نماز تہجد ادا کرنے کا طریقہ | Tahajjud Ki Namaz Ka Tarika | Tahajjud Ki Namaz Ki Niyat ! Tahajjud ki Fazilat | How To Perform Tahajjud Namaz in urdu

تہجد  کا آسان اور مدلّل طریقہ

جامع صغیر کی روایت ہے کہ سرورِ عالم صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میری امت کے بڑے لوگ، وی آئی پی لوگ، اہم لوگ کون ہیں؟

اَشْرَافُ اُمَّتِیْ حَمَلَۃُ الْقُرْاٰنِ وَاَصْحَابُ اللَّیْلِ�؎

 Tahajjud ki Fazilat

یہ ہیں میری اُمت کے بڑے وی آئی پی اور شریف لوگ جو قرآن پاک کے حافظ ہیں اور تہجد کی نماز بھی پڑھتے ہیں۔ اب اگر کوئی مدرسے والا پوچھے کہ ہم لوگ تہجد کیسے پڑھ سکتے ہیں؟ ہر ایک کے لیے آدھی رات کو اٹھنا مشکل کام ہے۔ اس مسئلہ کا اﷲ تعالیٰ نے میرے دل میں ایسا حل ڈالا کہ مفتی عبد الرحیم لاجپوری جو فتاویٰ رحیمیہ لکھنے والے گجراتی عالم ہیں، گجراتی بھائیوں کو سنارہا ہوں کہ انہوں نے اپنے فتاویٰ میں میری تحقیق شایع کردی، وہ تحقیق یہ ہے کہ عشاء کے چار فرض اور دو سنت پڑھ کر وتر سے پہلے دو رکعات تہجد کی نیت سے پڑھ لو، اسی دو رکعات میں صلوٰۃ التوبہ، صلوٰۃ الحاجت، صلوٰۃ التہجد تینوں کی نیت کرلو، تین لڈو دو رکعت میں کھالو، صلوٰۃ التوبہ کی نیت سے دن بھر کی خطاؤں کی معافی مانگ لو، اس کا نام ہے ون ڈے سروس یعنی روز کے روز صفائی، اور صلوٰۃ الحاجت کی نیت کرلو کہ اے اﷲ !ہم آپ سے آپ کو مانگتے ہیں۔ میں سچ کہتا ہوں اپنے پر دادا کی میراث او ر دولت آپ کو دے رہا ہوں، ہم غریب و مسکین ہیں نیکیوں کے اعتبار سے، علم کے اعتبار سے، مگر ہمارے باپ دادا بہت دولت مند تھے اس لیے ان کی میراث آپ کو دے رہا ہوں کہ اﷲ سے اﷲ کو مانگا کرو کہ اگر آپ ہم کو

———

Tahajjud Ki Namaz Ka Tarika


مل گئے تو ہم دونوں جہاں پاگئے۔ ہمارے دادا پیر حضرت حاجی امداد اﷲ صاحب رحمۃ اﷲ علیہ نے کیا شعر فرمایا ؎

کوئی تجھ سے کچھ کوئی کچھ مانگتا ہے

الٰہی میں تجھ سے طلب گار تیرا

اے خدا! میں آپ سے آپ کو مانگتا ہوں۔ تو جو وتر سے پہلے تہجد کی نیت سے دو رکعات پڑھ لے گا قیامت کے دن تہجد گزاروں کے ساتھ کھڑا ہوگا۔ مولوی بغیر حوالہ اور دلیل کے نہیں مانتا، اب دلیل سنیے! علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ مسئلہ پیش کرنے سے پہلے حدیث پیش کرتے ہیں:


وَ مَا کَانَ بَعْدَ صَلٰوۃِ الْعِشَاءِ فَھُوَ مِنَ اللَّیْلِ

عشاء کے فرض کے بعد جو نفل پڑھے گا وہ اصحابُ اللّیل میں سے ہوجائے گا۔ علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کی روشنی میں فیصلہ لکھتے ہیں:فَاِنَّ سُنَّۃَ التَّہَجُّدِ تَحْصُلُ بِالتَّنَفُّلِ بَعْدَ صَلٰوۃِ الْعِشَاءِ قَبْلَ النَّوْمِ�؎ جو وتر سے پہلے دو رکعت بھی پڑھ لے گا اس کی سنت تہجد ادا ہوجائے گی، تہجد کے لیے سونا بھی ضروری نہیں ہے، دو سے زیادہ چار اور چھ رکعات بھی پڑھ سکتے ہیں، مگر میں کم بتاتا ہوں تا کہ بحر الکاہل یعنی جو کاہلی کے سمندر ہیں وہ بھی محروم نہ رہیں۔ تو اصحابُ اللیل سب ہوسکتے ہیں، لہٰذا آج سے یہ دو رکعات نفل تہجد کی نیت سے وتر سے پہلے پڑھنا شروع کردو ان شاء اﷲ قیامت کے دن آپ تہجد گزار اٹھائے جائیں گے۔

تہجد کے چار فوائد

Tahajjud Ki Namaz Ka Tarika


اور چار فائدے اور آپ کو نصیب ہوں گے جو قیامُ اللیل کی فضیلت میں حضورصلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمائے ہیں:

عَلَیْکُمْ بِقِیَامِ اللَّیْلِ فَاِنَّہٗ دَأْبُ الصَّالِحِیْنَ قَبْلَکُمْ وَھُوَ قُرْبَۃٌ لَّکُمْ اِلٰی رَبِّکُمْ وَمَکْفَرَۃٌ لِّلسَّیِّاٰتِ وَمَنْہَاۃٌ لِّلْاِثْمِ�؎

اے میری امت کے لوگو! رات کی نماز لازم کرلو۔ میں آپ کو آسان قیامُ اللیل دے رہا ہوں، وتر سے پہلےدورکعت پڑھ لیں، آپ قیامُ اللیل والوں میں سے ہوگئے۔ اب تہجد کے چار فائدے سنیے:

۱)تہجد گزار کا شمار صالحین میں ہوجاتا ہے فَاِنَّہٗ دَأْبُ الصَّالِحِیْنَ قَبْلَکُمْ جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے سب صالحین بندوں نے قیامُ اللیل کیا ہے یعنی تہجد کی نماز پڑھی ہے، لہٰذا قیامُ اللیل کی برکت سے آپ بھی صالحین میں داخل ہوجائیں گے اور جب صالحین میں داخل ہوگئے تو سارے عالم کی دعا آپ کومفت میں ملے گی، چاہے وہ کعبے شریف کی دعا ہو یا مسجدِ نبوی کی دعا ہو یا پہاڑوں کے دامن میں کوئی ولی اﷲ نماز پڑھ رہا ہو۔

How To Perform Tahajjud Namaz in urdu

اب اپنی اس بات کی دلیل بھی پیش کرتا ہوں، التحیات کے بعد نمازی اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللہِ الصَّالِحِیْنَ پڑھتے ہیں یا نہیں؟ کہ اے اﷲ مجھ پر بھی سلامتی نازل فرما اور دنیا میں جتنے صالحین ہیں ان سب کو بھی سلامتی عطا فرما،تو جب آپ صالحین بن گئے تو سارے عالم کے اولیاء اﷲ جب نماز میں التحیات پڑھیں گے تو وَعَلٰی عِبَادِ اللہِ الصَّالِحِیْنَ کی دعا میں آپ بھی داخل ہوجائیں گے۔ آپ بیٹھے ہوں گے ملاوی میں اور دعا مل رہی ہے کعبہ شریف کے نمازیوں کی، مدینے شریف کے نمازیوں کی بلکہ سارے عالم کے اولیاء اﷲ کی دعا مفت میں ملے گی۔یہ نعمت جو پیش کررہا ہوں یہ معمولی نعمت نہیں ہے، ملاوی والوں کو ملائی دے رہا ہوں۔

جب میرا یہ مسئلہ حضرت مولانا مفتی عبد الرحیم لاجپوری رحمۃ اﷲ علیہ نے سنا تو ان کو اتنا مزہ آیا کہ انہوں نے فوراً سوال قائم کیا اور میرا جواب لکھ کر فتاویٰ رحیمیہ کی تحقیق میں اس کو داخل کردیا اَلۡحَمۡدُ لِلہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ، شکر ہے کہ اتنے بڑے عالم اور مفتی نے میری بات پر اعتماد کیا۔ مولانا منصور کو خود حضرت نے بتایا کہ میں نے اختر کا مسئلہ اپنے فتاویٰ کی کتاب میں درج کردیا، اَلۡحَمۡدُ لِلہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ

Spread the love

Leave a Comment

%d bloggers like this: