تربیت اولاد | Aulad ke Huqooq (Complete Lecture) | Tarbiyat E Aulad (تربیت اولاد) |Quran Aur Hadees Ne Aulad Ki Tarbiyat Aur Parvarish Ka Hukm

 تربیت اولاد

تربیت اولاد | Aulad ke Huqooq (Complete Lecture) | Tarbiyat E Aulad (تربیت اولاد) |Quran Aur Hadees Ne Aulad Ki Tarbiyat Aur Parvarish Ka Hukm

Aulad Ke Huqooq (Complete Lecture)

نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّی عَلٰی سَیّْدِنَا وَرَسُوْلِنَا الْکَرْیْم اَمَّابَعْدُ فَاَعُوْذُ بْاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجْیْمِ بْسْمْ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمْ

{وَأْمُرْ اَھْلَکَ بْالصَّلاَۃِ وَاصْطَبْرْ عَلَیْھَا}

’’اور اپنے گھروالوں کو نماز کا حکم کیجئے اور آپ بھی اس پر قائم رہیں۔‘‘

{یٰااَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْا اَنْفُسَکُمْ وَاَھْلِیْکُمْ نَارًا}

’’اے ایمان والو بچئاو اپنے اپٓ کو اور اپنے گھر والوں کو آگ سے۔‘‘

{یُوْصِیْکُمُ اللّٰہَ فِیْ اَوْلاَدِکُمْ}

’’اللہ وصیت کرتا ہے تم کو تمہاری اولاد کے بارے میں۔‘‘

{وَلاَ تَقْتُلُوا اَوْلاَدَکُمْ خَشْیَۃَ اِمْلاَقٍ}

’’اور اپنی اولاد کو افلاس کے ڈر سے قتل نہ کرو مرد اپنے گھر کا رکھوالا ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں باز پرس ہوگی او عورت اپنے شوہر کے گھر کی رکھوالی ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہوگا۔‘‘

{لِاَنْ یُوَّدِبَ الرَّجُلُ وَلَدَہٗ خَیْرٌ مِنْ اَنْ یَتَصَدَّقَ بْصَاعٍ}

’’انسان کا اپنے بیٹے کو ادب سکھانا یہ ایک صاع صدقہ کر نے سے بہتر ہے۔‘‘

{مَانْحَلَ وَالِدٌ وَلدًا افضلَ من اَدبٍ حَسنٍ}

’’کسی باپ نے اپنے بیٹے کو اچھے ادب سے بہتر عطیہ اور ہدیہ نہیں دیا۔‘‘

{عَلِّمُوا اَوْلادَکُمْ وَاَھْلِیْکُمُ الْخَیْرَ وَاَدِبُّوھم}

’’اپنی اولاد اور گھر والوں کو خیر سکھاؤاور انہیں با ادب بناؤ۔‘‘

Tarbiyat E Aulad (تربیت اولاد)

گرامی قدر حاضرین! اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے شمار نعمتیں عطا فرمائی ہیں اگر ہم اس کی نعمتیں شمار کرنا چاہیں تو شمار بھی نہیں کر سکتے یہ زندگی اس کی نعمت ہے۔ سورج چاند اور ستارے اس کی نعمت ہیں۔ نباتات اور جمادات اس کی نعمت ہیں پھل اور پھول اس کی نعت ہیں گرمی اور سردی اس کی نعمت ہیں ہاتھ پاؤں اور تمام اعضاء اس کی نعمت ہیں گویا ئی اور شنوائی کی صلاحیت اس کی نعمت ہے ایمان اس کی نعمت ہے قرآن اس کی نعمت ہے کعبہ اس کی نعمت ہے حضور صلی اللہ علیہ و سلم اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا روضہ اس کی نعمت ہے غرضیکہ ہم پر اس کے احسانات اور اس کی نعمتیں بے شمار ہیں 

اس کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت اولاد بھی ہے اولاد کو نور چشم بھی کہتے ہیں‘ لخت جگر بھی کہتے ہیں‘ رونق خانہ بھی کہا جاتا ہے‘ بڑھاپے کی لاٹھی کا نام بھی دیا جاتا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اولاد اگر واقعی اولاد ہو تو وہ آنکھوں کا نور بھی ہوتی ہے‘ دل کا سرور بھی ہوتی ہے‘ جگر کا ٹکڑا بھی ہوتی ہے‘ اس کے وجود سے گھر کی ویرانیاں ختم ہوجاتی ہیں اس کی جوانی والدین کے بڑھاپے کی لاٹھی ہوتی ہے۔

Quran Aur Hadees Ne Aulad Ki Tarbiyat Aur Parvarish Ka Hukm

اولاد وہ نعمت ہے جس کی خواہش ہر شادی شدہ جوڑے کو ہوتی ہے اولاد کی قدر ان سے پوچھئے جو اس سے محروم ہیں لاولد حضرات کی بے بسی اور بے کسی دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے اگر شادی کے بعد چند سال تک بچہ پیدا نہ ہو تو وہ باؤلے سے ہو جاتے ہیں وہ بچے کے لئے ہر جتن کرتے ہیں خود دعائیں کرتے ہیں دوسروں سے دعائیں کراتے ہیں نذر یں مانتے ہیں تعویذات کراتے ہیں ہمارے ہاں مشہور ضرب المثل ہے ’’مرتاکیا نہ کرتا‘‘ تو بے اولاد حضرات بھی اس ضرب المثل کے مطابق سب کچھ کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں اور اگر یہ جاہل پیروں اور تعویذ فروشوں کے ہتھے چڑھ جائیں تو وہ ان کی جیب بھی خالی کر دیتے ہیں اور بعض اوقات تو ایمان سے بھی خالی کر دیتے ہیں۔

قرآن حکیم میں بچوں کو اس عالم رنگ و بو کا حسن اور خوبصورتی قرار دیا گیا ہے۔ فرمایا

{اَلْمَالُ وَالْبَنُوْنَ زْیْنَۃُ الْحَیَاۃُ الدُّنْیَا} [سورۃ کہف]

’’مال اور بیٹے دنیا کی زندگی میں رونق ہیں‘‘

{رَبَّنَا ھَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجْنَا وَزُرّْیٰتِنَا قُرَّۃَ اَعْیُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا}

[سورہ فرقان]

’’اے ہمارے رب ہم کو ہماری عورتوں اور اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک دے اور ہم کو پرہیز گاروں کا پیشوا بن ادے۔‘‘

یہ اولاد جو کہ آنکھوں کی ٹھنڈک ہوتی ہے جس سے دل کو سکون حاصل ہوتے ہے جس پر انسان فخر کرتا ہے جس کی خواہشات اور ضروریات پوری کر نے کے لئے وہ اپنا خون پسینہ بہاتا ہے بعض اوقات رحمت کے بجائے زحمت بن جاتی ہے والدین کی شاہراہ حیات پر پھولوں کے بجائے کانٹے بکھیر دیتی ہے میاں بیوی رو رو کر اولاد کے لئے دعا کرتے ہیں اور خاص طور پر بیٹوں کے لئے تو بہت زیادہ دعائیں کی جاتی ہیں اور طرح طرح کے جتن کئے جاتے ہیں حالانکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی مرضی ہے وہ جسے چاہے بیٹا دے اور جسے چاہے بیٹی دے کوئی اس پر جبر نہیں کر سکتا۔

{یَھَبُ لَمِنْ یَّشَآئُ اِنَاثًا وَیَھَبُ لِمَنْ یَّشَآئُ الذُّکُوْرَ اَوْ یُزَوّْجُھُمْ ذُکْرَانًا وَاِنَاثًا وَیَجْعَلُ مِنْ یَّشَآء عَقِیْمًا} [سورہ شوری]

’’بخشتا ہے جس کو چاہے بیٹیاں اور بخشتا ہے جس کو چاہے بیٹے یا ان کو جوڑے دے دیتا ہے بیٹے اور بیٹیاں اور جس کو چاہتا ہے بانجھ کر دیتا ہے‘‘

اولاد دینا یا نہ دینا بیٹے دینا یا بیٹیاں دینا یہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے اور اللہ تعالیٰ کے ہر کام میں کوئی نہ کوئی حکمت ہوتی ہے‘ وہ بانجھ رکھتا ہے تو اس میں بھی کوئی حکمت ہوگی‘ وہ بیٹیاں دیتا ہے تو اس میں بھی کوئی حکمت ہوگی‘ وہ بیٹے دیتا ہے تو اس میں بھی کوئی حکمت ہوگی‘ وہ بیٹے اور بیٹیاں دونوں دیتا ہے تو اس میں بھی کوئی حکمت ہوگی‘ اس لئے اس آیت کے آخر میں فرمایا۔

اِنَّہٗ عَلِیْمٌ قَدِیْرٌبے شک وہی جانتا ہے اور قدرت بھی رکھتا ہے وہ خوب جانتا ہے کہ کسے بیٹا دینا ہے اور کسے بیٹی دینی ہے اور کسے بانجھ رکھنا ہے۔


کم علم انسان

انسان کو چونکہ بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے اس لئے جب وہ اللہ تعالیٰ کے کاموں کی حکمت نہیں سمجھتا تو شکوے کرنے لگتا ہے اعتراض کرنے لگتا ہے بغاوت پر اترآتا ہے حالانکہ بیچارے کم علم انسان کو کیا معلوم کہ اس کے حق میں بیٹی بہتر ہے یا بیٹا؟ ممکن ہے کہ جس بیٹے کے لئے وہ اتنے اصرار اور تسلسل کے ساتھ دعائیں کر رہا ہے وہ اس کے لئے حضرت نوح علیہ السلام کا کنعان بن جائے جس بیٹے کے بارے میں وہ آس لگائے بیٹھا ہے کہ وہ میرے بڑھاپے کا سہارا بنے گا ہوسکتا ہے کہ وہ بڑا ہو کر اپنے باپ کے دوسرے سہارے بھی چھین لے۔ ایک گنوار کا مشہورواقعہ ہے کہ اس نے اپنے ہاں کے سرداروں کو بڑی ٹھاٹھ باٹھ کے ساتھ گھوڑوں پر سوار دیکھا تو اسے بھی گھڑ سواری کا شوق ہوا بیچارا غریب آدمی تھا اتنی سکت تو نہیں تھی کہ گھوڑا خرید سکتا چنانچہ دن رات اللہ سے دعائیں کرنے لگا کہ اللہ میاں ایک گھوڑا دے دے بس اور کچھ نہیں مانگتا ایک عدد گھوڑا عنایت فرمادے ہر وقت چلتے پھرتے اٹھتے بیٹھے یہی دعا کرتا رہتا کہ اللہ میاں گھوڑا دے دے اتفاق سے ایک دن وہ کسی کام سے جنگل میں گیا رات کا وقت تھا وہاں سے شہر کے کوتوال کا گزر ہوا اس کی گھوڑی نے جو کہ گابھن تھی وہیں جنگل میں بچے کو جنم دے دیا گھوڑی کے بچے کے لئے چلنا پھرنا مشکل ہو رہا تھا۔

کوتوال نے ادھر ادھر نگاہ دوڑائی تو اسے یہ گنوار نظر آگیا جو کہ حسب معمول گھوڑا دے دے گھوڑا دے دے کا ورد کر رہا تھا کوتوال نے ایک چپت رسید کی اور کہا اس بچے کو گردن پر اٹھاؤ اور شہر تک پہنچاؤ مرتا کیا نہ کرتا کوتوال کا حکم ٹالنا ناممکن تھا۔ چارو ناچار گھوڑی کے اس نومولود بچے کو اپنے کندھوں پر اٹھا لیا اور شہر کی طرف چل پڑا‘ چلتا جاتا تھا اور زبان سے اپنی جہالت کی وجہ کہتا جاتا تھا ’’اللہ میاں تو دعا سنتا تو ہے مگر سمجھتا نہیں ہے میں نے گھوڑا مانگا تھا تاکہ اس پر سوار ہوں اور تونے گھوڑا دے دیا تاکہ وہ میرے اوپر سوار ہو جائے

Spread the love

Leave a Comment

%d bloggers like this: