Bachon ki Parwarish in Islam | Bachon ki tarbiyat in islam pdf | Bachon ki kahaniyan urdu pdf free | بچوں کی تربیت کے رہنما اصول Pdf

  بچے کے دل میں علماء کی اہمیت بٹھائیے

بچوں کی تربیت کے رہنما اصول Pdf

Bachon ki Parwarish in Islam | Bachon ki tarbiyat in islam pdf | Bachon ki kahaniyan urdu pdf free بچوں کی تربیت کے رہنما اصول Pdf


اگر یہ کہا جائے کہ تربیت کا یہ گوشہ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے تو مبالغہ نہ ہوگا۔ اس لئے کہ اگر بچے نے علماء و معلمین کے احترام و اکرام کی تربیت حاصل کرلی تو یقینا وہ دنیا و آخرت کی بے شمار بھلائیوں سے بہرہ ور ہوگیا۔ کیونکہ علم ایک نور ہے جو انسان کو مکمل طور پر منور کرتا ہے اور ہر طرح رہنمائی کرتا ہے اور دنیا و آخرت کی سعادت مندی اور خوش بختی کا باعث ہے۔

علماء و معلمین ہی اللہ تعالیٰ کے اولیاء اور احباء ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی معرفت سب سے زیادہ علماء ہی کو حاصل ہے۔ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے بھی یہی علماء ہیں۔

علماء اللہ کے دین مبین کی ترویج کرنے والے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سائے میں ہیں۔ یہی لوگ اللہ تعالیٰ کے ہاں بلند مرتبے اور عظیم قدر والے ہیں۔

حضرت ابن رجب حنبلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر علماء و فقہاء اللہ تعالیٰ کے اولیاء نہیں ہیں تو اللہ تعالیٰ کا کوئی ولی نہیں ہے۔

حضرت سہل بن تستری رحمہ اللہ بادشاہ اور علماء کی توقیر کو دنیا و آخرت کی کامیابی قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’لوگ جب تک علماء و سلاطین کی تعظیم کرتے رہیں گے خیر و بھلائی پر رہیں گے۔ اور اللہ تعالیٰ ان کی اصلاح فرمائیں گے اور اگر ان دونوں طبقات کو ہلکا سمجھیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کی دنیا و دین دونوں کو برباد کریں گے۔

تربیت کر نے والے پر یہ بھی لازم ہے کہ بچے کی نظر توجہ کو علماء و فقہاء کی محبت کی طرف مبذول کرائے چنانچہ بچے کے سامنے اللہ تعالیٰ کے ہاں علماء کی فضیلت ‘ ان کے اچھے کردار اور ان کی اچھائیاں کھول کھول کر بیان کرے تاکہ بچے کے دل میں علماء کی محبت اور ان کی تعظیم خوب جاگزیں ہوسکے اور بچوں کے سامنے علماء کے نام بیان کرنے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں ہے کیونکہ نام لینے سے بچے علماء کے ناموں سے واقف ہوں گے۔ علماء ‘ صحابہ اور عبادلہ اربعہ (عبد اللہ بن مسعود‘ عبد اللہ بن عمر‘ عبد اللہ بن عباس اور عبد اللہ بن زبیر] کا تذکرہ ہو‘ فقہائے مدینہ کا تذکرہ ہو‘ ائمہ اربعہ رحمہم اللہ کے اوصاف اور ان کے اسمائے گرامی بیان کیے جائیں‘ ان کے علاوہ دنیا میں علم دین پھیلانے والے علماء کرام کے اسمائے گرامی اوران کے مناقب بچوں کے سامنے بیان کیے جائیں۔

اسی طرح علماء کی محبت‘ ان کا و قار‘ ان کی ہیبت اور ان کی قدرو منزلت بچوںکے دل میں بٹھانے کی صورت یہ ہے کہ ان کو علماء کی مجالس میں لے جایا جائے۔ لوگوں کے علماء کے ساتھ ادب و احترام اور تعظیم سے پیش آنے کا منظر دکھایا جائے اس حضرت لقمان حکیم بھی اپنے بچوں کو علماء فقہاء کی صحبت اختیار کر نے کی نصیحت فرمایا کرتے تھے اور یوں فرماتے تھے ’’اے پیارے بیٹوں! علماء کی مجالس اختیار کرو اور علماء کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کرو ‘ اس سے اللہ تعالیٰ دلوں کو علم و حکمت سے ایسے زندہ کر دیتے ہیں جیسا کہ بنجر زمین کو بارش سے آباد کرتے ہیں۔

Bachon ki Parwarish in Islam

بچے کو سوال سے بچائیے

اسی طرح والدین کو چاہیے کہ بچے کو لینے کا عادی نہ بنائیں اس لئے کہ ہر ایک سے لیتے رہنا اچھی عادت نہیں حدیث شریف کامفہوم ہے:

((اَلْیَدُ الْعُلْیَا خَیْرٌ مِّنَ الْیَدِ السُّفْلٰی)) [مسلم]

’’اوپر والاہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔‘‘

اوپر والے ہاتھ سے مراد دینے والا ہاتھ ہے اور نیچے والے ہاتھ سے مراد لینے والا ہاتھ ہے اور جب لینے کی عادت بن جاتی ہے تو لینا اس کی طبیعت میں شامل ہو جاتا ہے۔

حضرت مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر صاحب اطال اللہ بقاء نے ایک مرتبہ ارشاد فرمایا تھا کہ جب لینے کی عادت بن جاتی ہے تو انسان ہر موقع پر بس یہی سوچتا ہے کہ بس مجھ ہی کو مل جائے اگر کہیں ملنے جائے تو پوچھتا ہے کہ میں آؤنگا تو آپ کیا دیں گے اور کوئی اس کے پاس آنا چاہے تو پوچھتا ہے کہ جب آپ آئیں گے تو کیا لے کر آئیں گے ‘ بچپن ہی سے بچوں کو نہ لینے کا عادی بنایا جائے۔

بچہ کو عطا کرنے کی عادت سکھائیں

اور بہتر یہ ہے کہ اس کو ترغیب دے کر اس بات کی عادت بھی ڈالی جائے کہ وہ دوسروں کو دینا سیکھے کیونکہ لینا ایک ناپسندیدہ بات ہے اور دوسروں پر خرچ کرنا ایک اچھی صفت ہے۔

ایک روایت کا مفہوم ہے کہ سخی جنت سے قریب ہے‘ اللہ سے قریب ہے‘ لوگوں سے قریب ہے اور جہنم سے دور ہے اور بخیل شخص جنت سے دور‘ اللہ سے دور‘ لوگوں سے دور اور جہنم سے قریب ہے۔

لہٰذا بچے کو صرف لینے کا عادی نہ بنایاجائے بلکہ اس کو اعتدال کے ساتھ عطاء و انفاق کی بھی ترغیب دی جائے کہ سارا اپنے اوپر ہی استعمال نہ کر لو بلکہ اس میں سے کچھ دوسروں کو بھی دے دو جیسا کہ حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ نے آپ بیتی میں اپنے متعلق لکھا ہے کہ بچپن میں والدہ کچھ دینے کے بعد ساتھ یہ ترغیب بھی دیا کرتی تھیں کہ اس کو اوروں پر بھی خرچ کر دینا اس اچھی تربیت کا نتیجہ یہ نکلا کہ اللہ تعالیٰ نے علم و فضل میں ان کو اتنا بڑا مقام نصیب کیا کہ مولانا زکریا صاحب رحمہ اللہ کو حضرت شیخ الحدیث مولانا محمدزکریا رحمہ اللہ جیسے اعلیٰ منصب تک پہنچا دیا بچوں کی اچھی تربیت کے لئے حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کی تصنیف ’’آپ بیتی‘‘ گنج ہائے گراں مایہ ہے۔اسی طرح خرچ کرنے کے فضائل کو حضر ت شیخ الحدیث رحمہ اللہ نے ’’فضائل صدقات‘‘ میں جس تفصیل سے اور بہترین اسلوب میں بیان کیا ہے اس کے متعلق کچھ کہنے کی لب کشائی کرنا مخمل میں ٹاٹ کا پیوند لگانے کے مشابہ ہے۔

bachon ki tarbiyat in islam pdf

بچے کو خیانت سے بچائیے

اسی طرح بچے کو خیانت‘ چوری اور جھوٹ سے بچایا جائے یہ بری خصلتیں جب کسی انسان میں پیدا ہو جائیں تو اس کو کسی کام کا نہیں رکھتیں اور دنیا و آخرت میں اس کو ذلیل و رسوا کر کے چھوڑتی ہیں جھوٹ تو ہے ہی ام الخبائث ایک بار جھوٹ کا چسکہ لگ جائے تو اترتا نہیں پھر جھوٹ کو چھپانے کے لئے انسان سو جھوٹ اور بھی بولتا ہے اور پھر بالآخر جھوٹ پکڑا ہی جاتا ہے حکماء نے جھوٹ کو سم قاتل (زہر قاتل) لکھا ہے خطرناک زہر سے بچے کی حفاظت جس طرح کی جاتی ہے اسی طرح ان اخلاق رذائل سے بچوں کو بچانا چاہئے اور اس کی صورت یہ ہے کہ بچپن ہی سے ان اشیاء کی مذمت اور برائی کو ان کے ذہنوں میں بٹھایا جائے ورنہ یہ سم قاتل دنیا و آخرت کی ہر سعات کو فاسد اور دین کی ہر فلاح سے انسان کو محروم کر دیتا ہے۔‘‘

بچے کو سلام کر نے کی تعلیم دیجئے

بچے کو سلام کرنے کی تعلیم دینا ضروری ہے اورسلام سے مراد ’’السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ‘‘ کہنا ہے۔ جب بچہ گھر میں داخل ہو‘ کسی سے ملے‘ یا لوگوں کے قریب سے گزرے‘ یا مسجد میں جائے یا ٹیلی فون پر کسی سے بات کرے تو ضرور سلام کہے۔ اگر بچہ ٹیلی فون سنے تو سلام کہنے کے بعد فون کرنے والے کا نام اور کام پوچھ لے تاکہ وہ گھر والوں کو پیغام دے سکے۔

اللہ تعالیٰ کا قرآن مجید میں ارشاد ہے:

{فَاِذَا دَخَلْتُمْ بُیُوْتاً فَسَلِّمُوْا عَلٰی اَنْفُسِکُمْ تَحِیَّۃً مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ مُبٰرَکَۃً طَیّْبَۃً} (النور:۶۱)

’’اور جب تم گھروں میں جایا کرو تو (اپنے گھر والوں کو) سلام کیا کرو‘یہ اللہ کی طرف سے مبارک اور پاکیزہ تحفہ ہے۔‘‘

حضرت ابوہریرہtروایت بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا:

((یُسَلِّمُ الرَّاکِبُ عَلَی الْمَاشِی وَالْمَاشِی عَلَی الْقَاعِدِ وَالْقَلِیْلُ عَلَی الْکَثِیْرِ وَالصَّغِیْرُ عَلٰی الْکَبِیْرِ))

’’سوار پید ل چلنے والے کو‘ پید ل چلنے والا بیٹھے ہوئے کو‘ تھوڑے آدمی زیادہ آدمیوں کو اور چھوٹا بڑے کو سلام کہے

Bachon ki Parwarish in Islam | Bachon ki tarbiyat in islam pdf | Bachon ki kahaniyan urdu pdf free | بچوں کی تربیت کے رہنما اصول Pdf

بچوں کو عربی زبان سکھائیے

محترم والدین ہم آج کل جس طرح اپنے بچوں کو غیر مادری اور غیر ملکی زبانوں مثلاً انگریزی اور فرانسیسی و غیرہ کی تعلیم دلواتے ہیں اسی طرح انہیں عربی زبان کی تعلیم بھی دینی چاہیے‘ کیونکہ یہ زبان اسلام کی زبان ہے‘ قرآن مجید اور محمد عربی صلی اللہ علیہ و سلم کی زبان ہے‘ اس سے ہمیں قرآن مجید‘ حدیث شریف‘ سیرت نبوی صلی اللہ علیہ و سلم اور دینی کتابوں کا مطالعہ کرنے اور سمجھنے میں مدد ملے گی۔

اسلام نے عربی زبان کو جو اہمیت دی ہے اس کا اندازہ ہم اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ قرآن پاک اللہ تعالیٰ نے عربی زبان میں اتارا۔ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی زبان عربی تھی‘ اسلام عربی زبان سے دنیا میں پھیلا اور سب سے بڑی بات جنت میں جنتیوں کی زبان بھی عربی ہوگی۔ ایک حدیث میں ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ و سلم ہے:

’’عربی زبان سے تین وجوہات سے محبت کرو قرآن کی زبان عربی ہے !جنت کی زبان عربی ہے “میری زبان بھی عربی ہے۔

اگر ہم عربی زبان سے ناواقف ہیں تو آج ہی سے یہ نیت سے کریں کہ ہم اپنے بچوں کو عربی زبان سکھائیں گے تاکہ وہ قرآن جو کہ عربی میں ہے اس کے صحیح مفہوم کو اور حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے عربی میں جو ارشادات ہیں ان کو سمجھ سکیں اور عربی زبان میں جو دعائیں دن اور رات کی ہیں ان کے صحیح معنی کو سمجھ سکیں کیونکہ جب قرآنی آیات اور دعاؤں کے معنی معلوم ہوں گے تو اتنا ہی شوق اور لذت محسوس ہوگی اس کے لئے ہم آج ہی سے اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگیں کہ اے اللہ! ہمیں اور ہمارے بچوں کو عربی سیکھنے کی توفیق دے تاکہ ہم اور ہمارے بچے قرآن و حدیث کے صحیح مفہوم کو سمجھ سکیں‘ اس کی آسان صورت یہ ہے کہ سکھانے والی کوئی عربی کتاب خرید کر بچوں کو پڑھائیں اور چند چھوٹی چیزوں کے عربی میں نام یاد کرائیں اور روزانہ ان کی مشق کرائیں۔

بچوں کو ماں باپ کا نام و پتہ ضرور یاد کرادینا چاہیے

بچوں کو ماں باپ بلکہ دادا کانا بھی یاد کرادیں اور کبھی کبھی پوچھتے رہا کریں تاکہ اس کو یاد رہے۔ اس میں یہ فائدہ ہے کہ اگر خدانخواستہ بچہ کھو جائے اور کوئی اس سے پوچھے کہ تو کس کا ہے‘ تیرے ماں باپ کون ہیں تو اگر بچے کو نام یاد ہوں گے تو بتلا دے گا پھر کوئی نہ کوئی اسے آپ کے پاس پہنچا دے گا اور اگر یاد نہ ہوا تو پوچھنے پر اتنا ہی کہے گا کہ میں اماں کا ہوں‘ ابا کا ہوں یہ خبر نہیں کہ کون اماں کون ابا۔

بچوں کے ساتھ پیار اور سختی کا ایک تجربہ

بچے کو اکثر والدین چھوٹا سمجھ کر اچھا برا جس طرح کا سلوک کرنا چاہیں کر لیتے ہیں اور اس میں اس کی کسی حق تلفی کا انہیں شبہ بھی نہیں ہوتا۔ یقین کیجئے ۲ماہ کے بچے کو بھی اپنی عزت نفس‘ خوشی‘ غم اور غصے کا احساس ہوتا ہے۔ تجربہ کرلیں نفرت یا غصے سے اس کے گال پر ہلکی سی چپت لگائیں اور اس کے بر خلاف محبت اور گرم جوشی سے یہی چپت مقابلۃً زیادہ زور سے لگائیں۔

پہلی چپت پر بچہ رو نے لگے گا جبکہ دوسری چپت پر باوجود زیادہ تکلیف دہ ہونے کے مسکرائے گا کیوں؟

اسلامی تعلیمات بھی اس کی مقتضی ہیں کہ چھوٹوں کے ساتھ شفقت ‘ عفو و درگزر و محبت کا سلوک کیا جائے اور سختی وہیں کی جائے جہاں اور جب اس کی اجازت یا تعلیم ہو اس کے بارے میں علمائے کرام سے رجوع کر کے ہر موقع محل کے بارے میں تفصیلی علم حاصل کرنا والدین پر فرض ہے۔

تربیت بذریعہ خطاء

بعض والدین کو دیکھا گیا ہے کہ جہاں بچے نے کانچ کا برتن اٹھا کر کہیں رکھنا چاہا فوراً تیز آواز سے منع کر دیا جاتا ہے کہ ارے تم برتن گرادو گے۔ بعض مائیں اپنی لڑکیوں کو کچن کے کاموں میں یہی سوچ کر شامل نہیں کرتی ہیں کہ وہ ہاتھ جلا لیں گی‘ روٹی خراب کر دیں گی یا سالن جلا دیں گی۔ بچے نے سائیکل چلانے کی بات کی اور فوراً ڈانٹ پڑگئی کہ چوٹ لگ جائے گی۔

غلطی‘ خطا یا ناکامی کو عموماً منفی محرکات میں شمار کیا جاتا ہے‘ لیکن ماہرین تعلیم

وتربیت نے اسے بھی سیکھنے کا اہم ذریعہ قرار دیا ہے۔ زندگی کے تجربات میں کسی مقام پر ناکامی یا غلطی بچے کو اس کام کے اچھے یا برے پہلو سے آشنا کرتی ہے۔ ایک بچہ چلنا سیکھتا ہے تو بار بار گرتا ہے پھر سنبھلتا ہے اور ایک وقت آتا ہے کہ وہ ان غلطیوں سے تجربہ حاصل کر کے اپنا توازن کنٹرول کرنے کے فن سے آگاہ ہو جاتا ہے ایک بچہ سائیکل چلانا سیکھتا ہے تو یہ عین ممکن ہے وہ اگر لے بھی لیکن یہ خطا اسے صلی اللہ علیہ و سلم rr علیھم السلام rاس فن میں ماہر بنا دے گی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی تجربات سے گزرنے اوران میں ٹھوکر کھانے کو ایک مثبت عمل قرار دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے ہیں: ’’ٹھوکر کے بغیر انسان برباد نہیں ہوتا اور تجربے کے بغیراسے حکمت نہیں ملتی۔‘‘ (ترمذی)

اسی طرح کی ایک بات حضرت علی tنے بھی فرمائی ’’میں نے اللہ کو اپنے ارادے کی ناکامی سے پہچانا۔‘‘

بچوں کی چھوٹی غلطیوں سے درگزر کیجئے

درگزر کا مطلب کسی غلطی کی نشاندہی ہونے کے بعد اس کو معاف کر دینا یا چشم پوشی اختیار کرنا ہے بعض مواقع پر کسی کی غلطی پر سرزنش کرنا ضروری ہو جاتا ہے لیکن ایسے مواقع بھی آتے ہیں کہ کسی کی غلطی سے درگزر کرنا اسے دوبارہ غلطی دہرانے سے باز رکھتا ہے۔ درگزر بسا اوقات ایک مضبوط تربیتی وسیلہ بن جاتا ہے اور مذکورہ شخص ناصرف غلطی دہرانے سے اغماض برتتا ہے بلکہ درگزر کر نے والے کی عزت و تکریم اس کے دل میں بڑھ جاتی ہے۔

حضرت انسtدس سال کے بچے ہی تھے کہ ان کی والدہ ام سلیمr انہیں سرور کونین صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں لے آئیں۔ حضرت انسtسے کام میں کوتاہیاں بھی ہوتی تھیں‘ بہت سے کام بننے کے بجائے بگڑ جاتے مگر دس سال کی طویل رفاقت کے دوران پیکر عفو کرم سیدنا حضورp نے کبھی حضرت انسtکو سزا نہیں دی یہاں تک کہ کبھی ڈانٹا تک نہیں۔ حضرت انسtخود فرماتے ہیں ’’میں نے جو کام بھی کیا ٹھیک ہوگیا یا خراب کبھی حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ نہیں فرمایا کہ یہ تم نے کیوں کیا۔‘‘ (داعی اعظم از محمد یوسف اصلاحی)

اس واقعے میں حضور پاک صلی اللہ علیہ و سلم کی بصیرت افروز تربیت کا واضح اشارہ موجود ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اتنا زبردست طریقہ اختیار کیا کہ حضرت انس t کے اندر احساس ذمے داری بڑھ گیا اور یوں وہ اپنی غلطیوں کو خود ہی درست کر نے کے قابل ہوئے۔

ایک روز ام قیس بنت محصن tاپنے شیر خوار بچے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں لائیں۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ و سلم نے اس بچے کو اپنی گود میں لے لیا‘ بچے نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے کپڑوں پر پیشاب گرایا۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس واقعے پر کسی کو کچھ نہیں کہا بلکہ پانی سے کپڑے دھو لیے۔ گو کہ اس واقعے میں اتنے چھوٹے بچے کی تربیت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا لیکن اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے مزاج اقدس کا احساس ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم بچوں سے کتنی محبت کیا کرتے تھے۔ (تذکار صحابیات از طالب الہاشمی)

تربیت بذریعہ تعظیم و تکریم

علمائے باطن فرماتے ہیں کہ انسان کی عظمت اور برتری کا راز یہ ہے کہ انسان اپنی اچھائیاں ظاہر کرتا ہے اور برائیاں چھپاتا ہے۔ حیوانات میں صلاحیت نہیں‘ خود کو بہتر سے بہتر ثابت کر نے کا جنون ہی انسانی ارتقاء کی بنیادی وجہ ہے۔ ہر شخص خود کو منوانا چاہتا ہے‘ وہ چاہتا ہے کہ لوگ اس کی صلاحیتوں کا احترام کریں‘ اسے تکریم سے نوازیں‘ اس کی عزت نفس کا پاس کریں‘ اس بات سے کوئی فرد واحد بھی انکار نہیں کر سکتا کہ ہر شخص کی عزت نفس ہوتی ہے چاہیے وہ بادشاہ ہو یا دست نگر‘ امیر ہو یا غریب‘ بوڑھا ہو یا معصوم بچہ‘ بچہ بھی ایک مکمل انسان ہے اس کے اندر تما م جذبات و احساسات موجود ہوتے ہیں۔ یہ دوسری بات ہے کہ وہ احساسات کو الفاظ کا جامہ پہنانا نہیں جانتا‘ ماہرین بتاتے ہیں کہ جو بچے بچپن میں سراہے جانے سے محروم رہ جاتے ہیں ان کی شخصیت میں واضح خلاء باقی رہ جاتا ہے۔ عزت و تکریم کے قابل صرف بڑے ہی نہیں بلکہ بچے بھی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: ’’اپنی اولاد کی عزت کرو اور انہیں اچھا طریقہ سکھاؤ۔‘‘ (ابن ماجہ

حلال و حرام کی تمیز

ابن جریر اور ابن منذر حضرت عبد اللہ بن عباسw سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: اللہ کی اطاعت کرو اور اللہ کی نافرمانی سے بچو اور اپنی اولاد کو احکامات پر عمل کرنے اور جن چیزوں سے روکا گیا ہے ان سے بچنے کا حکم کرو۔ اس لئے کہ یہ تمہارے اور ان کے آگ سے بچنے کا ذریعہ ہے۔

اس میں راز یہ ہے کہ جب سے بچے کی آنکھ کھلے وہ اللہ کے احکامات پر عمل کر نے والا ہو اور ان کی بجا آوری کا اپنے آپ کو عادی بنائے اور جن چیزوں سے روکا گیا ہے ان سے بچے اور ان سے دو ررہنے کی مشق کرے اور بچہ عقل و شعور کے پیدا ہوتے ہی جب حلال و حرام کے احکامات کو سمجھنے لگے لگا اور بچپن ہی سے شریعت کے احکام سے اس کا ربط ہوگا تو وہ اسلام کے علاوہ کسی اور دین و مذہب کو شریعت اور منہاج کو نہیں سمجھے گا۔

ملحدانہ افکار

یہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ آ پ کے سامنے اپنے معاشرہ کی کچھ حقیقی اور واقعی مثالیں اور گندے اورآزاد ماحول کی کچھ تصویر کشی ہو کی تاکہ آپ کو ان عوامل کا پتہ چل جا ئے جو بچے کے عقیدہ و اخلاق میں انحراف کاذریعہ بنتے ہیں اور ساتھ ہی آپ کو یہ بھی معلوم ہو جائے کہ اگر والدین اور سرپرستوں نے اپنی اولاد کی تربیت میں تساہل سے کام لیا تو عام طور سے ایسا ہوتا ہے کہ بچے کجی اور گمراہی کی طرف مائل ہو جاتے ہیں اور کفر و الحاد کی بنیادی باتوں کو اپنا لیتے ہیں۔

جو والدین اپنے بچوں کو غیر مسلموں کے اسکولوں اور مشنری تعلیم گاہوں میں تعلیم حاصل کرنے بھیجتے ہیں۔ جہاں بچے عیسائی اساتذہ سے تعلیم و تربیت حاصل کرتے ہیں تو اس کا لازمی اثر یہ ہوتا ہے کہ بچہ کجی اور گمراہی پر بڑھتاپلتا ہے اور کفر و الحاد کی جانب آہستہ آہستہ راغب ہو جاتا ہے بلکہ اس کے دل میں اسلام سے بغض راسخ ہوجاتا ہے۔

جو باپ اپنے بچے کی باگ ڈور ایسے ملحد اساتذہ اور گندے مربیوں کے ہاتھ میں دے دیتے ہیں جو ان بچوں کو کفر کی باتیں سکھاتے ہیں اور ان کے دل میں گمراہی یج بودیتے ہیں تو ظاہر بات ہے کہ بچہ الحادی تربیت اور خطرناک لادینی نظریات میں نشوونما پائے گا۔

جو باپ اپنے بیٹے کویہ اجازت دیتا ہے کہ وہ جن ملحدوں اور مادہ پرستوں کی کتابوں کا چاہے مطالعہ کرے عیسائیوں اور استعمار پسندوں نے اسلام پر جو اعتراضات کئے ہیں ان میں سے جس کا چاہے مطالعہ کرے تو ظاہر ہے کہ ایسا بچہ اپنے دین و عقیدہ کے بارے میں شک میں پڑ جائے گا اور اپنی تاریخ اور بزرگوں کا مذاق اڑائے گا اور اسلام کے بنیادی اصولوں کے خلاف جنگ کرے گا۔

جو باپ بھی اپنے بیٹے کو کھلی چھوٹ دے دے گا اور اسے بالکل آزاد چھوڑ دے گا تاکہ وہ جس گمراہ اور کج رو اور باطل پرست سے چاہے میل جول رکھے اور گمراہ خیالات اور درآمد شدہ غیر اسلامی افکار میں سے جس رائے اور خیال کو چاہئے اپنائے تو ظاہر بات ہے کہ بچہ لازمی طور سے تمام دینی اقدار اور ان اخلاقی بنیادی قواعد کا مذاق اڑائے گا جنہیں دین اسلام اور شریعتوں نے پیش کیاہے۔

جوباپ اپنے بیٹے کو یہ موقع فراہم کرے گا کہ وہ جن ملحدانہ و کافرانہ ذہن رکھنے والی جماعتوں اور لادین تنظیموں کے ساتھ منسلک ہونا چاہیے ہو جائے اور ایسی جماعتوں سے وابستہ ہو جائے جن کا اسلام سے عقیدہ و افکار اور تاریخ کسی لحاظ سے بھی جوڑ نہیں ہے تو بلاشبہ بچہ گمراہ کن عقائد او کافرانہ و ملحدانہ باتوں میں بڑھے پلے گا بلکہ وہ در حقیقت ادیان و مذاہب اور دینی و اخلاقی اقدار اور مقدسات کا کھلا دشمن ہوگا۔

Spread the love

Leave a Comment

%d bloggers like this: