Aulad Ki Tarbiyatdf | Bachon Ki Parwarish in Urdu PDF | Bachon ki tarbiyat k 10 asool | Principles of training children

Lasson No 2

Aulad  Ki Tarbiyatdf | Bachon Ki Parwarish in Urdu PDF | Bachon ki tarbiyat k 10 asool | Principles of training children

 حضرت امام حسن اور حضرت امام حسینr ۔

Bachon Ki Parwarish in Urdu PDF

ایک مرتبہ حضرت امام حسن اور امام حسینrنے تختیوں پر خط لکھے دونوں شہزادے اپنے اپنے خط کا فیصلہ کرانے کے لئے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس پہنچے اور عرض کی نانا جان فیصلہ کر دیں کہ کس کا خط اچھا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ہنس کر فرمایا کہ علیt کے پاس جاؤ ‘ جب دونوں شہزادے حضرت علیtکے پاس گئے تو حضرت علیt نے فرمایا کہ اے میر بیٹو! تمہارے خط کا فیصلہ میں بھی نہیں کر سکتا۔ اگر فیصلہ کروانا ہے تو اپنی ماں کے پاس جاؤ پھر شہزادے حضرت فاطمۃ الزہراrکے پاس گئے اور عرض کی اماں جان ہم آپ سے یہ فیصلہ کروانے آئے ہیں کہ ہم میں سے خط کس کا اچھا ہے؟ حضرت سیدہ زہراءr نے فرمایا میں ابھی تمہارا فیصلہ کیے دیتی ہوں آپr کے پاس سات موتی تھے فرمایا جس کی تختی پر چار موتی گر پڑیں اس کا خط اچھا ہوگا۔ پھر حضرت سیدہ r نے موتی اوپر اچھال دئیے تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے جبرائیل علیہ السلام نے ساتویں موتی کو آدھا آدھا کر دیا اس طرح دونوں شہزادوں کی تختیوں پر برابر برابر موتی گرے۔

حضرت امام غزالی رحمہ اللہ کیمیائے سعادت میں فرماتے ہیں:

Aulad Ki Tarbiyat Pdf

’’جب بچہ اچھا کام کرے اور خوش اخلاق بنے تو اس کی تعریف کریں اور اس کو ایسی چیز دیں جس سے اس کا دل خوش ہو اور اگر ماں بچے کو کوئی برا کام کرتے دیکھ لے تو اسے چاہیے کہ اس کو تنہائی میں سمجھائے اور بتائے کہ یہ کام برا ہے‘ اچھے اور نیک بچے ایسا کام نہیں کرتے۔ (کیمیائے سعادت ص۴۷۷)

بچوں کو خوش رکھیے


حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا:

((اِنَّ فِی الْجَنَّۃِ دَارًا یُقَالُ لَھَا دَارُ الْفَرْحِ لاَ یَدْخُلُھَا اِلَّامَنْ فَرِحَ الْاَطْفَالَ)) (کنز العمال)

’’جنت میں ایک گھر ہے جسے دار الفرح (خوشیوں کا گھر) کہا جاتا ہے اس میں وہ لوگ داخل ہوں گے جو اپنے بچوں کو خوش رکھتے ہیں۔‘‘

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے بچوں کو خوش رکھنے پر جنت کی بشارت سنائی ہے۔ جس سے معلوم ہوا کہ بچوں کو خوش رکھنا اللہ کی رضا مندی کا سبب ہے۔

بچوں کو خوش رکھنے کے کئی طریقے ہیں مثلاً بچوں کے ساتھ کبھی کبھار ان کے کھیل میں شریک ہونا‘ ان کی جائز ننھی خواہشات کو پورا کرنا ‘ ان کے ساتھ اچھے اخلاق اور خندہ پیشانی سے پیش آنا‘ انہیں کبھی کبھار کوئی ایسا لطیفہ سنانا جس سے وہ خوش ہو کر بے اختیار ہنس پڑیں لیکن اس میں خیال رہے کہ وہ مزاح جھوٹ بھی نہ ہو اور اس سے کسی کی توہین بھی مقصود نہ ہو اور نہ ہی اس میں غیبت کا کوئی پہلو ہو۔ جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم فرمایا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ ایک بوڑھی عورت نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ میرے لئے دعا فرمائیں کہ میں جنت میں داخل ہو جاؤں تو حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جنت میں تو بڑھیا نہیں جاسکتی‘ اس پر وہ رونے لگی تو آپ نے تبسم فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جنت میں داخل کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ سب مسلمان ہوتا تھا اور

مرد و عورت کو دوبارہ جوان بنا دیں گے (یعنی تمہیں بھی جوان کر کے جنت میں داخل کیا جائے گا ) یہ سن کر وہ خوش ہوگئی۔

دیکھئے اس مزاح میں نہ جھوٹ ہے نہ کسی پر چوٹ اور غیبت اگر اس طرز پر آپ بھی اپنے بچوں سے مزاح کریں تو بہت مستحسن ہے لیکن ایک بات کا خیال رکھیے کہ موقع محل دیکھ کر مزاح کریں تاکہ آپ کا وقار برقرار رہے ورنہ زیادہ مزاح نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ اس لئے مناسب موقع پر اور کبھی کبھار ہی مزاح کیا کریں اور بچوں کو بھی اس کی عادت ڈالیے کہ وہ خوش اخلاق اور خوش مزاج ہوں ان کے چہرے پر ہر حال میں مسکراہٹ سجی ہوئی ہو اس لئے کہ مسلمان کی شان یہی ہے کہ چاہے کتنی ہی پریشانیاں ہوں کسی حال میں بھی وہ ماتھے پر شکن نہیں آنے دیتا اور یہی عادت مسلمان کو تمام اقوام عالم میں امتیاز بخشتی ہے۔

اس لئے عرض ہے کہ اپنے بچوں کو خوش رکھیے اور اس پر اللہ سے اجر کی امید رکھیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے خوشیو ں کے گھر کی خوشخبری سنا دی ہے ان سے بڑھ کر سچے کون ہوسکتے ہیں؟ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس پ ر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

اولاد کو وقت کی قدر کرنے کی ترغیت


ماہرین تربیت کے ہاں معروف ہے کہ اگر بچے کو فراغت زیادہ میسر ہو تو اس کا افکار وخیالات اس طرح خراب ہو جاتے ہیں کہ پھر کام میں مشغول ہو کر بھی ان سے چھٹکارا نہیں پا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ بچے کو تو کیا؟ کسی بڑے کو بھی فراغت و بیکاری میسر ہو تو پریشانی کے شیاطین اس پر حملہ آور ہونے میں دیر نہیں لگاتے

اس حالت میں تربیت کرنے والے پر لازم ہے کہ وہ بچے کو کسی ایسے کام میں مشغول کرے جو اس کے پورے وقت کو مصروف کر دے اور غلط خیالات و افکار کو اس کے ذہن سے نکال کر پھینک دے۔ ’’ڈیل کارنیگی‘‘ کا کہنا ہے ’’جب ہم کسی کام میں مگن ہوتے ہیں تو کسی ذہنی پریشانی کا تصور تک نہیں ہوتا اور جب فارغ ہوتے ہیں تو ذہنی خیالات کے اعتبار خطرناک ترین لمحات میں ہوتے ہیں۔‘‘

یہی وجہ ہے کہ اگر بچہ سارا وقت بیکار گزارتا ہے اور تربیت کرنے والے اس کے ذہنی خیالات کی نگرانی بھی نہیں کرتے ہیں تو بلاشبہ وہ بچہ شکوک و شبہات اور وساوس و افکار کی زنجیر میں بری طرح جکڑ جاتا ہے جو ساری زندگی پریشان رہتا ہے اسی وجہ سے مربی پر لازم ہے کہ وہ فراغت کے اوہام و افکار سے بچے کی بھرپور حفاظت کرے‘ اور وقت کی اہمیت اور قدر و قیمت کو اس کے دل و دماغ میں بٹھانے کی ہر ممکن کوشش کرے چنانچہ روز مرہ امور میں مصروف رکھنے کے ساتھ ساتھ ذہنی و بدنی تفریح کیلئے مناسب سامان بھی مہیا کرے اور نفس کی شرارتوں سے بچے کو محفوظ کرنے کی بھی حتی الوسع کوشش کرے۔ اس لئے کہ جب بچہ پورے وقت کاموں میں مصروف ہو گا تو فراغت و بیکاری کے غلط اثرات سے حفاظت ہو سکتی ہے۔

فراغت و بیکاری ہزاروں نقصانات کا باعث ہے اور بے شمار کفایات و مواہب کو برباد کر دیتی ہے‘ اور فوائد و ضروریات کو وقت کی بے وقعتی کے پس پردہ ایسے چھپا دیتی ہے جیسے سونے اور لوہے کے خزانے مجہول کانوں میں چھپے ہوئے ہوتے ہیں وقت کی یہ بے قدری‘ اجتماعی نفسیاتی اور فکری مصائب کے ساتھ دو چار کر دیتی ہے۔

سیدنا حضرت عمر t کے بارے میں مروی ہے: وہ فرمایا کرتے تھے‘ اگر میں کسی شخص سے ملاقات کروں اور وہ مجھے اچھا لگے تو اس سے پوچھتا ہوں اس کا کوئی مشغلہ بھی ہے؟ اگر مجھے پتہ چل جاتا ہے کہ وہ بیکار ہے تو وہ میری نظروں سے گر جاتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے وقت کی اہمیت اور ضرورت اور بے قدری کی ممانعت کی طرف ان الفاظ سے ارشاد فرمایا ہے:

((اِنَّ الصَّحَۃَ وَالْفَرَاغَۃَ نِعْمَتَانِ مِنْ نِعَمِ اللّٰہِ مَغْبُوْنٌ فِیْھِمَا کَثِیْرٌ مِنَّ النَّاسِ)) (سنن دارمی:۲۹۷)

’’صحت اور فراغت نعمت الٰہی میں سے ہیں بہت سے لوگ وقت اور صحت کے متعلق خسارے میں واقع ہیں۔‘‘

یعنی بہت سے لوگ وقت و فراغت کی نعمت سے کام نہیں لیتے بلکہ اس کو ضائع کرکے آخرت کے عظیم فوائد سے محروم ہوتے ہیں۔

حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنھم صلحاء اور تابعین وقت کی حفاظت کے متعلق انتہائی حریص تھے۔ چنانچہ مشہور تابعی حضرت حسن بصری h کے بارے میں آیا ہے کہ وہ اپنے تلامذہ اور وقت کے علماء سے فرمایا کرتے تھے کہ میں نے حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو دیکھا کہ وہ وقت کی اتنی حفاظت کرتے تھے جتنی تم اپنے دنانیر و دراہم کی حفاظت نہیں کرتے

گھر میں رہنے کی عادت ڈالی جائے

چھوٹے بچوں کو ماں یا باپ کے ساتھ گھر سے باہر جانے کی عادت نہ ڈالی جائےخصوصاً باپ کے ساتھ اسے باہر جانے سے روکا جائے اور گھر میں رہنے کی عادت ڈالی جائے‘ لیکن بچے کو کبھی کبھی باپ کے ہمراہ مسجد ضرور بھیجا جائے‘ بالکل ابتدائی عمر میں بچے کا ہمیشہ باپ کی گود سے چمٹا رہنا خاصاً پریشان کن ہوتا ہے لہٰذا اس طرح کی عادت سے پرہیز بہتر ہے۔ البتہ جو بچہ سمجھدار ہو جائے تو اسے باپ‘ بڑے بھائی یا کسی دوسرے عزیز کے ساتھ ہی گھر سے نکلنا چاہیے ورنہ وہ کسی خطرے کا شکار ہو سکتا ہے۔

بڑوں کا ادب کرنا سکھائیے

بچے کو اپنے سے بڑے کی عزت اور احترام کرنے کی تعلیم دی جائے‘ وہ اپنے والدین یا اپنے بڑے کے آگے نہ چلے۔ جب وہ والدین کے ہمراہ ہو تو والدین سے پہلے گھر میں داخل نہ ہو‘ کیونکہ اسلام اپنے بیٹوں کی تربیت بہترین ادب اور حسن سلوک پر کرتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے کہ:

((مَنْ لَّمْ یَرْحَمْ صَغِیْرَنَا وَلَمْ یُؤَقِّرْ کَبِیْرَنَا فَلَیْسَ مِنَّا)) [سنن ابی داؤد]

’’ہم جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہیں کرتا اور ہمارے بڑوں کی عزت نہیں کرتا وہ ہم میں سے نہیں۔‘‘

سڑک کے بجائے فٹ پاتھ پر چلنا سکھائیے

بچے کو فٹ پاتھ پر چلنے کی ہدایت کی جائے تا کہ وہ کسی خطرے کا سامنا نہ کرے اور اسے سمجھایا جائے کہ وہ راستے میں نہ کھیلے‘ بلکہ گھر پہنچنے میں جلدی کیا کرے‘ ماں باپ اپنے بچوں کو سڑکوں پر آوارہ نہ گھومنے دیں اور نہ گلیوں اور بازاروں میں کھیلنے کی اجازت دیں۔ انہیں سڑک عبور کرنے سے قبل دائیں بائیں دیکھنے کی تعلیم دیں تا کہ وہ سڑک خالی ہونے کا یقین کر لیں۔

کوڑا پھینکنا سکھائیے

بچے کی تربیت کی جائے کہ وہ کوڑا کرکٹ سڑک پر نہ پھینکے بلکہ مخصوص جگہ پر پھینکے۔ جب وہ گاڑی میں ہو تو چھلکے وغیرہ پلاسٹک کی تھیلی میں ڈال لے اور بعد میں اسے کوڑا کرکٹ کی مخصوص جگہ پر پھینک دے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے:

’’ایمان کی ستر سے کچھ زائد شاخیں ہیں‘ ان میں سب سے اعلیٰ لا الہ الا اللہ اور سب سے ادنیٰ راستے سے کسی تکلیف دہ چیز کا ہٹانا ہے۔‘‘ (بخاری)

یورپین ان عادات پر بڑا فخر کرتے ہیں ہم ان سے کہتے ہیں کہ ہمارا دین نہ صرف کوڑے کو راستے میں پھینکنے سے روکتا ہے بلکہ راستے سے ہٹانے کو ایمان کا حصہ شمار کرتا ہے۔

بچگانہ حرکت اور تقلید کی عادت سے روکیے

والد کا فرض ہے کہ وہ اپنے بیٹے کی حرکات و سکنات اور باتوں کا دھیان رکھے۔ کیونکہ وہ گھر کی صاف شفاف‘ مانوس اور ہم ذہن سوسائٹی سے اسکول کی سوسائٹی میں جاتا ہے جو مختلف خاندانوں اور گھرانوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ بچہ اسکول میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ اکٹھا ہوتا ہے جو باہم مختلف عادات اور مختلف اخلاق کے ہوتے ہیں۔ وہ ان سے ہر طرح کے اچھے برے کلمات سنتا ہے اور ان کی نئی نئی حرکتیں دیکھتا ہے اس طرح بچی بھی اپنے اسکول کی ہم جولیوں اور استانیوں سے متاثر ہوتی ہے باپ کو چاہیے کہ وہ جب ان سے کوئی نازیبا حرکت دیکھے یا ناپسندیدہ بات سنے تو ان کی گرفت میں جلدی نہ کرے‘ اس کا علاج بڑی حکمت‘ دانائی اور غور و فکر سے کرے‘ کیونکہ انسان ماحول اور معاشرے میں ہی پروان چڑھتا ہے۔ چنانچہ وہ معاشرے کو متاثر کرتا بھی ہے اور خود بھی متاثر ہوتا ہے۔ لہٰذا بچہ غیر ارادی طور پر بغیر محنت کے دوسروں سے بہت کچھ سیکھتا ہے۔ والد کا فرص ہے کہ اسے تہذیب سکھائے اور اسے ان بری عادات سے پاک کرے۔ جو اس نے دوسروں سے سیکھی ہیں۔ اور یہ کام صبر اور حکمت سے انجام دے‘ والد بچے کو بری عادت کے نقصان بتائے اور اس کے انجام سے خبردار کرے‘ اس کے دل میں اچھائی کی محبت ڈالے اور اچھائی کرنے پر حوصلہ افزائی کرے۔

حسب قوت کام لینا سکھائیے

جب بچوں کو کوئی کام سونپا جائے تو وہ کام ان کی عقل اور جسمانی طاقت کے مطابق ہونا چاہیے۔ ایسے کام بچوں کے ذمے نہ لگائے جائیں جن کی وہ استطاعت نہ رکھتے ہوں‘ اگر انہیں ایسے کام سونپے جائیں گے تو وہ انہیں خراب کر دیں گے۔ اسی طرح انہیں وعظ و نصیحت کرتے وقت ان کی ذہنی صلاحیت کو مدنظر رکھا جائے اور انہیں مرحلہ وار ان کاموں کے قابل بنایا جائے جو ہم ان سے کروانا چاہتے ہیں۔

نمازی کے آگے سے گزرنے سے روکیے

والد کا فرض ہے کہ وہ بچے کو مناسب عمر میں اپنے ہمراہ مسجد لے جایا کرے‘ اسے مسجد کے آداب سکھائے اور اس کے دل میں مسجدوں کی حرمت اور تقدس بٹھائے کیونکہ مسجدیں اللہ کے گھر ہیں۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:

{وَاَنَّ الْمَسٰجْدَ لِلّٰہِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللّٰہِ اَحَدًا}

’’اور یہ کہ مسجدیں (خاص) اللہ کی ہیں‘ اور اللہ کے ساتھ کسی اور کی عبادت نہ کرو۔‘‘ (الجن:۱۸)

اور بچے کونمازی کے سامنے سے گزرنے سے روکے‘ کیونکہ اسلام نے نمازی کے سامنے سے گزرنے کو حرام کیا ہے اور اس سے خوب خبردار کیا ہے۔ حضرت ابو جہیم t سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:

((لَوْ یَعْلَمُ الْمَارُّ بَیْنَ یَدَیِ الْمُصَلِّیِ مَاذَا عَلَیْہِ لَکَانَ اَن یَّقِفَ اَرْبَعِیْنَ خَیْرٌ لَّہٗ مِنْ اَنْ یَمُرَّ بَیْنَ یَدَیْہ‘ قال: اَرْبَعِیْنَ یَوْمًا اَوْ شَھْرًا اَوْ سُنَّۃً))

’’اگر نمازی کے سامنے سے گزرنے والا یہ جان لے کہ اس کو کتنا سخت گناہ ہے تو وہ نمازی کے سامنے سے گزرنے سے چالیس تک ٹھہرا رہتااور نہ گزرنا بہتر خیال کرتا۔‘‘ ابو نصر راوی کا بیان ہے کہ چالیس سے کیا مراد ہے‘ مجھے یاد نہیں رہا‘ چالیس دن مراد ہیں کہ چالیس مہینے یا چالیس سال

Spread the love

Leave a Comment

%d bloggers like this: