شوال کے چھ روزوں کی فضیلت . r shawal k rozay . Shawwal k 6 Roze ki Fazilat | Shawal k Rozay Rakhne ka .

 ماہ شوال فضائل کے آئینے میں

آیت کریمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی مہینوں کی تعداد بارہ ہے جن میں سے دسواں مہینہ شوال المکرم ہے اور اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ شوال ”شَوْل” سے ماخوذ ہے جس کے معنی ہیں : ”اونٹنی کا دم اٹھانا” چونکہ اس مہینے میں اہل عرب سیرو سیاحت اور شکار وغیرہ کے لیے اپنے گھروں سے باہر چلے جاتے تھے اس لیے اس کو شوال کہتے ہیں ۔

علامہ سخاوی لکھتے ہیں کہ شوال ”شالت البل” سے ماخوذ ہے جس کے معنی ہیں : ”اونٹنیوں کا مستی سے دم اٹھانا” چونکہ اونٹنیاں ان دنوں میں مستی سے نروں کی تلاش میں دم اٹھائے پھرا کرتی تھیں اس مناسبت سے ان ایام کو ماہ شوال سے موسوم کردیا گیا۔(٢)

مگر جب ہم ذخیرئہ حدیث میں جھانکتے ہیں

اور احادیث نبویہۖ میں غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ شوال” شالت الذنوب” سے ماخوذ ہے ارشاد نبویۖ ہے: ”أما سم شوالا لأن فیہ شالت ذنوب المؤمنین، أ ارتفعت” کہ اس مہینے کا نام شوال اس لیے رکھا گیا ہے کہ اس میں مؤمنین کے گناہ اٹھائے جاتے ہیں یعنی معاف کئے جاتے ہیں ۔ (٣)اور یہ معافی کچھ تو رمضان کے روزوں کے عوض ہوتی ہے او رکچھ صدقة الفطر کی بدولت اور کچھ نماز عید الفطر کے صدقے۔

چونکہ اس ماہ کے پہلے دن عید ہوتی ہے اس لیے اس کو عرف عام میں عید کا مہینہ بھی کہتے ہیں ۔ شوال کا مہینہ بڑے فضائل و برکات کا حامل ہے جس کی طرف مذکورہ حدیث نبویۖ بھی اشارہ کرتی شالت ذنوب المؤمنین” یہی اس کی فضیلت کے لیے کافی تھا چہ جائیکہ اور بھی بہت سے فضائل اس میں شامل ہوگئے۔ اس مہینے کا آغاز ہی فضیلت کے ساتھ ہوتا ہے کہ اس ماہ کی پہلی تاریخ کو عید الفطر ہوتی ہے اس لیے اس کو شہر الفطر بھی کہا جاتا ہے جس میں اللہ تعالی اپنے بندوں کو بخشش کا مژدہ سناتا ہے جیساکہ حدیث شریف میں ہے: جب عید کا دن آتا ہے تو اللہ تبارک و تعالی اپنے فرشتوں سے فرماتا ہے کہ اس مزدور کی کیا مزدورں ہے جس نے اپنا کام پورا کیا ہو؟

 فرشتے عرض کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار اس کی جزا یہ ہے کہ اسے پورا اجر دیا جائے

۔ اللہ تعالی فرماتا ہے اے میرے فرشتوں ! میرے بندوں اور باندیوں نے میرے فریضے کو ادا کردیا ہے پھر وہ (عیدگاہ کی طرف) نکلے دعا کے لیے پکارتے ہوئے۔ اور مجھے اپنی عزت و جلال اور اکرام و بلندی اور بلند مرتبے کی قسم میں ان کی دعا قبول کروں گا۔ پھر فرماتا ہے اے میرے بندوں ! لوٹ جاؤ میں نے تمہیں بخش دیا او رتمہاری برائیاں نیکیوں سے بدل دیں ۔ حضور اقدس ۖ نے فرمایا کہ لوگ اس حال میں واپس لوٹتے ہیں کہ ان کی بخشش ہوچکی ہوتی ہے۔ (١)

یہی وہ مبارک مہینہ ہے جس سے سفر حج کا آغاز ہوتا ہے ۔

اسی روز اللہ نے شہد کی مکھی کو شہد بنانے کا الہام کیا تھا اور اسی روز اللہ نے درخت طوبی پیدا کیا تھا اور اسی دن اللہ نے سیدنا جبرئیل کو وحی کے لیے منتخب فرمایا اور اسی دن میں فرعون کے جادوگروں نے توبہ کی تھی۔ (٢)

اسی برکت و فضیلت کی وجہ سے ام المؤمنین حضرت عائشہ اپنے جملہ مہتم بالشان امور کا آغاز اسی مہینے سے فرمایا کرتی تھیں او ریہ عجیب اتفاق ہے کہ حضرت عائشہ کا نکاح بھی ماہ شوال میں ہوا او ررخصتی بھی ماہ شوال میں ۔

ایک روایت میں آتا ہے کہ شوال سال جنت کا مبداء ہے ۔(٣)

شاید اسی وجہ سے علما نے اس کو تعلیمی سا ل کا مبداء بھی قرار دیا ہے

غرئہ شوال سال جنت است زیں سبب ایں مبداء تعلیم گشت

درحدیث مصطفی آمد چنیں بیہقی تخریج کردہ نجم دیں

ایسے ہی اور بے شمار فضا ئل ہیں جن کو طوالت کے خوف سے ترک کیا جارہا ہے۔

Spread the love

Leave a Comment

%d bloggers like this: