مسجدِ اقصی کی اہمیت وفضیلت . masjid aqsa history in urdu

مسجد حرام، مسجداقصی اور مسجد نبویؐ کی فضیلت:

1.> مسجدِ اقصی کی اہمیت وفضیلت 2> مسجد حرام، مسجداقصی اور مسجد نبویؐ کی فضیلت: 3>مسجدِ اقصی کی اہمیت وفضیلت 4>masjid aqsa history in urdu

ترجمہ:

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کجاوے نہ باندھے جا ئیں(سفر نہ کرو) مگر تین مسجدوں کی طرف کہ وہ مسجد حرام اور مسجد اقصیٰ اور میری مسجد (مسجد نبویؐ) ہے۔ (بخاری ومسلم)

تشریح:

اس حدیث سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ مسجد حرام مسجد اقصیٰ یعنی بیت المقدس اور مسجد نبوی ؐان تینوں کوچونکہ اللہ تعالیٰ نے انکی بہت زیادہ اہمیت وعظمت اور بزرگی وفضیلت کے سبب ممتاز اور مخصوص درجہ عطافرمایا ہے اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تین مسجدوں کے علاوہ اور کسی بھی جگہ کا عازم ہونے اور سفر کرنے سے منع فرمایا لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے بلکہ اس ممانعت سے مقصود یہ ہیکہ بقصدتقرب اور ثواب اور برائے عبادت تو ان ہی تین مسجدوں کا عازم ہونا اور انکی طرف سفرکرنا درست ہے ان کے علاوہ اور کسی جگہ کا قصدوعزم اور سفر درست نہیں ہاں اگر کوئی حاجت وضرورت پیش آئے مثلاً تحصیل علم، تجارت وملازمت اور ادائے حقوق وغیرہ تو اسکی نوعیت دوسری ہے اس طرح کے مقاصد کے تحت کسی بھی جگہ کا عازم ہونا اور سفر کرنا درست ہوگا ۔

البتہ علماء وصلحاء اور اولیاء اللہ کے مزارات کی زیارت کے لئے اور اسی طرح دوسرے متبرک مقامات تک پہونچنے کے لئے سفر کرنے میں اہل علم کا اختلاف ہے کچھ علماء اس کو مباح کہتے ہیں اور کچھ علماء اسکو منع کہتے ہیں۔

wabsaeed calick

بعض حضرات نے اس حدیث کے یہ معنی بیان کئے ہیں

کہ بطریق نذر کے سفر اختیار کرنا ان تین مقامات مقدسہ کے علاوہ کسی اور مقام کیلئے درست نہیں چنانچہ کسی شخص نے اگر ان تین مسجدوں کے علاوہ اور کسی مسجد یا مزار وغیرہ کی زیارت کے لئے سفرکرنے کی نذر مانی تو وہ نذر صحیح نہ ہوگی اور نہ اسکا پورا کرنا واجب ہوگا اور بعض حضرات نے یہ کہا ہے کہ ممانعت کی بات صرف مسجدوں کے اعتبار سے فرمائی گئی ہے، مسجدوں کے علاوہ اور جگہوں کے اعتبار سے نہیں ،مطلب یہ ہے کہ محض کسی مسجد تک پہنچنے کیلئے باقاعدہ سفر اختیار کرنا درست نہیں سوائے ان تین مسجدوں کے۔حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کی شرح میں یوں لکھا ہے ، اس حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان تین مقامات کے علاوہ اور کسی بھی جگہ کا سفر کرنا درست نہیں بلکہ اس سے مقصود ان تین مقامات کی شان وعظمت بیان کرنا ہے اور دوسرے ان مقامات کا سفر کرنے کی سود مندی کو ظاہر کرنا ہے، پس یہ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم گویا اس مفہوم کو ادا کرنے کیلئے ہے کہ سفر،مشقت وصعوبت برداشت کرنے کا نام ہے اگر مشقت و صعوبت برداشت کرنی ہی ہے تو اس سفر کی برداشت کی جائے جس کا مقصد ان تین جگہوں تک پہونچنا اورانکی زیارت کرنا ہو کیونکہ یہی تین جگہیں متبرک ترین مقامات ہیں اور انکا سفر کرنے کی صورت میں یقینا نفع بھی حاصل ہوگا جبکہ انکے علاوہ اور کسی جگہ کا سفر تو بس ایسا سفر ہوگا جس میں بے فائدہ مشقت و صعوبت برداشت کی گئی ہو۔


Masjid Al Aqsa History And Importance In Urdu PDF Book

حضرت الامام شاہ ولی اللہ الدہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب حجۃ اللہ البالغہ میں

اس حدیث کے معانی بیان کرتے ہوئے جوکچھ لکھاہے وہ یوں ہے کہ دراصل زمانۂ جاہلیت میں عام طور پر لوگوں کا معمول تھا کہ جن مقامات کو وہ اپنے گمان کے مطابق واجب التعظیم اور مقدس مانتے تھے انکو مقصود بناکر سفر کرتے اوران مقامات کی زیارت سے برکت حاصل ہونے کا عقیدہ رکھتے تھے، ظاہر ہیکہ کسی بھی جگہ اور کسی بھی مقام کو اس طرح مقدس اور معظم ماننے اور اسکو مقصود بناکر وہاں تک کاسفر اختیار کرنے میں اسلامی نقطۂ نظر سے فکر وعقیدہ کی جو خرابی اور جو نقصان ہے اسکا اندازہ کرنا چنداں مشکل نہیں۔

لہذا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلامی فکر وعقیدہ کو اس نقصان سے بچانے کیلئے یہ ارشاد فرمایا کہ جو مقامات واقعتااور حقیقتاً مقدس اور بزرگ ہیں اور جو اسلام میں شعائر کادرجہ رکھتے ہیں ان کے ساتھ وہ مقامات اور جگہیں خلط ملط نہ ہوجائیں جو قطعی طور پر غیر شعائر میں سے ہیں اور ذاتی طور سے کسی مقدس اور بزرگی کو حامل نہیں اور ان کے ساتھ لوگ ایسا عقیدہ اور ایسی وابستگی اختیار نہ کرلیں کہ غیراللہ کی عبادت کا راستہ کھل جائے۔

اسکے بعد حضرت الامام رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں میرے نزدیک سچ بات تو یہ ہے کہ کسی بزرگ کی قبر ہویا کسی ولی کی عبادت کرنے کی جگہ یہاں تک کہ وہ کوہِ طور بھی ہو یہ سب اس ممانعت میں برابر ہیں یعنی اس حدیث کے بموجب ان چیزوں میں سے کسی کو بھی مقصود بناکر سفر نہ کرنا چاہیئے

Spread the love

Leave a Comment

%d bloggers like this: