بچوں کی تربیت کے رہنما اصول | Aulad ki Tarbiyat PDF | Aulad Ki Tarbiyat Kaise Kare |

 تربیتِ اولاد کے بنیادی اصول

بچوں کی تربیت کے رہنما اصول | Aulad ki Tarbiyat PDF | Aulad Ki Tarbiyat Kaise Kare

Lasson No #1

ماز کی تعلیم

بیٹے اور بیٹی کو چھوٹی عمر میں ہی نماز سکھا دینی چاہیے تاکہ بڑا ہونے تک وہ اس پر پختہ ہو جائیں اور حدیث صحیح میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے:

((عَلَّمُوْا اَوْلاَدَکُمُ الصَّلاَۃَ اِذَا بَلَغُوْا سَبْعًا وَاضْرِبُوْھُمْ عَلَیْھَا اِذَا بَلَغُوْا عَشْرًا وَفَرَّقُوْا بَیْنَھُمْ فِی الْمَضَاجِعِ)) [صحیح رواہ احمد]

’’جب بچے سات سال کے ہو جائیں تو ان کو نماز پڑھنا سکھاؤ او جب دس سال کے ہو جائیں تو نماز چھوڑنے پر ان کو مارو…اور ان کے بستر جدا کر دو۔‘‘

اور ان کی تعلیم اس طرح ہو سکتی ہے کہ ان کے سامنے وضو کیا جائے اور نماز پڑھی جائے اور ان کو اپنے ساتھ مسجد لے جایا جائے۔ اور ان کو ایسی کتاب کے ذریعے ترغیب دیں جس میں نماز کی کیفیت مذکور ہوتا کہ تمام گھر والے نماز کے احکام سیکھ سکیں اور یہ مقصد استاد اور والدین سے پورا ہوسکتا ہے اور ہر سستی اور کوتاہی کے بارے میں اللہ تعالیٰ سوال کرے گا۔

! بچوںکو قرآن کریم کی تعلیم دینی چاہیے۔ پہلے ہم سورئہ فاتحہ اور چھوٹی چھوٹی سورتیں شروع کریں گے اور پھر حفظ (التحیات للّٰہ…) نماز کے لیے۔ اور ہمیں ان کے لئے ایک استاد تجوید اور حفظ القرآن کے لئے اور حدیث پڑھانے کے لئے مخصوص کر دینا چاہیے۔

” نماز جمعہ اور نماز باجماعت میں آدمیوں کے پیچھے بچوں کو کھڑا کر کے ان کی حوصلہ افزائی کریں۔ اگر وہ کوئی غلطی کر بیٹھیں تو نرمی سے ان کی اصلاح کردیں۔ نہ ہم انہیں جھڑکیں اور نہ اونچی بول کر انہیں مرعوب کریں تاکہ وہ کہیں نماز نہ چھوڑ دیں اور ہم اس وجہ سے گناہگار ہو جائیں اور جب ہم اپنے بچپن او رکھیل کو د کے دن یاد کریں گے تو ہم ان کو بھی اپنی طرح معذور سمجھیں گے۔

حرام کاموں سے ڈرانا

بچوں کو کفر‘ گالی گلوچ ‘ لعن طعن اور فحش گفتگو سے ڈرانا چاہیے اور ان کو نرمی سے سمجھائیں کہ کفر گھاٹے کے سبب اور آگ میں داخل ہونے کی وجہ سے حرام ہے اور ہمیں ان کے سامنے اپنی زبان کی بھی حفاظت کرنی چاہیے تاکہ ہم ان کے لئے بہترین نمونہ ثابت ہوسکیں۔

بچوں کو جوئے اور اس کی تمام قسموں سے ڈرانا چاہیے جیسا کہ سنوکر اور ٹیبل ٹینس وغیرہ اگرچہ تفریح کے لئے ہوں کیونکہ یہ جوئے تک لے جاتی ہیں اور دشمنی پیدا کرتی ہیں اور یہ ان کے مال اور وقت کا ضیاع ہی ضیاع ہے۔ اور نمازوں کا بھی ضیاع ہے۔

– بچوں کو فحش رسالے اور ننگی تصویروں کودیکھنے سے منع کریں اور جنسی اور من گھڑت قصے کہانیاں پڑھنے سے منع کریں اسی طرح سینما گھروں اور ٹیلیویژن پر مخرب اخلاق اور ننگی فلمیں دیکھنے سے منع کریں کیونکہ اس سے ان کے اخلاق اور مستقبل کی تباہی ہے۔

– بچوں کو سگریٹ نوشی سے منع کریں اور انہیں سمجھائیں کہ تمام ڈاکٹروں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اس سے جسم کو نقصان پہنچتا ہے اور سرطان (کینسر) پیداکرتا ہے اور دانت کمزور ہو جاتے ہیں۔ اس کی بونا گوار ہوتی ہے۔ سینہ کو بیکار کر دیتی ہے۔ اس کا کوئی فائدہ نہیں اسی لئے اس کا پینا اور بیچنا حرام ہے… اس کی بجائے فروٹ اور دوسری لذیذ چیزیں کھانے کی طرف رہنمائی کریں۔

قول و عمل میں سچائی

– بچوں کو قول و عمل میں سچائی کا عادی بنائیں اور وہ اس طرح کہ ہم کبھی بھی انس ے جھوٹ نہ بولیں حتیٰ کہ مذاق کرتے وقت بھی اور جب ہم ان سے کوئی وعدہ کریں تو ہر صورت اس کو پورا کریں چنانچہ حدیث صحیح میں ہے:

((مَنْ قَالَ لِصَبِّی تَعَالٰی ھَاکَ (خُذَ) ثُمَّ لَمْ یُعْطِہِ فَھِیَ کَذِبَۃٌ))

’’جس نے کسی بچے سے کہا‘ ’’آؤ کچھ لے لو‘‘ پھر اسے کچھ نہ دیا تو یہ ایک جھوٹ ہے۔‘‘

مال حرام سے بچانا

اپنی اولاد کو ہمیں رشوت ‘ سود‘ چوری اور ملاوٹ جیسا حرام مال نہیں کھلانا چاہیے کیونکہ یہ ان کی بد بختی ‘ سرکشی اور نافرمانی کا سبب بنتا ہے۔

بددعا نہ کرنا

اولاد کے لئے ہلاکت کی دعا اور غصہ کا اظہار نہیں کرنا چاہیے کیونکہ کبھی کبھی ہر اچھی بری دعا قبول ہو جایا کرتی ہے اور کبھی ان کو گمراہی میں زیادہ مبتلا کر دیتی ہے اور بہتر ہے کہ اولاد کے حق میں یوں کہے۔

((اَصْلَحَکَ اللّٰہُ))

’’اللہ تیری اصلاح فرما دے۔‘‘

اللہ کے ساتھ شرک سے ڈرانا

اللہ کے ساتھ شریک کرنے سے ڈرائیں کہ وہ غیر اللہ سے نہ حاجتیں مانگیں اور نہ ان سے مدد طلب کریں کیونکہ وہ بھی اللہ کے بندے ہیں اور نفع و نقصان کے مالک نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:

{وَلاَ تَدْعُ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مَالاَ یَنْفُعَکَ وَلاَ یَضُرُّکَ فَاِنْ فَعَلْتَ فَاِنَّکَ اِذَا مِنَّ الظَّالِمِیْنَ} [یونس:۱۰۶]

’’اور اللہ کو چھوڑ کرکسی ایسی ہستی کو نہ پکارو جو تجھے نہ فائدہ پہنچا سکتی ہے نہ نقصان۔ اگر تو ایسا کرے تو ظالموں سے ہوگا۔‘‘

ستر اور پردہ

بیٹی کو بچپن سے پردہ کی ترغیب دیں تاکہ وہ بڑی ہو کر اس کی پابندی کر نے لگے اور چھوٹے کپڑے (ٹیڈی لباس) کبھی نہ پہنے‘ نہ پتلون اور شرٹ کیونکہ یہ انوکھا سا لباس ہے اور مردوں اور کفار سے مشابہت رکھتا ہے اور یہ کپڑوں کا فتنہ ہے اوردوسروں کو راغب کر نے کا سبب ہے اور ہم پر فرض ہے کہ ہم اسے سات سال کی عمر میں سر پر رومال (سکارف) رکھنے کا حکم کریں اور بالغ ہونے پر اپنا چہرہ ڈھانپنے کی تلقین کریں اور باقی بدن پر سیاہ برقعہ پہنے تاکہ اس کی شرافت محفوظ ہو سکے۔ اور قرآن کریم تمام مومن عورتوں کو پردے کی تلقین کرتے ہوئے فرماتا ہے :

{یٰٓـــــاَیُّھَا النَّبْیُّ قُلْ لِاَزْوَاجْکَ وَبَنَاتِکَ وَنِسَآئَ الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْھْنَّ مِنْ جَلاَبْیْبْھْنَّ ذٰلِکَ اَدْنٰی اَنْ یُّعْرَفْنَ فَلاَ یُؤْذَیْنَ} [الاحزاب:۵۹

’اے نبی اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور اہل ایمان کی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے اوپر چادروں کے پلو لٹکا لیا کریں۔ یہ زیادہ مناسب طریقہ ہے تاکہ وہ پہچان لی جائیں اور ستائی نہ جائیں۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ مومن عورتوں کو زینت ظاہر کرنے اور سفر کرنے سے بھی منع فرماتا ہے:

{وَقَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ وَلاَ تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاھِلِیَّۃِ الْاُوْلٰی} [الاحزاب:۳۳]

’’اور اپنے گھروں میں ٹک کر رہو اور سابق دور جاہلیت کی سی سج دھج نہ دکھاتی پھرو۔

مخصوص لباس

بچوں کو وصیت کرنی چاہیے کہ وہ اپنا اپنا مخصوص لباس استعمال کریں تاکہ دوسری جنس سے ممتاز ہوسکیں۔ اور غیر ملکی لباس سے احتراز کریں جیسا کہ تنگ پتلون اور اس جیسی دوسری نقصان دہ عادتیں چنانچہ حدیث صحیح میں ہے:

((لَعَنَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ و سلم الْمتْشَبھِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ بِالنِّسَآئِ وَالْمُتَشَبِّھَاتِ مِنَ النِّسَائِ بِالرِّجَالِ وَلَعَنَ الْمُخنِّثِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالْمُتَرَجَّلَاتِ مِنَ النِّسَائِ)) [رواہ البخاری]

’’نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے مردوں میں سے عورتوں کے ساتھ مشابہت کرنے والوں پر اور عورتوں میں سے مردوں کے ساتھ مشابہت کرنے والیوں پر لعنت کی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے مردوں میں سے عورتیں بننے والوں اور عورتوں میں سے مرد بننے والیوں پر بھی لعنت کی ہے۔‘‘

اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:

((مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَھُوَ مِنْھُمْ)) [صحیح رواہ ابو داؤد]

’’جس نے کسی قوم کے ساتھ مشابہت اختیار کی وہ ان میں ہی شمار ہوگا۔‘‘

اخلاق و آداب

اپنی اولاد کو لینے دینے ‘ کھانے‘ پینے ‘ لکھنے اور خدمت کرتے وقت دایاں ہاتھ استعمال کر نے کا عادی بنائیں اور ہر کام سے پہلے ’’بسم اللّٰہ‘‘ پڑھنے کی وصیت کریں خصوصاً کھا نے اور پینے کے وقت نیز بیٹھ کر کھائیں اور پئیں اور بعد میں ’’الحمد للّٰہ‘‘ کہنے کی عادت اپنائیں۔

! اولاد کو صفائی کا خوگر بنائیں کہ وہ اپنا ناخن تراشے اور کھانا کھانے سے پہلے اور بعد میں اپنے ہاتھ دھوئے۔ استنجاء کی تعلیم دیں اور پیشاب کرنے کے بعد ٹشو پیپر استعمال کریں یا پانی سے دھولیں تاکہ ان کی نماز صحیح ادا ہو اور ان کا لباس پلید نہ ہو۔

” ہم خفیہ…اور نرم لہجے میں ان کو سمجھائیں اور اگر وہ کچھ غلطی کر بیٹھیں تو انہیں رسوا نہ کریں اگر و سرکشی پر اڑرے رہیں تو ان سے زیادہ سے زیادہ تین دن تک کلام ترک کردیں۔

# بچوں کو اذان کے وقت خاموش رہنے کا حکم دیں اور جو کلمات موذن کہتا ہے جوابا وہ بھی کہیں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم پر درود پڑھیں اور پھروسیلہ کی دعا پڑھیں۔ دعا یہ ہے

اَللّٰھُمَّ رَبِّ ھٰذِہِ الدَّعْوَۃِ التَّامَۃِ وَالصَّلٰوۃِ الْقَائِمَۃِ اٰتِ مُحَّمٍدِ نِ الْوَسِیْلَۃِ وَالْفَضِیْلَۃِ وَابْعَثْہُ مَقَامًا مَحْمُوْدَ نِ الَّذِیْ وَعَدْتَہٗ))

[رواہ البخاری]

’’اے اللہ! اس مکمل دعوت اور قائم رہنے والی نماز کے پروردگار۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو مقام وسیلہ اور فضیلت سے سرفراز فرما اور (شفاعت کے) مقام محمود پر جس کا آپ نے ان سے وعدہ کیا ہے۔‘‘

$ جب بچے بڑے ہو جائیں (دس سال کے) تو ہر بچے کا مستقبل الگ بستر بنائیں اگر یہ نہ کرسکیں تو ہر ایک بچے کا لحاف ضرور الگ ہو اور بہتر یہ ہے کہ بچیوں کا کمرہ جدا ہو او ربچوں کا کمرہ الگ ہو اور یہ سب کچھ بچوں کے اخلاق اور صحت کے پیش نظر لازم کیا گیا ہے۔

% بچوں کو اس بات کا عادی بنائیں کے رستے میں کوڑا کرکٹ نہ پھینکیں بلکہ جوکچھ تکلیف دہ چیز راستے میں موجود ہو اسے اٹھا کر ادھر ادھر پھینک دیں۔

& بچوںکو برے دوستوں سے بچائیں اور را ستوں میں بیٹھنے سے ان کی نگرانی کریں۔

‘ گھر‘راستہ اور جماعت میں بچوں کو درج ذیل الفاظ سے ہدیہ تسلیم پیش کریں۔

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

( ہمسایوں سے حسن سلوک کرنے اوران کو تکلیف نہ دینے کا بچوں کو عادی بنائیں

) بچوں کو اس بات کا عادی بنائیں کہ مہمان کی عزت و تکریم کریں اور ضیافت کا سامان ان کو پیش کریں۔

انبیاء علیھم السلام کی محبت پیدا کیجئے

انبیاء و رسل علیھم السلام کی محبت اللہ عزوجل کے قرب کا عظیم ترین ذریعہ ہے۔ باپ کو چاہیے کہ بچوں کے دلوں میں انبیاء کی محبت جمادے اور انبیاء علیھم السلام کے کمالات‘ فضائل اور مراتب کو بیان کرے اس سے بچوں کے قلوب ان کی محبت سے سر شار ہوں گے۔

بچہ کے دل میں حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی محبت پیدا کیجئے

جس کو اللہ تعالیٰ محبت نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی دولت سے سرفراز فرما دیں اس سے بڑھ کر نیک بخت کون ہوسکتا ہے؟ اس لئے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی محبت شرط ایمان ہے۔ چنانچہ امام بخاری رحمہ اللہ نے حضرت ابوہریرہtسے یہ روایت نقل کی ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے ہیں:

((فَوَ الَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لاَ یُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی اَکُوْنَ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِنْ وَّالِدِہٖ وَوَلِدِہٖ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْن)) (بخاری ج۱ ص۵۸)

’’قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے تم میں سے ہر کوئی اس وقت تک کامل مؤمن نہیں بن سکتا جب تک میں اس کے والد اور والدہ اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ بن جاؤں۔‘‘

والدین پر یہ لازم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ محبت کے میدان میںصلی اللہ علیہ و سلم شہید کر دئیے گئے ہی

حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے مسکراتے ہوئے فرمایا اگر واقعی ایسا ہو جاتا تو تم کیا کرتے؟ حضرت زبیرtنے بے ساختہ عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم خدا کی قسم میں اہل مکہ سے لڑ مرتا۔

ایک بچے کے لئے ضروری ہے کہ وہ جانے کہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم افضل الرسل ہیں اور اللہ تعالیٰ کے محبوب ترین انسان ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی شرعت کامل ترین شریعت ہے‘ نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ذریعے لوگوں کو اندھیروں سے روشنی کی طرف نکالا۔

آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی بعثت تمام جہانوں کے لئے باعث رحمت اور ساری انسانیت پر اللہ تعالیٰ کااحسان تھی‘ اسی لئے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی محبت‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی اطاعت اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ ادب و آداب کا معاملہ ان اہم ترین امور میں سے ہے جن کا مربی کو خصوصیت کے ساتھ اہتمام کرنا چاہیے اور اس کا فریضہ ہے کہ وہ ان امور کو بچے کے نفس میں پیوست کر دے۔

بچے کے دل میں اللہ کے خوف کا احساس پیداکیجئے

قرآن کریم اور اسلامی تعلیمات تربیت اولاد کے معاملے میں مراقبہ خداوندی اور خوف خداوندی کی جانب بہت زیادہ اہمیت دیتی ہیں اور اس پر بہت زور دیتی ہیں تاکہ وہ بچہ اپنی دنیا و آخرت اور خاندان و معاشرے کا نفع بخش فرد بن سکے۔

قرآن حکیم کی بہت سی آیات کریمہ میں ایسے ہی معانی و مطالب کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ:

{وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ وَنَعْلَمُ مَاتُوَسْوْسُ بْہٖ نَفْسُہٗ وَنَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْہِ مِنْ حَبْلْ الْوَرْیْدِ} (ق:۱۶)

’’ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے اور اس کے دل میں جو خیالات آتے ہیں ہم ان کو جانتے ہیں اور ہم رگ گردن سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں۔‘‘

لہٰذا بچوں کو اس کی تعلیم دی جائے کہ دل میں جو خطرات و خیالات گزرتے ہیں ان کو بھی اللہ تعالیٰ جانتا ہے‘ اللہ کا علم انہیں بھی اپنے احاطے میں لئے ہوئے ہے۔ پروردگار عالم فرماتے ہیں:

{وَھُوَ مَعَکُمْ اَیْنَ مَاکُنْتُمْ وَاللّٰہُ بْمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ} (الحدید:۴)

’’جہاں کہیں بھی تم ہو اللہ تمہارے ساتھ ہے اور اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال دیکھ رہا ہے۔‘‘

مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے وسیع علم کی وجہ سے انسان کے ساتھ وہ چاہے کہیں پر بھی ہو‘ ہر شے اس کے احاطہ علم میں ہے۔

احادیث نبوی صلی اللہ علیہ و سلم سے بھی طفل کی تربیت کے لئے ایسے بہت سے خوبصورت طرزوں کا علم ہوتا ہے جن سے تعلق مع اللہ کی بہترین صورتیں سامنے آتی ہیں اور جس سے وہ طفل طفر سنی ہی کی حالت میں بہترین اور پسندیدہ فرد بن جاتا ہے۔

اس کی مثالیں بہت زیادہ ہیں حضرت علی بن ابی طالبtصرف دس سال کی عمر میں اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور مسلمان ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی صحیح معرفت حاصل کی اور باطل کو پھینک دیا اور دنیا کے بلند ترین انسان بنے۔

کامیاب والدین وہی ہیں جو ہر وقت اور ہر حال میں بچوں کی تربیت میں مسلسل لگے

رہتے ہیں اور ان میں خدا تعالیٰ کے خوف کا احساس پیدا کرتے رہتے ہیں اور ان میں خدا تعالیٰ کے خوف کا احساس پیدا کرتے ہیں اور اللہ کے سامنے (ایک دن) جوابدہی اور تمام ذمے داریوں کا احساس بیدا ر کرتے رہتے ہیں۔

باپ بچوں کے ساتھ تذکیر و تفہیم کا اسلوب اختیار کرے‘بچوں کو ہمیشہ یاددلاتا رہے کہ خدا تعالیٰ اس کی نگرانی کر رہے ہیں اور اس کے تمام اقوال و افعال سے واقف ہیں۔ اس کے لئے متنوع صورتیں اختیار کی جاسکتی ہیں‘ مثلاً بچہ سچ بولے تو اس کی حوصلہ افزائی کرے اور اس پر جو اجر و ثواب حاصل ہوتا ہے اس کی ترغیب دے‘ جب بچے کو کمرے وغیرہ میں اکیلا چھوڑے یا افراد خانہ سے دور کسی جگہ میں تنہا چھوڑے تو اسے یاد دلائے کہ اللہ تعالیٰ اس کی نگرانی کر رہے ہیں مثلاً یوں کہے کہ مجھے پتہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں تمام حالات میں دیکھتا ہے؟ وہ یقینا بالطبع جواب دے گا کہ ہاں ضرور دیکھتا ہے تو اس موقع پر باپ اسے نصیحت کرے کہ جب وہ ہر وقت اور ہرحال میں دیکھتا ہے تو تجھے کوئی ایسا کام جس سے وہ (اللہ تعالیٰ) ناراض ہوتے ہوں نہیں کرنا چاہیے۔

ترغیب و ترہیب کے سلسلے میں باپ چاہے تو وہ آیات قرآنیہ جن میں جنت کا وصف یا جہنم کاذکر ہے بیان کر دے ‘ کیونکہ قرآنی آیات میں ان کے لئے عبرتوں اور نصیحتوں کے سامان وافر موجود ہیں۔

بچے کو بتایا جائے کہ اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں فرماتا ہے:

{اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُکِرَ اللّٰہُ وَجْلَتْ وَقُلُوْبُھُمْ وَاِذَا تُلِیْتُ عَلَیْھْمْ اٰیٰتُہٗ زَادَتْھُمْ اِیْمَانًا وَعَلٰی رَبّْھِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ} (الانفال:۲)

’’بس ایمان والے تو ایسے ہوتے ہیں کہ جب (ان کے سامنے ) اللہ تعالیٰ کا ذکر آتا ہے تو ان کے قلوب ڈر جاتے ہیں اور جب اللہ کی آیتیں ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وہ آیتیں ان کے ایمان کو اور زیادہ (مضبوط) کر دیتی ہیں اور وہ لوگ انپے رب پر توکل کرتے ہیں۔‘‘

بچوںکو صدقے کی عادت کی ترغیب دیں

گھر والوں کو بچے کے متعلق مندرجہ ذیل چیزوں کا خیال رکھنا چاہیے:

بچے کو مال جمع کرنے‘ خزانہ اکٹھا کرنے اور اس سے محبت کی تربیت نہ دی جائے۔ البتہ مال میں سے حقو ق اللہ ادا کرنے کے بعد پیسوں کو محفوظ کرنے اور جمع کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ وہ اپنی رقم سے کچھ خرچ کرے اور کچھ صدقہ بھی کرے اس بارے میں اس کی حوصلہ افزائی کی جائے۔

بچوں کو غریبوں سے میل جول رکھنے کی تعلیم دیجئے

اسی طرح بچوں میں بچپن سے یہ بات پیدا کیجئے کہ ان کو مسلمانوں سے اجنبیت (دوری) نہ ہو۔ ان کو غریبوں سے میل جول رکھنے کی تعلیم دیجئے۔ ان سے ملنے میں دنیاوی عزت بھی ہے۔ ان سے ملو گے تو وہ قدر کریں گے اور امیروں کے ساتھ اختلاط میں کچھ عزت نہیں ہوتی۔ کیونکہ امراء تو خود ہی اینٹھ مروڑ (یعنی تکبر) میں رہتے ہیں۔ ان کی نظر میں کسی کی وقعت نہیں ہوتی‘ پس یہ مادہ بچپن ہی سے پیدا کریں کہ غریبوں سے نفرت نہ ہو (ان کی حقارت دل میں نہ ہو) یہ باتیں بچپن سے پیدا

بچے کی یہ عادت پختہ کی جائے کہ وہ اپنے والدین کی قدر کرے اور والد یا والدہ کو ان کے ناموں سے نہ بلائے بلکہ ابو اور امی کہہ کر پکارے‘ کیونکہ والدین کو ان کے ناموں سے پکارنے میں بے ادبی کا پہلو نمایاں ہوتا ہے۔ قرآن مجید کے مطالعے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے والد کو ان کا نام لیکر نہیں پکارا بلکہ میرے ابو کہہ کر مخاطب ہوئے۔

{وَاذْکُرْ فِی الْکِتٰبْ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّہٗ کَانَ صَدِیْقاً نَبْیًّا‘اِذْ قَالَ لِاِبْیْہِ یٰاَبَتِ لَمْ تَعْبُدُ مَالاَ یَسْمَعُ وَلاَ یُبْصِرُ وَلاَ یُغْنِی عَنْکَ شَیْئًا} (مریم:۴۱‘۴۲)

’’اور کتاب میں ابراہیم کو یاد کرو! بیشک وہ نہایت سچے پیغمبر تھے جب انہوں نے اپنے باپ سے کہا کہ اے ابا جان ! آپ ایسی چیزوں کو کیوں پوجتے ہیں جو نہ سنیں اور نہ دیکھیں اور نہ آپ کے کچھ کام آسکیں۔‘‘

ہمیں اسلام کے تمام آداب قرآن مجید سے سیکھنے چاہیں جن کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے آپ پر عملاً نافذ کرکے دکھایا۔ جب حضرت عاشہrسے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے اخلاق فاضلہ کے بارے میں دریافت کیا گیا تو حضرت عائشہr نے کہا:

((کَانَ خُلُقُہُ الْقُرْآن))

’’آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا خلق قرآن ہے‘‘

بچوں کو قناعت کی تعلیم دیں

قناعت بہت پیاری دولت ہے کہ جس سے انسان کی زندگی میں ٹھہراؤ اور سکون آتا ہے ایک ماں کو چاہیے کہ وہ خود اس صفت سے متصف ہو اور اپنے بچے کے اندر بھی یہ جذبہ پیدا کرے کہ اس سے رزق حرام کا دروازہ بند ہو جائے گااور بچے خود سادہ طرز زندگی کے عادی ہو جائیں گے۔

لیکن افسوس! عورت قناعت پسندی چھوڑ کر فیشن کی دوڑ میں ایسی بھاگ رہی ہے کہ اس نے شوہر کو کمائی پر لگا دیا ہے‘ بچوں کو دنیا کے لوازمات کا عادی بنادیا اور خود بچوں کی تربیت سے غافل ہو کر محض اپنی تفریح کو زندگی کا اصل مقصد بنا لیا ہے۔

بچوں کو ڈبوں کا دودھ پلانا‘ خود سیرو تفریح کرنا اور جدید تراش و خراش کے لباس سے خود کو مزین کر کے اپنے آپ کو اسمارٹ کہلوانے کے اس شوق نے اس کی اولاد کے سامنے اس کی شخصیت مسخ کر دی ہے اور یہی اثر بچے پر بھی پڑ رہا ہے کیونکہ بچہ اپنے ارد گرد سے خصواً اپنی ماں کو دیکھ کر بہت کچھ سیکھتا ہے۔

اس زیادہ سے زیادہ دولت حاصل کرنے کی دھن اور غلط معیار زندگی نے سب کو بے سکون کر دیا ہے اس صورتحال میں قناعت ہی وہ صفت ہے جو اس افراتفرق کو ختم کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔

اگر دنیا کا مال و دولت سمیٹنے کی بجائے نیکیاں سمیٹنے میں حریص ہو جائے تو آخرت میں بے شمار انعامات کے حقدار ٹھہر جائیں نیز چونکہ عورتیں ہی مال و دولت کی حریص ہونے کی وجہ سے اپنے شوہروں کو حرام کی طرف رخ کر نے پر مجبور کرتی ہیں اور ان کو دیکھ کر بچے بھی اپنے ماں باپ سے نت نئی فرمائشیں کرتے رہتے ہیں اور یوں وہ نادان باپ بھی ان کی یہ ناجائز خواہشات پوری کر نے کے لئے حرام لا کر بچوں کو کھلاتا ہے اور اپنے لئے اور اپنے گھر والوں کے لئے دوزخ کی آگ کاسامان کرتا ہے۔

بہادری کی تربیت

والدین کا فرض ہے کہ وہ اپنی اولاد کی تربیت اس طرح کریں کہ ان کے تمام امور میں بہادری اور شجاعت کی جھلک نمایاں ہو۔ یہ تربیت پہلے ماہ سے لے کر سن تمیز تک اور اس کے بعد تک ہوگی۔ لیکن میرا خیال ہے کہ کوئی بھی گھرانہ ایسا نہیں جو اس طرف توجہ دیتا ہو بلکہ جب بچہ رونے لگتا ہے تو ماں اسے خاموش کرانے کے لئے تمام وسائل استعمال کرتی ہے خواہ اسے کسی چیز سے ڈرانا پڑے بلکہ بعض اوقات ڈرانے کا عمل دیگر تمام وسائل پر غالب آجاتا ہے اور ماں سمجھتی ہے کہ وہ اچھا کر رہی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ بچہ اس قسم کی تربیت پر پروان چڑھے گا تو وہ کمزور ڈر پوک اور بزدل ہوگا وہ ہر چیز سے خوف محسوس کرے گا حتیٰ کہ اپنے سائے سے بھی ڈر جائے گا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ہمیں ابتداء ہی سے بچوں میں جرأت اور بہادری کی صفت پیدا کرنے کی تاکید فرمائی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ہمیں بچوں کو جسمانی مشق کرانے اور ان کے جسم طاقتور بنانے کی تعلیم دی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے:

((اَلْمُؤْمِنُ الْقَوِیُّ خَیْرٌ وَاَحَبُّ اِلَی اللّٰہِ مِنَ الْمُؤْمِنِ الضَّعِیْفِ))

’’اللہ تعالیٰ کے نزدیک طاقتور مؤمن کمزور مؤمن کی نسبت زیادہ بہتر اور پسندیدہ ہے۔‘‘

اس مقصد کے لئے عرب خاندان اسلام سے قبل اپنے بچوں کو دوسرے قبیلوں سے دوا پلواتے تھے اور سمجھتے تھے کہ بچہ جوان ہو کر طاقتور اور بہادر بنے گا اور کسی چیز سے خوف محسوس نہیں کرے گا۔ عربوں کے اس فعل کی تصدیق اس سے بھی ہوتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو بھی اپنے گھر والوں کی اور قبیلہ بنو سعد کے دیہات میں دودھ پلوایا گیا تھا تاکہ آپ بہادر اورطاقتور بنیں۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم بچپن میں بہت زیادہ جری و بہادر تھے۔ چنانچہ سیرت کی کتابوں میں لکھا ہے کہ بچپن میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو لات و عزیٰ نامی بتوں کی قسم دلائی گئی تو آپ نے قسم دلانے والے سے فرمایا: مجھ سے ان دونوں کے نام کے ذریعے کسی چیز کا مطالبہ نہ کرو۔ اس لئے کہ جتنا بغض مجھے ان دونوں سے ہے اتنا بغض اور کسی چیز سے نہیں۔

بالغ ہونے سے قبل ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم جنگ میں شریک ہوچکے تھے چنانچہ سیرت کی کتابوں میں لکھا ہے کہ فجار نامی جنگ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم اپنے چچاؤں کو تیر دے رہے تھے۔

والد کا خوف

ماں کا فرض ہے کہ وہ بچے کو والد کا رعب دلائے تاکہ اگر بچہ غلطی کرے تو اس کے دل میں باپ کی ہیبت ہو والد کو چاہیے کہ وہ بچے کو ڈرانے کے لئے دیوار پر کوڑا لٹکائے رکھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے’’دیوار پر کوڑا لٹکا دیا کر و اور انہیں اللہ کی یاد دلایا کرو۔‘‘

لیکن کوڑا صرف خوف دلانے کے لئے ہونا چاہیے ماں پر لازم ہے کہ جب بچہ نافرمانی کرے تو اپنی بے بسی اور نرمی کا اظہار نہ کرے کیونکہ یہ چیز بچے کو بگاڑتی ہے۔

بچے کو اسلامی معلومات والا لٹریچر فراہم کیجئے

فحش فلم بینی‘ ریڈیو‘ ٹی وی کے محرب اخلاق پروگراموں سے بچے کو دور رکھنا چاہئے اسی طرح فحش لٹریچر کے بجائے اصلاحی و تعمیری مگر دلچسپ مطالعے کا عادی بنایا جائے اور سیرت و تاریخ کی کتابیں مطالعے کے لئے فراہم کی جائیں۔

گھر کے ایک حصے یا ایک الماری کو بچے کے لئے مخصوص کر دیا جائے جس پر صرف اس کو تصرف کا حق حاصل ہوتا کہ وہ اپنی پسندیدہ اشیاء کو سلیقے و ترتیب سے رکھ سکے اور اس طرح اسے سلیقہ مندی کی تربیت حاصل ہو سکے۔

بچوں کے وعدوں کو پورا کرنا

جب بھی والدین یا بچوں کی تربیت کرنیوالے لوگ بچوں کی حوصلہ افزائی کے لئے ان سے کوئی وعدہ کرتے ہیں تو بچے کو توقع ہوتی ہے کہ وہ اپنے وعدہ پر عمل کریں گے اس صورت میں اگر والدین اپنے وعدے پر عمل نہ کریں تو پھر والدین سے بچے کا اعتماد اٹھ جاتا ہے اور پھر وہ ان پر کوئی توجہ نہیں کرتا۔

بچوں سے کوئی وعدہ کرو تو اسے ضرور پورا کرو کیونکہ بچہ تمہیں اپنا رہنما تصور کرتا ہے۔

بچوں کو بزرگوں کے قصے سناتے رہا کیجئے

بچے قصے کہانیوں میں بہت دلچسپی لیتے ہیں انہیں نصیحت آموز کہانیاں سنائیے ‘ نبیوں اور بزرگوں کے قصے سنائیے۔ خصوصاً رات کو گھر کے بچوں کو جمع کر لیجئے اور انہیں تفریح کے طور پر پاکیزہ اور اچھے قصے سنائیے سناتے وقت بچوں سے سوال بھی کرتے رہیے تاکہ وہ غور سے سنتے رہیں اور آپ کا مقصد بھی پورا ہو۔

اچھے کام پر تعریف کریں

ماں کی تھوڑی سی توجہ بچے کو ایک کامیاب انسان بنا دے گی۔ ماں کی عدم توجہی اس کی معاشرے میں اس ٹھوکروں کا سبب بھی بن سکتی ہے ‘ بچوں کی فطرت ہوتی ہے کہ جب اچھے کام پر ان کی تعریف ہوتی ہے تو ان کے اندر مزید کام کرنے کا حوصلہ پیداہوتا ہے اوران کی صلاحیتوں کو جلا ملتی ہے۔ نیز اگر وہ کوئی نیکی کرے اور اس پر اس کی تعریف ہو تو اس میں مزید نیکی کرنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ لہٰذا جب بچہ کوئی اچھا کام کرے یا خوش اخلاق بنے یا نماز کی پابندی کرے۔ قرآن کی تلاوت کا اہتمام کرے یا کوئی دینی کام کرے توبچے کی تعریف کریں اس کو شاباش دیں بلکہ کوئی چھوٹا ساتحفہ بھی اس کو دیں تاکہ اس کی ہمت افزائی ہو اور دوبارہ ایسا ام کرنے کا حوصلہ پیدا ہو

Spread the love

Leave a Comment

%d bloggers like this: