صلاۃ التسبیح کی نماز کا طریقہ | Salatul Tasbeeh ki Namaz ka Tarika | Salatul Tasbeeh ki Fazilat

 صلاۃ التسبیح کے فضائل

Salatul Tasbeeh k

٭یہ وہ نماز ہے جس کے پڑھنے کی برکت سے دس قسم کے گناہ معاف ہوتے ہیں :

(1)اگلے گناہ ۔ (2)پچھلے گناہ ۔ (3)قدیم گناہ ۔ (4)جدید گناہ ۔ (5)غلطی سے کیے ہوئے گناہ ۔

(6)جان بوجھ کر کیے ہوئے گناہ ۔(7)صغیرہ گناہ ۔ (8)کبیرہ گناہ ۔ (9)چھپ چھپ کر کیے ہوئے گناہ ۔

(10)کھلم کھلا کیے ہوئے گناہ ۔ (فضائلِ ذکر :169)

٭یہ وہ نماز ہے جس کے پڑھنے کی جس کے بارے میں آپ ﷺ نے فرمایا : اگر روزانہ ، ہفتہ ، مہینہ یا کم از کم سال میں بھی اگر نہیں پڑھ سکتے تو اپنی پوری زندگی میں ہی کم از کم ایک مرتبہ پڑھ لو ۔ اِس سے اِس نماز کی اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔(فضائلِ ذکر :169)

٭یہ وہ نماز ہے جس کے بارے میں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اگر تم ساری دنیا سے کے لوگوں سے بھی زیادہ گناہ گار ہوگے تو تمہارے گناہ معاف کردیے جائیں گے ۔(فضائلِ ذکر: 170)

٭یہ وہ نماز ہے جسے آپ ﷺ نے اپنے چچا حضرت عباس ﷜کو بتاتے ہوئے اِس نماز کو تحفہ ، بخشش اور خوشخبری قرار دیا ۔(فضائلِ ذکر :169 ، 170 ، 171)

٭یہ وہ نماز ہے جس کو پڑھتے ہوئے بندے کو تین سو مرتبہ تیسرے کلمہ کی صورت میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کرنے کی سعادت حاصل ہوتی ہے ، حالآنکہ:

ایک مرتبہ تیسرا کلمہ پڑھنے پر جنت میں ایک درخت لگ جاتا ہے ۔(فضائل ذکر:141)

تیسرا کلمہ اللہ تعالی کے نزدیک سب سے محبوب کلمہ ہے ۔ (فضائل ذکر:143)

جنت چٹیل میدان ہے اور تیسرا کلمہ جنت کے پودے ہیں ۔(فضائل ذکر:141)

تیسرے کلمہ کے ہر ایک کلمے کا ثواب اُحد پہاڑ سے زیادہ ہے۔(فضائل ذکر:146)

تیسرے کلمہ کا ہر کلمہ اعمال نامے میں تُلنے کے اعتبار سے سب سے زیادہ وزنی ہے ۔(فضائل ذکر:147)

٭یہ وہ نماز ہے جس کا ہر زمانے میں علمائے امت ، محدثین ، فقہاء اور صوفیہ نےاہتمام کیا ہے۔(ایضاً :173)

٭یہ وہ نماز ہے جس کے بارے میں حضرت عبد العزیز بن ابی روّاد ﷫ فرماتے ہیں :جس کا جنت میں جانے کا ارادہ ہو اُس کے لئے ضروری ہے کہ صلاۃ التسبیح کو مضبوطی سے پکڑے ۔ (فضائلِ ذکر :174)

٭یہ وہ نماز ہے جس کے بارے میں حضرت ابو عثمان حیری ﷫فرماتے ہیں کہ میں نے مصیبتوں اور غموں کے ازالے کے لئے صلاۃ التسبیح جیسی کوئی چیز نہیں دیکھی ۔(فضائلِ ذکر :174)

٭یہ وہ نماز ہے جس کے بارے میں علّامہ تقی الدین سبکی ﷫فرماتے ہیں کہ جو شخص اِس نمازکی فضیلت و اہمیت کو سُن کر بھی غفلت اختیار کرے وہ دین کے بارے میں سستی کرنے والا ہے ، صلحاء کے کاموں سے دور ہے ، اُس کو پکا آدمی نہ سمجھنا چاہیئے ۔ (فضائلِ ذکر :174

صلاۃ التسبیح کاطریقہ :

اِس کے دو طریقے منقول ہیں ، کسی بھی طریقے کے مطابق یہ نماز پڑھا جاسکتی ہے۔

پہلاطریقہ: اس نماز کے پڑھنے کا طریقہ جو حضرت عبداللہ بن مبارک سے ترمذی شریف میں مذکور ہے یہ ہے کہ تکبیر تحریمہ کے بعد ثنا یعنی سُبْحَانَکَ اللَّھُمَّ الخ پڑھے پھر کلمات تسبیح یعنی: سُبحَانَ اللہِ وَالْحَمدُ لِلّٰہِ وَلَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَ اللہُ اَکْبَرُ ۔ 15 مرتبہ پڑھے پھر حسب دستور اَعُوْذُ بِاللہِ و بِسْمِ اللہِ و الْحَمْدُ شریف اور سورة پڑھے پھر قیام میں

ہی یعنی سورة کے بعد رکوع میں جانے سے پہلے وہی کلمات تسبیح 10 مرتبہ پڑھے، پھر رکوع کرے اور رکوع کی تسبیح کے بعد وہی کلمات 10 بار کہے، پھر رکوع سے اٹھ کر قومہ میں سمع اللہ لمن حمدہ اور ربنالک الحمد کے بعد 10 بار اور دونوں سجدوں میں سجدے کی تسبیح کے بعد 10،10بار اور دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنے کی حالت میں یعنی جلسہ میں10 بار وہی کلماتِ تسبیح کہے، اسی طرح ہر رکعت میں الحمد سے پہلے 15مرتبہ اور سورة ملانے کے بعد رکوع میں جانے سے پہلے قیام ہی میں 10 مرتبہ اور رکوع و قومہ اور دونوں سجدوں میں اور دونوں سجدوں کے درمیانی جلسے میں 10،10بار وہی کلمات کہے اس طرح ہر رکعت میں 75 مرتبہ اور چار رکعتوں میں 300 مرتبہ یہ کلماتِ تسبیح ہو جائیں گے اور اگر ان کلمات کے بعد”وَلَا حَولَ وَلَا قُوَّةَ اِلاَّ بِاللہ العَلِیِّ العَظِیمِ“بھی ملا لے تو بہتر ہے کیونکہ اس سے بہت ثواب ملتا ہے اور ایک روایت میں اِن الفاظ کی زیادتی منقول بھی ہے

Spread the love

Leave a Comment

%d bloggers like this: