عذاب ِ قبر کا ایک واقعہ | Azab e Qabar In Quran | Waqia Azab e Qabar | Azab e Qabar Ki Dua

Azab e Qabar In Quran

 عذاب ِ قبر کا ایک واقعہ

عذاب ِ قبر کا ایک واقعہ | Azab e Qabar In Quran | Waqia Azab e Qabar |

 Waqia Azab e Qabar 

حافظ ابن رجب حنبلی ؒ نے اپنی کتاب احوال القبور میں لکھا ہے کہ ایک صاحب نے ذکر کیا کہ میں اپنی زمین پر کام کیا کرتا تھا۔ ایک دن شام کے وقت جب میں گھر کی طرف واپس جانے لگا تو راستے ہی میں مغرب کا وقت ہوگیا۔ راستے میں قریب ہی ایک مقبرہ تھا۔ میں نے مغرب کی نماز وہاں پڑھنے کا ارادہ کرلیا۔ چنانچہ میں نے اور میرے ایک دو ساتھیوں نے وہاں جاکر مغرب کی نماز ادا کی اور مغرب کی نماز ادا کرکے شام کے معمولات اور تسبیحات وہیں بیٹھ کر پوری کررہا تھا اور جب آہستہ آہستہ اندھیرا چھانے لگا تو یکایک مجھے کسی کے کراہنے کی آواز سنائی دی۔ میں نے ادھر ادھر دیکھا تو کچھ نظر نہ آیا۔ تھوڑی دیر کے بعد پھر ’’ہائے ہائے‘‘ کی آواز سنائی دی، جس کی وجہ سے میں ڈر گیا اور میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ پھر جب میں نے آواز کی طرف دھیان لگایا تو قبر کے اندر سے آرہی تھی۔ میں قبر کے پاس گیا اور اپنے کان قبر سے لگائی تو قبر کے اندر سے ہائے ہائے کی آواز کے ساتھ یہ آواز بھی رہی تھی کہ۔

قَدْ کُنْتَ اُصَلِّیْ وَقَدْ کُنْتُ اَصُوْمُ

’’ میں تو نماز بھی پڑھا کرتا تھا اور روزے بھی رکھا کرتا تھا۔‘‘

Azab e Qabar Ki Dua

پھر مجھے یہ سزا کیوں دی جارہے ہے؟ اور اس کی آواز ایسی دردناک تھی کہ میں بیان نہیں کرسکتا۔ پھر میں اس قبر کے پاس سے اٹھا اور میرے جو دوسرے ساتھی قریب ہی نماز پڑھ رہے تھے ان کو بلا کرلے آیا اور ان سے کہا کہ تم بھی ذرا یہ آواز سنو، واقعتا یہ آواز آرہی ہے یا میرے ذہن کا خلل ہے۔ جب انھوں نے کان لگائے تو ان کو بھی یہ آواز سنائی دی ، انہوں نے بتایا کہ سچ مچ آواز آرہی ہے، تمہارے دماغ کا خلل نہیںہے۔ بہرحال اس روز تو ہم جلدی سے اپنے معمولات پورے کرکے واپس چلے گئے، دوسرے دن میں پھر واپسی میں مغرب کی نماز پڑھنے کے لیے اسے مقبر ے میں گیا اور یہ سوچ کر گیا کہ میں جاکر آج بھی وہ آواز سنوں گا۔

Azab e Qabar Hadees

 آیا وہ آواز آج بھی آرہی ہے یا نہیں؟ چناںچہ آج بھی میں نے وہاں جاکر پہلے مغرب کی نماز ادا کی اور پھر اپنے معمولات میں مشغول ہوگیا کہ پھر بالکل اسی طرح آج بھی قبر سے آواز آئے گی جس طرح گزشتہ کل آرہی تھی اورمیں نے قبر کے پاس جاکر کان لگائے تو وہی الفاظ سنے، جوکل سنے تھے۔ لہٰذا اب مجھے یقین ہوگیا کہ اس مردے کو قبر کا عذاب ہورہا ہے ۔ پھر جب میں وہاں سے لوٹا تو مجھ پر شدید خوف طاری ہوگیا اور خوف کی وجہ سے دوماہ تک مجھے بخار رہا۔

Spread the love

Leave a Comment

%d bloggers like this: