Aulad ke huqooq In Islam in Urdu | Aulad Ke Huqooq | Aulad Ke Huqooq Maa Baap Par | Bachon Ki Tarbiyyat Kaise | بچوں کی تربیت کا درست وقت

Aulad ke huqooq In Islam in Urdu

اولادکا پہلا حق

Aulad ke huqooq In Islam in Urdu  | Aulad Ke Huqooq | Aulad Ke Huqooq Maa Baap Par | Bachon Ki Tarbiyyat Kaise | بچوں کی تربیت کا درست وقت



آپ کی اولاد کا آپ پر پہلا حق یہ ہے     (Aulad KaHaqooq)

کہ ان کے لئے اچھی ماں تلاش کریں اور ماں پر لازم ہے کہ وہ ایسے شوہر سے نکاح کرے جو اس کے بچوں کا اچھا باپ ثابت ہو سکے۔ کتنے ہی ایسے مرد ہیں جو محض حسن پرستی میں مبتلا ہو کر آوارہ عورتوں سے شادی کر لیتے ہیں اور کتنی ہی شریف گھرانوں کی عورتیں ہوتی ہیں جو محض جذبات میں آکر بد کردار مردوں سے شادی رچا لیتی ہیں‘ ایسے مردوں اور ایسی عورتوں کو اپنی غلطی کا احساس اس وقت ہوتا ہے جب جذبات کا طوفان تھم جاتا ہے اور عملی زندگی سے سابقہ پیش آتا ہے

اگر بچوں کی ماں کوٹھوں پر بیٹھنے والی رنڈی ہو‘

محفلوں کی زینت بننے والی رقاصہ ہو‘

چند ٹکوں کے بدلے اپنی ناموں بیچنے والی کنجری ہو‘

ہر کسی کا دل لبھانے والی طوائف ہو یا بچوں کا باپ بندوں کی طرح ایکٹنگ کرنے والا فلمی ایکٹر ہو‘

بے ہنگم آوازیں نکالنے والا گویا ہو‘

ناجائزہ دھندا کرنے والا منشیات فروش ہو

 Aulad Ke Huqooq

گناہ کے اڈے چلانے والا دلال ہو‘ تو آپ کا کیا خیال ہے کہ ان سے جنم لینے والی اولاد عابد و زاہد ہوگی؟ حافظ و عالم ہوگی؟ اس میں شک نہیں کہ اللہ اس بات پر قادر ہے کہ وہ کانٹوں سے پھول اور پتھروں سے پانی پیدا فرما د ے وہ اس پر قادر ہے کہ مشرک سے مومن اور مومن سے مشرک پیدا فرما دے لیکن عام طور پر بچے کی نفسیات اور اس کے خیالات پر اس کے ماں باپ اور ان کے خاندان کے اثرات ضرور پڑتے ہیں‘ ابن عدی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’’کامل‘‘ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم سے روایت نقل کی ہے کہ

’’اچھے خاندان میں اپنی شادی کرو اس لئے کہ خاندانی اثرات شرایت کرتے ہیں۔‘‘

ایک دوسری روایت میں ہے آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا

’’تم گندگی کے سبزہ سے بچو‘ صحابہ ( رضی اللہ عنھم ) نے رسول اللہ صلی 

اللہ علیہ و سلم سے پوچھا کہ گندگی کے سبزہ سے کیا مراد ہے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ وہ حسین و جمیل عورت جو گندے اور رزمل خاندان میں پیدا ہوئی ہو

اولاد کادوسرا حق (Aulad Ke Huqooq)

اولاد کا دوسرا حق یہ ہے کہ ان کے لئے اچھا نام تجویز کیا جائے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے کہ ’’تم لوگوں کو قیامت کے دن تمہارے اور تمہارے والدین کے نام سے پکارا جائے گا اس لئے اچھانام رکھا کرو‘‘ (الحدیث)

نام انسان کی شخصیت پر دلالت کرتا ہے نام سے انسان تعارف ہوتا ہے اس لئے نام ایسا ہونا چاہئے جو اپنے مسمی کے مسلمان ہونے پر‘ اللہ کا بندہ ہونے پر‘ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا غلام ہونے پر دلالت کرے‘ ایسا گول مول نام نہ رکھیں جس سے پتہ ہی نہ چلے کہ یہ بچہ مسلم ہے یا غیر مسلم اور ایسا نام بھی نہ رکھیں جو بد فالی پر دلالت کرتا ہو۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم بد فالی والے نام کو تبدیل کر دیا کرتے تھے آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے بنو الزفیتہ کو بنوالرشدہ سے بنو مغیوہ کو بنو رشدہ سے اور حزن کو سہل سے تبدیل کر دیا تھا اس لئے کہ کبھی کبھی نام بھی عجیب اثرات دکھاتا ہے۔

Bachon Ki Tarbiyyat Kaise


امام مالک رحمہ اللہ اپنی کتاب ’’الموطا‘‘ میں یحییٰ بن سعید سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن الخطابt نے ایک شخص سے پوچھا تمہارا نام کیا

)اس نے جواب دیا جمرۃ (انگارہ) پوچھا کس کے بیٹے ہو؟ اس نے کہا (شہاب ( شعلہ) کا ‘ انہوں نے پوچھا کس سے تعلق ہے؟ اس نے کہا کہ حرقۃ (جلن) سے‘ انہوں نے پوچھا کہاں رہتے ہو؟ اس نے کہا حرۃ النار (آگ کے ٹیلے پر) ‘ انہوں نے پوچھا کس جگہ؟ اس نے کہا ذات نظی (بھڑکنے والے ٹیلے) پر‘ یہ سنکر حضرت عمرtنے فرمایا جلدی گھر پہنچو اس لئے کہ تمہارے اہل و عیال آگ میں جل کر ہلاک ہو گئے ہیں اور واقعی ایسا ہی ہوا جیسا کہ حضرت عمرtنے فرمایا تھا۔

بچوں کی تربیت کا درست وقت (

How to groom our kids

ہمارے ہاں آج کل لوگوں کو یہ شوق ہے کہ ماڈرن نام رکھے جائیں اور یہ نام ایسے ہوتے ہیں کہ کبھی کبھی تو پتہ بھی نہیں چلتا کہ جس کا یہ نام ہے وہ مسٹر ہے یا مس سے ہے یا جنس ثالث ہے مسلم ہے یا غیر مسلم اور بعض لوگوں کی تو یہ خواہش ہوتی ہے کہ ایسا نام ہو جو پہلے کسی نے نہ رکھا ہو چنانچہ ہم سے پوچھنے کے لئے آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مولوی صاحب کوئی ایسا نام بتائیں جو بالکل انوکھا اور نیا ہو اب ہم انوکھے اور نئے نام کہاں سے لائیں اب یہی ہو سکتا ہے کہ انسانی بچوں کے نام مکمل پسو‘ مچھر ‘ جوں‘ گیدڑ اور لومڑی رکھ دئیے جائیں‘ آپ میری اس بات پر ہنسیں نہیں کیونکہ آپ کو کئی لوگ ایسے مل جائیں گے جنہوں نے اپنا نام کلب رکھا ہوا ہے جسے اردومیں کتا کہا جاتا ہے لیکن اگر آپ ان کے نام کا اردو ترجمہ کر کے بڑے ہی مہذب انداز میں پیار کے ساتھ کہیں ’’ارے جناب کتا صاحب‘‘ تو وہ مرنے مارنے پر تل جائیں گے۔

میرے بزرگو اور دوستو! اس وقت اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ ہم اپنے بچوں اور بچیوں کے نام صحابہ اور صحابیات جیسے رکھیں یہ نام کے نام ہوں گے اور دشمنان صحابہ کے خلاف جہاد کا جہاد ہوگا یہ بات بالکل مہمل سی ہے کہ نام میں کیا رکھا ہے؟ نام میں بھی بہت کچھ ہوتا ہے‘ بس آپ نام رکھتے ہوئے یہ نیت کرلیں کہ اے اللہ میرے بیٹے میں ابو بکر وعمر ‘ عثمان و

علی‘ سعد و سعید ‘ بلال و خبیب ‘ خباب و معاویہ ‘اسامہ اور حذیفہ رضی اللہ عنھم فاطمہ و عائشہ‘ خدیجہ و صفیہ‘ سمیہ اور قیہ ‘ اسماء اور حمیرا gوالی صفات پیدا فرماد

Right time for training your children: Parenting tips

(Aulad Ke Huqooq Maa Baap Par) تیسرا حق

اولاد کا تیسرا حق یہ ہے کہ اس کے ساتھ محبت و شفقت پیار اور ایثار کا سلوک کیا جائے یہ صرف اسلام کی تعلیم نہیں بلکہ دنیا بھر کے مذاہب سوسائٹیاں فلاسفہ اور انسان بچوں کی محبت پر متفق ہیں بلکہ دیکھا تو یہ گیا ہے کہ انسان تو انسان حیوان بھی بچوں سے محبت کرتے ہیں ایسے کئی واقعات ہم نے اخبارات اور رسائل میں پڑھے ہیں کہ اژدھوں اور شیروں جیسی خوفناک مخلوق نے انسانی بچوں کو موت کے منہ میں جانے سے بچالیا جب حیوانات بھی بچوں سے محبت کرتے ہیں تو انسان کیوں نہ کرے وہ تو اشرف المخلوق ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ بچے کائنات کا حسن ہیں دنیا کی رونق ہیں گلشن انسانیت کے مہکتے چٹکتے‘ لچکتے پھول ہیں‘ بچوں کی معصومیت پر ہزاروں کلیوں کا حسن قربان کیا جاسکتا ہے وہ باپ کتنا بدنصیب اور سنگدل ہے جو اپنے بچوں سے محبت نہیں کرتا۔

بچوں کا عالمی دن اور سال منا کر حقوق اطفال کے چیمپیئن بننے والے سن لیں کہ مہذب دنیا میں سب سے پہلے اور سب سے زیادہ بچوں کے حقوق پر اسلام نے زور دیا ہے محسن کائنات صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے قول و عمل سے بچوں کے حقوق اجاگر کئے اور عالم انسانیت کو سمجھا دیا بتادیا سکھا دیا کہ بچوں سے کیسے محبت کی جاتی ہے۔ ابو داؤد اور ترمذی میں حضرت عبد اللہ بن عمرو العاص t سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ((لَیْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ یَرْحَمْ صَغِیْرَنَا وَلَمْ یَعْرِفْ حَقَّ کَبِیْرَنَا)) (الحدیث)

’’وہ شخص ہم میں سے نہیں جو چھوٹوں پر رحم نہ کرے او ر بڑوں کے حق کہ نہ پچانے‘‘

بچوں کی تربیت کا درست وقت) اولادکاچوتھا حق)

اولاد کا چوتھا حق یہ ہے کہ اس کی پرورش حلال روزی سے کی جائے بلکہ ضروری ہے کہ اسے دودھ پلانے والی عورت بھی حلال کھانے والی ہو خواہ وہ ماں ہو یا انا کیونکہ جو دودھ حرام سے حاصل ہوتا ہے وہ پلید اور ناپاک ہوتا ہے جس بچے کا گوشت پوست اس حرام دودھ سے پیدا ہوگا اس کے مزاج اوراس کی طبیعت میں حرام کے جراثیم سرایت کر جائیں گے یہ بات بارہا مشاہدے اور تجربے میں آئی ہ کہ جو لوگ اپنے بچوں کو حرام روزی کھلاتے ہیں ان کے بچوں میں اس کے اثرات ظاہر ہو کر رہتے ہیں اور جو مائیں حلال پر اکتفا کرنے والی ہوتی ہیں ان کی گود میں پلنے والے بچوں میں ان کی ماؤں کا زہد و تقویٰ ضرور رنگ دکھاتا ہے۔

یہ صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ تاریخ ایسے ان گنت واقعات سے بھری پڑی ہے کہ والدین کی حلال یا حرام روزی کا بچوں کے اخلاق اور سیرت و کردار پر کتنا گہرا اثر ہوتا ہے۔

(Aulad ke huqooq In Islam in Urdu )اولاد پانچواں حق 

اولاد کا پانچواں حق جو تمام حقوق میں سے اہم ترین حق ہے وہ یہ ہے کہ اولاد کی صحیح نہج پر تربیت کی جائے جن والدین کی غفلت یا غلط تربیت کے نتیجے میں بچے بے راہ روی یا گمراہی کا شکار ہو جاتے ہیں ان کو جان لینا چاہئے کہ وہ اپنے بچوں کی جسمانی پرورش کر رہے ہیں لیکن روحانی طور پر وہ ان کو قتل کر رہے ہیں قرآن حکیم میں ہے۔

{وَلاَ تَقْتُلُوْا اَوْلاَدَکُمْ خَشْیَتَہ اِمْلَاقٍ} (القرآن) اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو اگر چہ اس آیت کا تمام مفسرین نے مطلب یہی بیان کیا ہے کہ صرف اس اندیشے سے اولاد کو قتل نہ کرو کہ ان کو کھلائیں گے کہاں سے لیکن جو شخص صرف اس خیال سے اپنی اولاد کو دینی تعلیم نہیں دلاتا کہ یہ بڑے ہو کر اپنا پیٹ کیسے پالیں گے تو کیا اس شخص کو بھی یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اللہ کے بندے ! مفلسی کے ڈر سے اپنی اولاد کا (روحانی) قتل نہ کر! اسی روحانی قتل کوحضرت اکبر الہ آبادی رحمہ اللہ نے اپنے اس شعر میں بڑے خوبصورت انداز میں بیان کیا ہے

یوں قتل سے بچوں کے وہ بدنام نہ ہوتا

افسوس کہ فرعون کو کالج کی نہ سوجھی

حضرت اکبر یہ فرما رہے ہیں کہ انگریزوں کے مرتب کردہ نظام تعلیم کی بدولت کالجوں میں نئی نسل کا روحانی قتل ہو رہا ہے اگر فرعون کو قتل کر نے کا یہ طریقہ سوجھ جاتا تو وہ خواہ مخواہ جسمانی قتل نہ کرتا اور دنیا میں بدنام بھی نہ ہوتا اور ان کالجوں میں نئی نسل کا روحانی قتل یوں ہو رہا ہے کہ وہاں پڑھنے والوں کی اکثریت اپنے والدین سے اپنی روایات سے اور اخلاق سے بیگانہ ہو جاتا ہے اسی لئے تو حضرت اکبر الٰہ آبادی کو کہنا پڑا

Spread the love

Leave a Comment

%d bloggers like this: