‘ اور پھر دعاء بھی کرو اور محض تدبیر (کوشش) پر بھروسہ نہ کرو‘ بھروسہ دعاء (یعنی اللہ ہی) پر کرو‘ یہ مضمون ایک حدیث شریف کا ہے کہ اعقل ثم توکل ’’یعنی اونٹ کو باندھ کر پھر خدا پر بھروسہ کر‘‘ یہ ہے توکل۔ (ضرورت تبلیغ ملحقہ دعوت و تبلیغ صفحہ ۳۲۷)

ساری تدبیریں ایک طرف اور خدا سے تعلق اور دعاء کرنا ایک طرف۔ اس کو لوگوں نے بالکل چھوڑ دیا۔ مگر دعاء خشوع کے ساتھ ہونی چاہئے۔ فقہاء نے لکھا ہے کہ دعاء میں کسی خاص دعا کی تعیین نہ کرے اس سے خشوع جاتا رہتا ہے۔

(الافاضات الیومیہ صفحہ ۳۲۷ جلد ۲)

چند ضروری ہدایات و آداب

دعاء کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ ہم آپ کی اجازت سے وہ چیز مانگتے ہیں جو ہمارے علم میں مصلحت اور خیر ہے اگرآپ کی رضا ہے تو عطا کر دیجئے۔ ورنہ نہ دیجئے ہم دونوں حال میں راضی ہیں مگر اس رضا کی علامت یہ ہے کہ قبول نہ ہونے سے شاکی (شکایت کرنے والا) اور تنگ دل نہ ہو۔

(انفاس عیسیٰ صفحہ ۳۶۴ جلد ۱)

! ہم کو تقدیر کا علم نہیں اس لئے اپنے خیال میں جو مصلحت ہو اس کے مانگنے کی اجازت ہے۔ اگر اس کے خلاف مصلحت ہو تو اس پر راضی رہنے کا حکم ہے۔

(انفاس عیسیٰ صفحہ ۲۴۶ جلد ۱)

” (دعاء میں اپنی طرف سے ) طریقے تجویز کرنا کہ یہ صورت ہو جائے اور پھر وہ صورت ہو جائے‘ یہ اعتداء فی الدعاء (دعا میں زیادتی اور آداب دعا کے خلاف) ہے۔ گویا اللہ میاں کو رائے دینا ہے یہ تو ایسا ہوا کہ لڑکا کہے کہ اماں مجھے چوتھی روٹی جو پکے وہ دینا۔ بھلا اس سے اس کو کیا غرض۔ جونسی روٹی ہو اسے روٹی سے مطلب۔ (ایضاً صفحہ ۴۳۰ جلد ۱)

# جس امر میں تردد ہو اور قرائن سے کسی ایک شق کا راجح ہونا معلوم نہ ہو‘ اسمیں تردد کے ساتھ دعا مانگنا چاہئے اور جس امر کی ایک جانب اپنے نزدیک متعین ہو اور قرائن سے کسی ایک شق کا خیر ہونا راجح ہو یا شر ہونا راجح ہو تو بلا تردد کے دعاء کرنا چاہئے۔ تردد کا مطلب یہ ہے کہ اس طرح دعا کرے کہ یااللہ اگر میرے لئے یہ صورت بہتر ہو تو کر دیجئے ورنہ نہ کیجئے۔ (ایضاً صفحہ ۴۳۰ جلد ۱)

اچھا رشتہ ملنے کے لئے اہم دعائیں

{رَبَّنَا ھَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجْنَا وَذُرّْیٰتِنَا قُرَّۃَ اَعْیُنٍ وَّجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا}

’’اے ہمارے رب ہماری بیویوں اور اولاد کی طرف سے آنکھوں کو ٹھنڈک عطا کر اور ہم کو متقیوں (پرہیز گاروں) کا مقتدا کر دیجئے۔‘‘ (مناجات مقبول صفحہ ۷۳)

((اللھم انی اسئلک من صالح ما تعطی الناس من المال والاھل والوالد غیر ضال ولا مضل)) (ص۱۲۷)

’’اے اللہ میں سوال کر تا ہوں تجھ سے اچھی اور نیک چیز کا جو تو لوگوں کو دے مال ہو یا بیوی یا اولاد‘ کہ نہ گمراہ ہوں اور نہ گمراہ کرنے والا۔‘‘

((اللھم انی اسئلک العفو والعافیۃ فی دینی و دنیای واھلی ومالی)) (ص۶۵)

’’اے اللہ میں تجھ سے معافی اور امن وسلامتی مانگتا ہوں اپنے دین اور دنیا کے معاملہ میں اور اپنے اہل اور مال میں‘‘

((اللھم بارک لنا فی اسماعنا وابصارنا وقلوبنا وازواجنا وذریاتنا وتب علینا انک انت التواب الرحیم)) (ص۱۳۹)

’’اے اللہ ہمارے لئے برکت دے ہماری قوت سماعت و بصارت میں اور ہمارے دلوں اورہماری بیویوں میں اور ہماری اولاد میں۔ اور ہماری توبہ قبول فرما لے۔ بے شک تو ہی توبہ قبول کرنے والا اور بڑا مہربان ہے۔‘‘

برے رشتہ سے بچنے کے لئے دعائیں

((اللھم انی اعوذ بک من امراۃ تشیبنی قبل المشیب و اعوذ بک من ولد یکون علی وبالا و اعوذ بک من مال یکون علیَّ عذابا))

(ص۱۹۵)

’’اے اللہ ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں ایسی عورت سے کہ مجھے بوڑھا کر دے‘ بڑھاپے سے پہلے‘ اور پناہ چاہتا ہوں میںتیری ایسی اولاد سے کہ میرے لئے وبال ہو اور پناہ چاہتا ہوں میں ایسے مال سے کہ مجھ پر عذاب جان ہو‘‘

((اللھم انی اعوذبک من فتنۃ النساء اللھم انی اعوذ بک من کل عمل یخزینی و اعوذ بک من کل صاحب یوذینی واعوذ بک من کل امل یلھینی)) (مناجات مقبول)

’’اے اللہ میں تیری پناہ چاہتا ہوں عوتوں کے فتنہ سے۔ یا اللہ میں تیری پناہ چاہتا ہوں ہر اس عمل سے کہ مجھ کو رسوا کر دے اور تیری پناہ چاہتا ہوں ہر اس سا تھی سے جو مجھے تکلیف دے‘ اور پناہ چاہتا ہوں ایسے منصوبہ سے کہ مجھے غافل کر دے‘‘

(یہ سب دعائیں احادیث سے ثابت ہیں‘ جو مناجات مقبول مرتبہ حکیم الامت حضرت تھانوی رحمہ اللہ سے ماخوذ ومقتبس ہیں۔ دعائوں سے اول آخر تین تین مرتبہ درود شریف پڑھ لینا

استخارہ کرنے کا طریقہ

ایک شخص نے استخارہ کرنے کا طریقہ دریافت کیا تو فرمایا صلوٰۃ الاستخارہ یعنی دورکعت نفل پڑھ کر سلام پھیر کر استخارہ کی دعا پڑھے پھر قلب کی طرف رجوع کرے۔ قلب کی طرف متوجہ ہو کر بیٹھے سونے کی ضرورت نہیں اور استخارہ کی دعا ایک مرتبہ پڑھنا بھی کافی ہے حدیث شریف میں تو ایک ہی دفعہ آیا ہے اور پہلے سے اگر کسی جانب رائے کا رجحان ہو تو اس کو فنا کر دے۔ جب طبیعت یکسو ہو جائے جب استخارہ کرے اور اس طرح دعا کرے کہ ’’ اے اللہ جو میرے لئے بہتر ہو وہ ہو جائے‘‘ اور دعا مانگنا اردو میں بھی جائز ہے۔ لیکن حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے الفاظ بہتر ہیں۔ (ایضاً صفحہ ۴‘ ۱۴۷‘ جلد ۳)

استخارہ کے مفید ہونے کی ضروری شرط

استخارہ اس شخص کا مفید ہوتا ہے جو خالی الذہن ہو ورنہ جو خیالات ذہن میں بھرے ہوتے ہیں ادھر ہی قلب مائل ہو جاتا ہے اور وہ شخص یہ سمجھتا ہے کہ یہ بات مجھ کو استخارہ سے معلوم ہوئی ہے حالانکہ خواب یا قوت متخیلہ میں اس کے خیالات ہی نظر آتے ہیں۔ (افاضات الیومیہ صفحہ ۱۶۵ جلد ۱۰)

متعین لڑکی یا لڑکے سے شادی کرنے کا عمل یا تعویذ کرنا

فقہاء نے ایسے تعویذ لکھنے کو ناجائز لکھا ہے جس سے عورت خاوند کو تابع کر لے تو جب نکاح ہوتے ہوئے ایسا تعویذ دینا حرام ہے تو اس صورت میں تو نکاح بھی نہیںہوا۔ ایسا تعویذ دینا کب جائز ہو سکتا ہے جس سے ایک نا محرم کو اپنا تابع کیا جائے۔ مگر بہت سے بزرگ ایسے تعویذ دیتے ہیں حسب تصریح فقہاء ایسا تعویذ دینا بھی اگرچہ کسی بزرگ کے ہاتھ سے ہو گناہ ہے۔ (عضل الجامعہ صفحہ ۳۸۲)

نکاح کے سلسلے میں تعویذ و عمل کرنے کا شرعی ضابطہ

سوال: بیوہ عورت کو کوئی عمل پڑھ کر نکاح کی خواہش ظاہر کرنا صحیح ہے یا نہیں۔

جواب: عمل باعتبار اثر کے دو قسم کے ہیں۔ ایک قسم یہ کہ جس پر عمل کیا جائے وہ مسخر (تابع) اور مغلوب العقل (بے قابوو مجبور) ہو جائے۔ ایسا عمل اس مقصود کے لئے جائز نہیں جو شرعاً واجب نہ ہو جیسے نکاح کرناکسی معین مرد (یا عورت) سے شرعاً واجب نہیں اس کے لئے ایساعمل جائز نہیں۔

دوسری قسم یہ کہ صرف معمول (جس پر عمل کیا جا رہا ہے) کو اس مقصود کی طرف توجہ بلا مغلوبیت کے ہو جائے پھر بصیرت کے ساتھ اپنے لئے مصلحت تجویز کرے ایسا عمل ایسے مقصود کے لئے جائز ہے۔ اس حکم میں قرآن وغیرقرآن مشترک ہیں۔

(امداد الفتاویٰ صفحہ ۸۹ جلد ۴)

آسانی سے نکاح ہو جانے کے عملیات

عشاء کی نماز کے بعد ’’یا لطیف‘‘ ’’یا ودود‘‘ گیارہ سو گیارہ بار اول آخر تین مرتبہ درود شریف کے ساتھ چالیس روز تک پڑھے اور اس کا تصور کرے (اور اللہ سے دعا بھی مانگے) انشاء اللہ مقصود حاصل ہو گا۔ اگر (مقصد) پہلے پورا ہو تو (عمل ) چھوڑے نہیں۔

(بیاض اشرفی صفحہ ۲۳۹

Spread the love

Leave a Comment

%d bloggers like this: