فجر کے بعد سونا | Subah Ki Waqt Ka Sona Rizq Ko Rokta Hai | Kya Ye Hadees Hai | Fajar Ke Baad Sona Kaisa Hai | fajar ki namaz ki fazilat in urdu | fajar ki namaz ka trikah

 فجر کے بعد سونا

فجر کے بعد سونا | Subah Ki Waqt Ka Sona Rizq Ko Rokta Hai | Kya Ye Hadees Hai |  Fajar Ke Baad Sona Kaisa Hai | fajar ki namaz ki fazilat in urdu |  fajar ki namaz ka trikah



مسئلہ(۲):فجر کی نماز چھوڑ کر سوئے رہنا حرام ہے(۱)، اور فجر کی نماز پڑھ کر ، دِن کے اول حصے میں سونا مکروہ ہے(۲)، کیوں کہ دِن کا اول حصہ تلاوت وذکر، اِشراق وچاشت، پھر طلبِ کسب؛ یعنی روزی روٹی کمانے کا وقت ہوتا ہے(۳)، اس لیے دِن کے اول حصے میں سونے سے پرہیز کرنا چاہیے، کہ صبح کے وقت کا سونا رزق کو روکتا ہے۔

فجر کی نماز کے بعد طلوعِ آفتاب سے پہلےسونے سے بچنا چاہیئے۔

فجر کی نماز کے بعد سے طلوعِ آفتاب تک کا وقت نہایت قیمتی ہوتا ہے اِس میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تقدیس اور ذکر و تلاوت میں مشغول رہنا چاہیئے اور اِشراق کے بعد اپنے کاموں کا آغاز کرنا چاہیئے۔اِس وقت کو سونے میں ضائع کردینا بڑی محرومی ہے، احادیث طیّبہ میں اِس وقت کے سونے کوناپسند کیا گیا ہے۔

حضرت فاطمہ﷝سےسندِ ضعیف کے ساتھ مَروی ہے وہ فرماتی ہیں کہ ایک دفعہ میں صبح کے وقت (طلوعِ آفتاب سے پہلے) لیٹی ہوئی تھی،آپﷺنے اِرشاد فرمایا:

”يَا بُنَيَّةُ قُوْمِي اشْهَدِي رِزْقَ رَبِّكِ، وَلَا تَكُونِي مِنَ الْغَافِلِينَ، فَإِنَّ اللهَ يَقْسِمُ أَرْزَاقَ النَّاسِ مَا بَيْنَ طُلُوعِ الْفَجْرِ إِلَى طُلُوعِ الشَّمْسِ“اے بیٹی!اُٹھ جاؤ اور اپنے رب کے رزق(کی تقسیم )کےوقت حاضر ہوجاؤ اور غفلت اختیار کرنے والوں میں شامل نہ ہو،اِس لئے کہ اللہ تعالیٰ صبح صادق سے لیکر طلوعِ آفتاب کے درمیان لوگوں کے رزق تقسیم کرتے ہیں۔(شعب الایمان:4405)

”الْغَفْلَةُ فِي ثَلَاثٍ: عَنْ ذِكْرِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَحِينَ يُصَلِّي الصُّبْحَ إِلَى طُلُوعِ الشَّمْسِ، وَغَفْلَةُ الرَّجُلِ عَنْ نَفْسِهِ فِي الدَّيْنِ حَتَّى يَرْكَبَهُ“

تین چیزوں میں عموماً لوگوں کے اندربہت زیادہ غفلت پائی جاتی ہے

نماز کو ضائع کرکے ہرگز نہیں سونا چاہیئے ۔

نماز یا جماعت کو ضائع کرکے سونے والا بھی درحقیقت بے وقت سونے والاہے،اِس لئے ایسی نیند سے بچنا چاہیئے جس کی وجہ سے نماز جماعت فوت ہوجائے۔

حضرت عبد اللہ بن عمرو﷜فرماتے ہیں:

”النَّوْمُ ثَلَاثَةٌ: فَنَوْمٌ خُرْقٌ، وَنَوْمٌ خَلَقٌ، وَنَوْمٌ حُمْقٌ، فَأَمَّا نَوْمُ خَرَقٍ: فَنَوْمَةُ الضُّحَى يَقْضِي النَّاسُ حَوَائِجَهُمْ وَهُوَ نَائِمٌ، وَأَمَّا نَوْمُ خَلَقٍ: فَنَوْمَةُ الْقَايِلَةِ نِصفِ النَّهَارِ، وَأَمَّا نَوْمَةُ حُمْقٍ: نَوْمَةٌ حِينَ تَحْضُرُ الصَّلَاةُ“نیند تین طرح کی ہیں:ایک جہالت اور نادانی کی نیند،دوسری فطری نیند اور تیسری حماقت اور بےوقوفی کی نیند۔جہالت  :

کی نیند یہ ہے کہ چاشت کے وقت میں جبکہ لوگ اپنی ضروریاتِ زندگی کو پورا کرنے میں لگے ہوتے ہیں اُس وقت سوئے پڑے رہنا،فطری نیند یہ ہے کہ دن کے درمیان میں قیلولہ(آرام)کیا جائے اور حماقت اور بےوقوفی کی نیند یہ ہے کہ نماز کے وقت میں سویا جائے ۔(شعب الایمان:4409)

حضرت عبد اللہ بن مسعود﷜سے مَروی ہے،وہ فرماتے ہیں

نبی کریمﷺکے سامنے کسی ایسے شخص کا تذکرہ کیا گیا جو صبح تک سوتا رہا اور نماز کیلئے بھی نہ اُٹھا،آپ ﷺنے اِرشاد فرمایا:”بَالَ الشَّيْطَانُ فِي أُذُنِهِ“شیطان نے اُس کے کان میں پیشاب کردیا ۔(بخاری:1144

حضرت سمرہ بن جندب ﷛خواب والی حدیث( جس میں آپﷺنےکئی گناہ گار لوگوں کو عذاب میں مبتلا دیکھاتھا اوراُس کے عذاب کے اَسباب بھی آپ کو بتائے گئے تھے،اُس) میں بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے اِرشاد فرمایا:

”أَمَّا الَّذِي يُثْلَغُ رَأْسُهُ بِالحَجَرِ،فَإِنَّهُ يَأْخُذُ القُرْآنَ، فَيَرْفِضُهُ،وَيَنَامُ عَنِ الصَّلاَةِ المَكْتُوبَةِ“

جس شخص کا سر پتھر سے کچلا جارہا تھاوہ وہ شخص ہے جو قرآن یاد کرتا ہے پھر اسے چھوڑ دیتا ہے اور فرض نماز سے غافل ہو کر سوجاتا ہے۔(بخاری:1143)

ماقبل وہ احادیث گزرچکی ہیں جن میں نبی کریمﷺنے عشاء کی نماز سے پہلے سونے سے منع فرمایاہے، اور ایسے شخص کو بددعاء دی ہے کہ اُسے نیند کا سکون نصیب نہ ہو جو عشاء کی نماز سے پہلے سوجانے کی وجہ سے عشاء کو ضائع کردے۔محدثین نے صراحت کی ہے کہ اِس سے مراد صرف عشاء کی نماز نہیں بلکہ ہر وہ نماز مراد ہے جسے سوتے رہنے کی وجہ سے اِنسان ضائع کردے۔(مرعاۃ المفاتیح:2/294)

بہت زیادہ سونے سے بچنا چاہیئے۔

ایک نارمل آدمی کیلئے دن میں سات سے آٹھ گھنٹے کی نیند کافی ہے ،اِس لئے جسمانی تقاضے کے پورا ہوجانے کے بعد بھی پڑے سوتے رہنا کوئی اچھی عادت نہیں ، اِس میں وقت کا ضیاع اور دینی اور دنیاوی طو ر پر نقصان ہے۔اور یہ بھی بے وقت سونے کے زمرے میں داخل ہے۔

نبی کریمﷺکا اِرشاد ہے کہ حضرت سلیمان﷤کی والدہ نے حضرت سلیمان﷤ کو نصیحت کرتے ہوئے اِرشاد فرمایا:”يَا بُنَيَّ لَا تُكْثِرِ النَّوْمَ بِاللَّيْلِ فَإِنَّ 

النَّوْمِ بِاللَّيْلِ تَتْرُكُ الرَّجُلَ فَقِيرًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ“اے میرے بیٹے! رات کو بہت زیادہ مت سویا کرو اِس لئے کہ رات کو بہت زیادہ سونا اِنسان کو قیامت کے دن فقیر بنادےگا۔(سنن ابن ماجہ:1332)

(7)—ساتواں کام:کسی گھر میں اکیلے نہ سونا:

بہتر ہے کہ کسی گھر یا کسی مقام پر اکیلےسونے سے گریز کیا جائے،چنانچہ احادیث میں اِس کی راہنمائی کی گئی ہے،حضرت عبد اللہ بن عُمر﷠فرماتے ہیں:

أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْوَحْدَةِ، أَنْ يَبِيتَ الرَّجُلُ وَحْدَهُ أَوْ يُسَافِرَ وَحْدَهُ“نبی کریمﷺنے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص اکیلے گھر میں رات گزارے یا اکیلے سفر کرے۔(مسند احمد:5650)

فائدہ:اکیلے سونے کی مُمانعت اِس لئے کی گئی ہےکہ بعض اوقات سوتے ہوئے اِنسان کسی خواب وغیرہ کی وجہ سے ڈرجاتا ہے،یا کوئی حادثہ پیش آجاتا ہے،یا کوئی بیماری وغیرہ کا سامنا ہوتا ہے،یا کسی چور اور دشمن وغیرہ کی صورت میں ناگوار صورت حال پیش آجاتی ہے،اِن تمام صورتوں میں اگر کچھ افراد ہوں تو وہ ایک دوسرے کے کام آسکتے ہیں اور ایک دوسرے کی مدد کرسکتے ہیں ، ظاہر ہے کہ تنہا ہونے کی صورت میں یہ فائدہ حاصل نہیں ہوسکتا، علاوہ اَزیں تنہاء ہونے کی صورت میں وحشت اور شیطانی خیالات مسلّط ہونے کا امکان پایا جاتا ہے۔

I Covered these points in the video

 > fajar ke baad sona kaisa hai

> fajar ki namaz ke baad sona kaisa hai

> fajar ki namaz ke baad sona

> fajar ke baad sona

 > namaz e fajar

> fajar ki namaz ke baad sona chahiye ya nahi

> fajar ke bad sona

> fajar k baad sona kaisa

> fajar ke baad sona kaisa

> fajar ke baad sona chahiye ya nahi

> fajar ki namaz ke baad sona chahiye

> fajar k baad sona

> fajar ki namaz ke baad ki dua

Spread the love

Leave a Comment

%d bloggers like this: