قربانی کس پر فرض ہے |Qurbani kis Par Farz Hai | Qurbani Ki Sharait | Qurbani Ke Masile

 (قربانی کا بیان)

ربانی کس پر فرض ہے |Qurbani kis Par Farz Hai | Qurbani Ki Sharait | Qurbani Ke Masile

kia Qurbani Farz hai 

مسئلہ (۱۰۵): جس شخص پر زکوۃ فرض ہو یا جس کے پاس ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی قیمت ہو یا اتنی قیمت کامالِ تجارت ہوتواس پر قربانی او رصدقۂ فطر واجب ہوجاتا ہے، شریعتِ اسلامیہ میں قربانی کی بڑی فضیلت ہے ا ور قربانی واجب ہونے کے باوجود نہ کرنے پر سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔(۱)نصاب کے مقدار زائد از ضرورت مال میں قربانی واجب ہوگی

مسئلہ (۱۰۶): اگر کسی شخص کے پاس ضرورت سے زائد کپڑے، موبائل فون، گھریلو برتن، ٹیپ ریکارڈ، ٹیلی ویژن اور وی سی آر وغیرہ جن کی مالیت نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی ) کے برابر ہو تو اس پر بھی قربانی واجب ہوگی، کیوں کہ وجوبِ قربانی کے لیے نصاب کا نامی ہونا اور اس پر سال گذرنا شرط نہیںہے ۔(۱)

دوسرے کی طر ف سے قربانی کا حکم

مسئلہ (۱۰۷): دوسرے کی طر ف سے واجب قربانی کی اجازت لینا ضروری ہے، ور نہ دوسرے کی واجب قربانی ادانہ ہو گی، اگر کسی علاقے میں اپنے متعلقین کی طر ف سے قربانی کرنے کی عادت اور رواج ہو تو اپنے متعلقین کی طر ف سے انکی اجازت کے بغیر واجب قربانی درست ہو جائیگی۔(۲

نابالغ اولاد کی طرف سے قربانی کرنا

مسئلہ (۱۰۸): امیر باپ پر نابالغ اولاد کی طرف سے قربانی کرنا واجب نہیں، مستحب ہے،اگر قربانی کرے گا تو ثواب ملے گا، نہیں کریگا تو گناہ نہیں ہوگا۔(۱)

خنزیرکے دودھ سے پروردہ جانورکی قربانی

مسئلہ (۱۰۹): اگر کسی جانور کے بچے کی پرورش سور کے دودھ سے ہوئی ہو تووہ بچہ حلال ہے، اس کی قربانی درست ہے، لیکن قربانی کرنے سے پہلے چند روز تک یعنی کم سے کم دس دن دوسرا چارہ دینا چاہیے ۔ (۲)

قربانی سے پہلے نہ کھانا مستحب ہے

مسئلہ (۱۱۰): بروز عید قرباں بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ جب تک قربانی نہ ہو روزے سے رہے ، یعنی نہ کچھ کھائے او رنہ پئے ، شریعتِ اسلامیہ میں اس قول کی کوئی اصل وحقیقت نہیں ہے، البتہ جو شخص قربانی کرے اس کے لیے یہ مستحب ہے کہ عید الاضحی کی نماز سے فارغ ہونے تک کچھ نہ کھائے ، تاکہ اس دن اس کا اولِ طعام اس کی قربانی کا گوشت ہو۔(

Spread the love

Leave a Comment

%d bloggers like this: