عید کی نماز کا طریقہ . Eid Ki Namaz Ka Tariqa

عید کی نماز کا طریقہ 

 : امام یوں نیت کرے کہ میں دو رکعت واجب نماز عید1 چھ زائد تکبیروں سمیت پڑھتا ہوں، منہ طرف کعبہ شریف کے۔ اور مقتدی اس کے ساتھ یہ نیت بھی کریں: پیچھے اس امام کے۔ یہ نیت کرکے اَللّٰہُ أَکْبَرُ کہہ کر ہاتھ باندھ لیں اور پھر سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ پڑھیں۔ اس کے بعد تین  تکبیریں اس طرح کہی جاویں کہ دو تکبیروں میں تو کانوں تک ہاتھ اُٹھا اُٹھا کر چھوڑتے رہیں اور تیسری تکبیر میں


بھی ہاتھ اُٹھاویں مگرچھوڑیں نہیں بلکہ باندھ لیں۔ بعد ازاں امام أَعُوْذُبِاللّٰہِ اور بِسْمِ اللّٰہِ آہستہ پڑھ کر بلند آواز سے قراء ت یعنی الحمد اور سورت پڑھے۔  بہتر یہ ہے کہ سورۂ اَعلیٰ و غاشیہ پڑھی جاویں، مگراس پرہمیشہ پابندی نہ کی جاوے اور مقتدی حسبِ معمول خاموش رہ

https://www.youtube.com/watch?v=0qwAZsKLEUk&list=PLuX9YxGrm6vzGuOXIxZiuCLC2sB5dfoaT&index=3


ور دوسری نمازوں کی طرح رکوع سجدہ وغیرہ کرکے دوسری رکعت میں اوّل امام بلند آواز سے قراء ت پڑھے اس کے بعد تکبیریں کہی جائیں اور تینوں تکبیروں میں ہاتھ اُٹھا اُٹھا کرچھوڑتے جائیں۔ پھر بغیر ہاتھ اٹھائے چوتھی تکبیر رکوع کے واسطے کہہ کر رکوع میں جاویں اور دوسری نمازوں کی طرح سجدوں کے بعد التحیات وغیرہ پڑھ کرسلام پھیردیں۔ اور امام کوچاہیے کہ تکبیروں کے درمیان اتنا وقفہ کرلے کہ مقتدیوں کے فارغ ہونے کا گمان ہوجاوے اور جو شخص بعد میں آکر شامل ہو اس کی چند صورتیں ہیں، سب کو الگ الگ لکھاجاتاہے۔

پہلی صورت: اگرکوئی شخص تکبیروں سے پہلے ہی آگیا تب تونیت باندھ کرشامل ہوجائے،

اور اگر ایسے وقت پہنچا کہ تکبیر یں ہو رہی ہیں تو جتنی تکبیریں مل جاویں اتنی ساتھ کہہ لے اور باقی ماندہ بعد میں اسی وقت کہہ لے، اور کُل تکبیریں ہوچکی ہوں تونیت باندھتے ہی فوراً تینوں تکبیریں کہہ لے خواہ قراء ت شروع ہوچکی ہو، اور ہاتھ اٹھانے اور باندھنے کاوہی طریقہ ہے جو اوپر گزر چکادوسری صورت:اگرکوئی شخص ایسے وقت آیا کہ امام رکوع میں جاچکا ہے

تو اگر غالب گمان ہو کہ تکبیریں کہنے کے بعد رکوع مل جاوے گا تب توطریقۂ مذکورہ کے موافق تکبیریںکہنے کے بعد رکوع کی تکبیر کہہ کر رکوع میں جاوے، اور اگر یہ اندیشہ ہو کہ رکوع نہ ملے گا تو رکوع میں شریک ہوجاوے اور رکوع ہی میں تسبیح کی جگہ بغیرہاتھ اٹھائے تکبیریں کہہ لے، اور اگرایک یا دو تکبیر کے بعد امام رکوع سے اٹھ جاوے تو یہ بھی ساتھ اٹھ جاوے، باقی تکبیر معاف ہے۔

تیسری صورت

جوشخص دوسری رکعت میں اس وقت آیا ہوجب امام رکوع میں جاچکا ہے تو اس کا بھی وہی حکم ہے جو پہلی رکعت کے رکوع کا ابھی لکھا گیا ہے، اور پہلی رکعت جو رہ گئی ہے جب امام کے سلام پھیر دینے پر اس کو پڑھے تو اوّل قراء ت پڑھنا چاہیے، اس کے بعد تین تکبیریں زائد ہاتھ اُٹھا اُٹھا کر کہنے کے بعد چوتھی تکبیر رکوع کے لیے بغیر ہاتھ اٹھائے کہتا ہوا رکوع میں جائے جیسا کہ دوسری رکعت میں حکم ہے۔

چوتھی صورت: اگر دوسری رکعت کے رکوع کے بعد کسی وقت آکر ملے تو پھر دونوں رکعت اس طریقہ سے پڑھے جو شروع میں لکھا گیا ہے۔

 چندضروری مسائل

۱۔اگرامام نے پہلی رکعت کی تکبیر بھول سے چھوڑ کر قراء ت شروع کردی ہو تو یہ حکم ہے کہ اگر الحمدپڑھتے پڑھتے یاد آجائے تب تو تکبیریں کہہ کر دوبارہ 1 الحمد شریف پڑھی جائے اور اگر سورت شروع کردی ہے توپھر سورت پوری کرنے کے بعد دوسری رکعت کی طرح تین تکبیریں زائد اور چوتھی تکبیر رکوع کے لیے کہہ کر رکوع میں چلے جاویں، قراء ت کا اِعادہ نہ کیا جائے۔ اور اگر رکوع میں یاد آوے تو تکبیروں کے لیے رکوع سے اُٹھنا جائز نہیں بلکہ رکوع ہی میں آہستہ آہستہ کہہ لے

۔1 اور مقتدیوں میں سے بھی جس کو یاد آئے

 اپنی اپنی تکبیریں کہہ لیں خواہ ان کو امام کے تکبیر کہنے کا پتہ لگا ہو یا نہ ہو۔ اور اگر کسی نے رکوع سے اٹھ کر تکبیریں کہنے کے بعد رکوع کیا تو نماز ہوگئی مگر بُرا کیا، اور یہی تفصیل اس مسبوق کے لیے ہے جس کی دونوں رکعت رہ گئی ہوں ۲۔اسی طرح اگردوسری رکعت میں امام تکبیریں بھول کر رکوع میں چلاجائے تب بھی تکبیروں کے واسطے رکوع سے واپس نہ ہو بلکہ رکوع ہی میں آہستہ آہستہ تکبیریں پڑھ لے، اور مقتدی بھی جیساکہ ابھی (نمبر ا) میںگزرا، اور یہی حکم مسبوق کے بھول جانے کاہے۔

۳۔نمازِ عیدین میں اگر بھول سے تکبیر رہ جاویں یا اور کوئی بات سجدۂ سہو کی مُوجِب ہوجائے تو امام کو چاہیے کہ سجدۂ سہو نہ کرے، کیوں کہ زیادہ مجمع کی وجہ سے لوگوں کوغلطی ہوجانے کا اندیشہ ہے۔ البتہ اگرمجمع کم ہو اورغلطی کا اندیشہ نہ ہو تو سجدۂ سہو کرلے۔ اگر مسبوق سے اس کی رہی ہوئی نماز میں کوئی بات سجدۂ سہوکی موجب سرزد ہو تو اس کو سجدۂ سہو واجب ہے۔

۴۔اگرنماز پڑھنے کے بعد معلوم ہواکہ کسی وجہ سے نماز بالکل نہیں ہوئی تو اس میں

 یہ تفصیل ہے کہ اگر مجمع متفرق ہونے سے پیشتر ہی پتہ لگ گیاتب تو دوبارہ نماز پڑھنی ضروری ہے، اور اگر مجمع متفرق ہونے کے بعد خبر ہوئی تودوبارہ نماز میں مختلف روایات ہیں، مگر آسانی اس روایت کولینے میں ہے کہ اب جماعت کا دہرانا ضروری نہیں بلکہ صرف امام نماز لوٹالے۔2

 ہاں اگر احتیاطاً اعلان کرکے دوبارہ پڑھ لی جائے تو بہتر ہے۔ اگر اس روز موقع نہ ملے تو عید الفطر میں دوسرے روز بھی لوٹا سکتے ہیں اور عید الاضحی میں تیسرے روز بھی۔

یہ سب تفصیل امام کی نماز فاسد ہونے میں ہے اور اگر مقتدی یا مسبوق کی نماز فاسد ہو جائے تو کسی حال میں قضانہیں ہے ۔

۵۔اگرکوئی شخص عیدگاہ میں ایسے وقت پہنچا کہ نماز ختم ہوچکی ہے تو یہ تنہا نماز عید نہیں پڑھ سکتا، بلکہ اگردوسری جگہ نماز ہوتی ہو وہاں چلا جائے ورنہ چار رکعت چاشت کی نیت سے پڑھ لے، اور اگر چند آدمی رہ گئے ہوں1 توجائز ہے کسی دوسری جگہ جماعت کرکے نمازِ عیدین پڑھ لیں

Spread the love

Leave a Comment

%d bloggers like this: