Children’s Training PDF | How do Muslims educate children | Aulad ki tarbiyat | Tarbiyat e Aulad | Bachon ki tarbiyat

LASSON NO 1

 بچے کو ایمانداری سکھائیے

Children's Training PDF | How do Muslims educate children | Aulad ki tarbiyat | Tarbiyat e Aulad |  Bachon ki tarbiyat

بچوں میں بنیادی طور پر جو وصف پیدا کرنا ضروری ہے وہ ایمانداری ہے۔ ایمانداری کو دیانت اور امانت سے تعبیر کیا گیا ہے۔ دنیا داری میں آپس کے تمام معاملات کا دارومدار ایمانداری پر ہی ہے۔ ایمانداری سے مراد دوسرے کی امانت کو صحیح طرح پورا پوراادا کرنا ہے۔ اگر کوئی کسی سے کوئی چیز خریدتا ہے تو جتنے دام طے کر کے جیسی اور جتنی چیز کے وہ وصول کرتا ہے تو ان کے بدلے میں سچائی کے ساتھ اسے خریدی ہوئی چیز دیدے اور چیز دینے میں ہیر پھیر نہ کرے یعنی جس طرح کی چیز کی قیمت وصول کی ہے وہی دے‘ اسے ایمانداری کہا جائے گا اگر رقم تو اچھی چیز کی وصول کی لیکن چیز اسے ناقص دی تو یہ بے ایمانی کہلائے گی۔ ایمانداری اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے۔ ایسے ہی اگر کوئی ملازمت کرتا ہے تو جتنے گھنٹے ڈیوٹی دینے کا عوضانہ وہ وصول کرتا ہے تو دیانت کے ساتھ اتنا وقت ملازمت میں صرف کرے لیکن بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو دیانتداری سے اپنے فرائض انجام دیتے ہوں‘ ایمانداری سے کبھی بھی کسی کی حق تلفی نہ ہوگی۔

حضرت عبادہ بن صامت tسے روایت ہے کہ:

’’نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا مجھے اپنی چھ چیزوں کی ضمانت دو تو میں تمہیں جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔ جب بات کرو تو سچ بولو۔ !جب وعدہ کرو تو پورا کرو۔ “جب تمہارے پاس امانت رکھی جائے تو اسے ادا کر دو۔ #اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو۔ $اپنی نگاہیں نیچی رکھو۔ %اور اپنے ہاتھ روکے رکھو۔‘‘ (بیہقی‘ احمد)

حضرت عبد اللہ بن عمر tسے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جب تم میں چار باتیں ہوں تو دنیا میں باقی چیزیں نہ ملنے کا کوئی مضائقہ نہیں‘ امانت کی حفاظت‘ بات کی سچائی‘ اخلاق کی خوبی اور خوراک کی پاکیزگی۔ (احمد‘ بیہقی)

حضرت امام مالک رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ مجھے یہ بات پہنچی کہ لقمان حکیم سے کہا گیا کہ ہم جو دیکھتے ہیں اس مقام پر آپ کو کس چیز نے پہنچایا؟ فرمایاکہ سچی بات کرنے‘ امانت ادا کرنے اور بیکار گفتگو چھوڑ دینے نے۔ (مؤطا امام مالک)

اولاد کی تربیت کرتے وقت ان کے ذہنوں میں یہ بات ڈالنا بھی ضروری ہے کہ وہ اپنا ہر کام ایمانداری سے کریں۔ ایماندار بچے بہت جلد زندگی کے جس شعبے میں قدم رکھیں گے کامیاب ہوتے چلے جائیں گے کیونکہ ایمانداری میں قدرتی طور پر اللہ تعالیٰ برکت ڈال دیتا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ہر کام کو ایمانداری کے ساتھ پورا کرنے پر زور دیا ہے کیونکہ اچھی قوم کا اخلاق اسی وقت نمایاں ہوگا جبکہ وہ ایماندار ہوگی‘ امانت کے بارے میں بچوں کو حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی احادیث پر عمل کرنا سکھائیں۔

بچے کو توکل علی اللہ سکھائیے

اللہ پر توکل‘ اعتماد اور بھروسہ کرنا‘ نیز اللہ کے فیصلے اور تقدیر پر ایمان لانا تربیت اولاد کا اہم جزو ہونا چاہیے اور توکل علی اللہ مطلوبہ کاموں کی استعداد پیدا کرنے‘ ان کے اسباب اختیار کرنے ‘ صبر اور برداشت کے ساتھ ہو۔ دین حنیف ہمیں اسی طرح درس دیتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے اس دیہاتی سے فرمایاتھا کہ جس نےپنی اونٹنی کو کھلا چھوڑ دیا تھا:

((اِعْقَلْھَا وَتَوَکَّلْ))

’’اے باندھو اور پھر توکل کرو۔‘‘

جتنے بھی زندہ و جاوید انسان گزرے ہیں‘ وہ ماؤں ہی کی تربیت کا نتیجہ ہیں۔ لہٰذا ماں کو چاہیے کہ ماں خود بھی باکردار ‘ با اخلاق‘ کامل ایمان والی یقین راسخ کی حامل ہو اور اپنے بچے کو بھی اللہ عزوجل کی ذات پر سچا توکل کرنے والا بنائے۔

جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے۔

{وَمَنْ یَّتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ فَھُوَ حَسْبُہٗ} [طلاق:۳]

’’اور جو اللہ پر بھروسہ کرے تو وہ اسے کافی ہے۔‘‘

{اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُتَوَکِلِّیْنَ} [ال عمران:۱۵۹]

’’بے شک توکل والے اللہ کو پیارے ہیں۔‘‘

نیز احادیث مبارکہ میں توکل کی بہت تاکید آئی ہے۔

((عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ سُمِعْتُ رَسُوْلِ اللّٰہَ صلی اللہ علیہ و سلم یَقُوْلُ لَوْ اَنَّکُمْ تَتَوَکَّلُوْنَ عَلَی اللّٰہِ حَتّٰی تَوَکُّلِہ لَرَزَقَکُمْ کَمَا یُرْزَقُ الطَّیْرُ تَغْدُوْا خِمَاصاً وَ تَرُوْحُ بِطَانًا))

(ریاض الصالحین مترجم جلد اول صفحہ ۲۲)

’’حضرت عمر ابن الخطاب tفرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ اگر اللہ پر جیسا چاہے ویسا توکل کرو تو تم کو ایسے رزق دے جیسے پرندوں کو دیتا ہے کہ وہ صبح کو بھوکے نکلتے ہیں اورشام کو شکم سیر لوٹتے ہیں۔‘‘

اللہ عزوجل کا خوف پیدا کرے

ماں اپنے بچے کی تربیت کے دوران اس میں خوف خدا پیدا کرنے میں کامیاب ہوگئی تو اس کا بچہ خود بخود بہت سے گناہوں اور خود اس کی نافرمانی سے بچ جائے گا۔

لہٰذا ماں کو چاہیے کہ بچے کے ذہن و دل میں یہ بات نقش کردے کہ ہمارا خالق ہمیں دیکھ رہا ہے‘ اس طرح انشاء اللہ عزوجل وہ خرابیوں سے محفوظ رہیں گے۔

قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

{رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمْ وَرَضُوْ عَنْہُ ذٰلِکَ لِمَنْ خَشِیَ رَبَّہ}

Children's Training PDF | How do Muslims educate children | Aulad ki tarbiyat | Tarbiyat e Aulad |  Bachon ki tarbiyat

’’اللہ ان سے راضی اور وہ اس سے راضی یہ اس کے لئے ہے جو اپنے رب سے ڈرے۔‘‘ (البینہ:۸)

{وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتٰنِ} [رحمن:۴۶]

’’اور جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرے اس کے لئے دو جنتیں ہیں۔‘‘

نیز احادیث مبارکہ میں خوف خدا کے متعلق ارشاد فرمایا گیا۔

حضور سرور کونین صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ’’جو کوئی خدا سے ڈرے تمام مخلوق اس سے ڈرے گی اور جو کوئی خدا سے نہیں ڈرے گا تو حق تعالیٰ تمام مخلوق کا ڈر اس کے دل میں ڈال دے گا۔‘‘

لہٰذا ماں کو چاہیے کہ وہ اپنے بچے کے دل میں یہ بات راسخ کرے کہ کسی بھی معاملے میں اسے مخلوق سے ڈرنے کے بجائے اپنے مولیٰ عزوجل سے ڈرنا ہے کیونکہ اس کے تمام معاملات کی خیر و بھلائی اس کے دست قدرت میں ہے

س ایک ماں اگر اپنے بچے کویہ سکھائے کہ اس کا رب اسے دیکھ رہا ہے اور اسے میرے تمام کاموں کی خبر ہے تو بچے کے اندر منفی جذبات جنم نہیں لیں گے۔

اس کا سب سے بڑا فائدہ تو یہ ہے کہ بچہ کسی بھی معاملے میں اپنی ماں سے جھوٹ نہیں بولے گا کیونکہ اسے اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے۔ وہ اس بات سے خوف محسوس کرے گا اس کے علاوہ وہ خیانت نہیں کرے گا‘ نیز ہر قسم کے جرم و گناہ کے وقت اس کے ذہن میں یہ بات گردش کرے گی کہ میں اکیلا نہیں ہوں ‘ میرے رب کو میرے اس کام کی خبر ہے۔

بچے کے دل میں علماء کی اہمیت بٹھائیے

اگر یہ کہا جائے کہ تربیت کا یہ گوشہ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے تو مبالغہ نہ ہوگا۔ اس لئے کہ اگر بچے نے علماء و معلمین کے احترام و اکرام کی تربیت حاصل کرلی تو یقینا وہ دنیا و آخرت کی بے شمار بھلائیوں سے بہرہ ور ہوگیا۔ کیونکہ علم ایک نور ہے جو انسان کو مکمل طور پر منور کرتا ہے اور ہر طرح رہنمائی کرتا ہے اور دنیا و آخرت کی سعادت مندی اور خوش بختی کا باعث ہے۔

علماء و معلمین ہی اللہ تعالیٰ کے اولیاء اور احباء ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی معرفت سب سے زیادہ علماء ہی کو حاصل ہے۔ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے بھی یہی علماء ہیں۔

علماء اللہ کے دین مبین کی ترویج کرنے والے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سائے میں ہیں۔ یہی لوگ اللہ تعالیٰ کے ہاں بلند مرتبے اور عظیم قدر والے ہیں۔

حضرت ابن رجب حنبلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر علماء و فقہاء اللہ تعالیٰ کے اولیاء نہیں ہیں تو اللہ تعالیٰ کا کوئی ولی نہیں ہے۔

حضرت سہل بن تستری رحمہ اللہ بادشاہ اور علماء کی توقیر کو دنیا و آخرت کی کامیابی قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’لوگ جب تک علماء و سلاطین کی تعظیم کرتے رہیں گے خیر و بھلائی پر رہیں گے۔ اور اللہ تعالیٰ ان کی اصلاح فرمائیں گے اور اگر ان دونوں طبقات کو ہلکا سمجھیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کی دنیا و دین دونوں کو برباد کریں گے۔

تربیت کر نے والے پر یہ بھی لازم ہے کہ بچے کی نظر توجہ کو علماء و فقہاء کی محبت کی طرف مبذول کرائے چنانچہ بچے کے سامنے اللہ تعالیٰ کے ہاں علماء کی فضیلت ‘ ان کے اچھے کردار اور ان کی اچھائیاں کھول کھول کر بیان کرے تاکہ بچے کے دل میں علماء کی محبت اور ان کی تعظیم خوب جاگزیں ہوسکے اور بچوں کے سامنے علماء کے نام بیان کرنے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں ہے کیونکہ نام لینے سے بچے علماء کے ناموں سے واقف ہوں گے۔ علماء ‘ صحابہ اور عبادلہ اربعہ (عبد اللہ بن مسعود‘ عبد اللہ بن عمر‘ عبد اللہ بن عباس اور عبد اللہ بن زبیر] کا تذکرہ ہو‘ فقہائے مدینہ کا تذکرہ ہو‘ ائمہ اربعہ رحمہم اللہ کے اوصاف اور ان کے اسمائے گرامی بیان کیے جائیں‘ ان کے علاوہ دنیا میں علم دین پھیلانے والے علماء کرام کے اسمائے گرامی اوران کے مناقب بچوں کے سامنے بیان کیے جائیں۔

اسی طرح علماء کی محبت‘ ان کا و قار‘ ان کی ہیبت اور ان کی قدرو منزلت بچوںکے دل میں بٹھانے کی صورت یہ ہے کہ ان کو علماء کی مجالس میں لے جایا جائے۔ لوگوں کے علماء کے ساتھ ادب و احترام اور تعظیم سے پیش آنے کا منظر دکھایا جائے اس طرح وہ علماء کی مجالس میں علم و معرفت اور مواعظہ حسنہ سے مستفیض ہوں گے تو ان کے دلوں میں علماء کے لئے عظمت و محبت اور جذبہ احترام پیدا ہوگا۔

والدین بچوں کے سامنے مجالس علمیہ کے فوائد بھی بیان کریں اور ان کو بتائیں کہ حضرت لقمان حکیم بھی اپنے بچوں کو علماء فقہاء کی صحبت اختیار کر نے کی نصیحت فرمایا کرتے تھے اور یوں فرماتے تھے ’’اے پیارے بیٹوں! علماء کی مجالس اختیار کرو اور علماء کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کرو ‘ اس سے اللہ تعالیٰ دلوں کو علم و حکمت سے ایسے زندہ کر دیتے ہیں جیسا کہ بنجر زمین کو بارش سے آباد کرتے ہیں۔

بچے کو سوال سے بچائیے

Children's Training PDF | How do Muslims educate children | Aulad ki tarbiyat | Tarbiyat e Aulad |  Bachon ki tarbiyat

اسی طرح والدین کو چاہیے کہ بچے کو لینے کا عادی نہ بنائیں اس لئے کہ ہر ایک سے لیتے رہنا اچھی عادت نہیں حدیث شریف کامفہوم ہے:

((اَلْیَدُ الْعُلْیَا خَیْرٌ مِّنَ الْیَدِ السُّفْلٰی)) [مسلم]

’’اوپر والاہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔‘‘

اوپر والے ہاتھ سے مراد دینے والا ہاتھ ہے اور نیچے والے ہاتھ سے مراد لینے والا ہاتھ ہے اور جب لینے کی عادت بن جاتی ہے تو لینا اس کی طبیعت میں شامل ہو جاتا ہے۔

حضرت مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر صاحب اطال اللہ بقاء نے ایک مرتبہ ارشاد فرمایا تھا کہ جب لینے کی عادت بن جاتی ہے تو انسان ہر موقع پر بس یہی سوچتا ہے کہ بس مجھ ہی کو مل جائے اگر کہیں ملنے جائے تو پوچھتا ہے کہ میں آؤنگا تو آپ کیا دیں گے اور کوئی اس کے پاس آنا چاہے تو پوچھتا ہے کہ جب آپ آئیں گے تو کیا لے کر آئیں گے ‘ بچپن ہی سے بچوں کو نہ لینے کا عادی بنایا جائے۔

بچہ کو عطا کرنے کی عادت سکھائیں

اور بہتر یہ ہے کہ اس کو ترغیب دے کر اس بات کی عادت بھی ڈالی جائے کہ وہ دوسروں کو دینا سیکھے کیونکہ لینا ایک ناپسندیدہ بات ہے اور دوسروں پر خرچ کرنا ایک اچھی صفت ہے۔

ایک روایت کا مفہوم ہے کہ سخی جنت سے قریب ہے‘ اللہ سے قریب ہے‘ لوگوں سے قریب ہے اور جہنم سے دور ہے اور بخیل شخص جنت سے دور‘ اللہ سے دور‘ لوگوں سے دور اور جہنم سے قریب ہے۔

لہٰذا بچے کو صرف لینے کا عادی نہ بنایاجائے بلکہ اس کو اعتدال کے ساتھ عطاء و انفاق کی بھی ترغیب دی جائے کہ سارا اپنے اوپر ہی استعمال نہ کر لو بلکہ اس میں سے کچھ دوسروں کو بھی دے دو جیسا کہ حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ نے آپ بیتی میں اپنے متعلق لکھا ہے کہ بچپن میں والدہ کچھ دینے کے بعد ساتھ یہ ترغیب بھی دیا کرتی تھیں کہ اس کو اوروں پر بھی خرچ کر دینا اس اچھی تربیت کا نتیجہ یہ نکلا کہ اللہ تعالیٰ نے علم و فضل میں ان کو اتنا بڑا مقام نصیب کیا کہ مولانا زکریا صاحب رحمہ اللہ کو حضرت شیخ الحدیث مولانا محمدزکریا رحمہ اللہ جیسے اعلیٰ منصب تک پہنچا دیا بچوں کی اچھی تربیت کے لئے حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کی تصنیف ’’آپ بیتی‘‘ گنج ہائے گراں مایہ ہے اسی طرح خرچ کرنے کے فضائل کو حضر ت شیخ الحدیث رحمہ اللہ نے ’’فضائل صدقات‘‘ میں جس تفصیل سے اور بہترین اسلوب میں بیان کیا ہے اس کے متعلق کچھ کہنے کی لب کشائی کرنا مخمل میں ٹاٹ کا پیوند لگانے کے مشابہ ہے۔

بچے کو خیانت سے بچائیے

اسی طرح بچے کو خیانت‘ چوری اور جھوٹ سے بچایا جائے یہ بری خصلتیں جب کسی انسان میں پیدا ہو جائیں تو اس کو کسی کام کا نہیں رکھتیں اور دنیا و آخرت میں اس کو ذلیل و رسوا کر کے چھوڑتی ہیں جھوٹ تو ہے ہی ام الخبائث ایک بار جھوٹ کا چسکہ لگ جائے تو اترتا نہیں پھر جھوٹ کو چھپانے کے لئے انسان سو جھوٹ اور بھی بولتا ہے اور پھر بالآخر جھوٹ پکڑا ہی جاتا ہے حکماء نے جھوٹ کو سم قاتل (زہر قاتل) لکھا ہے خطرناک زہر سے بچے کی حفاظت جس طرح کی جاتی ہے اسی طرح ان اخلاق رذائل سے بچوں کو بچانا چاہئے اور اس کی صورت یہ ہے کہ بچپن ہی سے ان اشیاء کی مذمت اور برائی کو ان کے ذہنوں میں بٹھایا جائے ورنہ یہ سم قاتل دنیا و آخرت کی ہر سعات کو فاسد اور دین کی ہر فلاح سے انسان کو محروم کر دیتا ہے۔‘‘

بچے کو سلام کر نے کی تعلیم دیجئے

بچے کو سلام کرنے کی تعلیم دینا ضروری ہے اورسلام سے مراد ’’السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ‘‘ کہنا ہے۔ جب بچہ گھر میں داخل ہو‘ کسی سے ملے‘ یا لوگوں کے قریب سے گزرے‘ یا مسجد میں جائے یا ٹیلی فون پر کسی سے بات کرے تو ضرور سلام کہے۔ اگر بچہ ٹیلی فون سنے تو سلام کہنے کے بعد فون کرنے والے کا نام اور کام پوچھ لے تاکہ وہ گھر والوں کو پیغام دے سکے۔

اللہ تعالیٰ کا قرآن مجید میں ارشاد ہے:

{فَاِذَا دَخَلْتُمْ بُیُوْتاً فَسَلِّمُوْا عَلٰی اَنْفُسِکُمْ تَحِیَّۃً مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ مُبٰرَکَۃً طَیّْبَۃً} (النور:۶۱)

’’اور جب تم گھروں میں جایا کرو تو (اپنے گھر والوں کو) سلام کیا کرو‘یہ اللہ کی طرف سے مبارک اور پاکیزہ تحفہ ہے۔‘‘

حضرت ابوہریرہtروایت بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا:

((یُسَلِّمُ الرَّاکِبُ عَلَی الْمَاشِی وَالْمَاشِی عَلَی الْقَاعِدِ وَالْقَلِیْلُ عَلَی الْکَثِیْرِ وَالصَّغِیْرُ عَلٰی الْکَبِیْرِ))

’’سوار پید ل چلنے والے کو‘ پید ل چلنے والا بیٹھے ہوئے کو‘ تھوڑے آدمی زیادہ آدمیوں کو اور چھوٹا بڑے کو سلام کہے۔‘‘

Lasson no 1

بچے کو شرم و حیا کی ترغیب دیجئے

Children's Training PDF | How do Muslims educate children | Aulad ki tarbiyat | Tarbiyat e Aulad |  Bachon ki tarbiyat


والدین بچے کو شرم و حیاء کی تعلیم دیں اور بچے کو یہ بھی بتائیں کہ حیاء اجتماعی ضرورت ہے۔ اس لئے کہ حیاء اگر نہ ہو تو بیٹا باپ کی بات ماننے کو تیار نہیں ہوگا اور نہ ہی شاگرد استاذ کی بات ما نے گا اور نہ ہی کسی صاحب فضل کی عزت ہوگی‘ گر انسان حیاء کے لباس سے عاری ہو جائے تو وہ آہستہ آہستہ رذائل کی ظلمت کی طرف بڑھتا رہے گا۔ اور جب تک حیاء برقرار رہے گی خیر کی زندگی گزارے گا اور اگر گناہ میں ملوث بھی ہو جائے تو حیاء کی وجہ سے واپس آنے کی امید کی جاسکتی

ہے اور حیاء کے متعلق سید الاولین و الآخرین صلی اللہ علیہ و سلم کی سیرت مبارکہ سے بھی بچے کے دل و دماغ کو جلاء بخشے۔ اس کو بتائے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم تمام لوگوں سے زیادہ نرم اخلاق کے مالک تھے۔

حضرت ابو سعید خدریt فرماتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ و سلم پردہ نشین کنواری لڑکیوں سے کہیں زیادہ باحیاء تھے اور اگر آپ کسی چیز کو ناپسند فرماتے تو ہم آپ کے چہرہ انور سے ہی اندازہ لگاتے۔‘‘ (مسلم)

بچے کو یہ بھی سمجھایا جائے کہ حیاء کے مختلف مواقع ہیں لہٰذا کلام اور بات چیت کے وقت کی حیا یہ ہے کہ بولتے وقت اپنی زبان کو فحش گوئی سے پاک رکھے اور کسی پر عیب لگانے سے زبان کی حفاظت کرے اس لئے کہ بد زبانی و فحش گوئی بے ادبی ہے۔

حیاء بھلائی کی روح ہے اور ہر عمل کے بہتر سے بہتر ہونے کا اصل سبب ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے ہیں: ’’فحش جس چیز میں بھی ہو اس کو عیب دار بنا دیتا ہے اور حیاء جس چیز میں بھی ہوا س کو خوبصورت اور مزین کر دیتی ہے۔‘‘ (ترمذی)

ایک مرتبہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت عائشہr سے فرمایا ’’اگر حیاء انسانی صورت میں آتی تو نیک و صالح شخص کی صورت میں ہوتی اور فحش بدکار آدمی کی صورت میں ہوتا۔‘‘

یہ بھی بچے کے دماغ میں لایا جائے کہ حق والوں کے حقوق کے مطابق ان کے ساتھ معاملہ کرنا بھی حیاء کے تحت داخل ہے‘ چنانچہ بچوں کا اپنے بزرگوں‘ شاگرد کا اپنے اساتذہ اور تربیت کنندگان کے حقوق‘ ان کے درجات کے مطابق ادا کرنا بھی حیاء کا حصہ ہے۔ اسی طرح اس کو یہ بھی بتائے کہ حیاء کرنا بزدلی نہیں بلکہ اعلیٰ درجے کی شجاعت ہے اس لئے ایک با حیاء اور عقلمند انسان اللہ تعالیٰ اور لوگوں کے سامنے منظم اور مضبوط طریقے پر چلتا ہے۔ چنانچہ جب بات کرتا ہے بہتر انداز سے ‘ تصرف کرتا ہے تو بالغ نظری و امانت و دیانت کے ساتھ اور وہ یہ بھی جانتا ہے کہ وہ ایک لمحے کے لئے بھی اللہ تعالیٰ کی نظروں سے اوجھل نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح وہ حیاء کے ساتھ ایک عظیم اور بھلائیوں سے بھرپور زندگی گزارتا ہے۔

بچے کو اللہ کی دی ہوئی نعمتوں سے روشناس کرائیں

اللہ تعالیٰ کی ظاہری و باطنی نعمتوں سے بچوں کو روشناس کرانا بھی اللہ تعالیٰ کے متعلق ان کی اخلاقی تربیت کا حصہ ہے انسان کو اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں‘ فضیلتوں اور متنوع پاکیزہ چیزوں سے بھی روشناس کرانا چاہیے تاکہ بچے کے دل میں اللہ تعالیٰ کی ان گنت نعمتوں پر شکر گزاری کی کوتاہی کا احساس پیدا ہو اور اس کے ساتھ اس کے دل میں اللہ عزوجل کی عظمت و بڑائی بھی بیٹھ جائے۔

ماں باپ کو چاہیے کہ وہ بچے کو اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کے بارے میں بتائیں کہ اللہ جل شانہ نے تمہارے لئے کھانے پینے کی اشیاء اور لباس اور رہائش کے انتظامات عطا فرمائے اور تمہیں ایک مکمل انسان بنایا دیکھنے کے لئے آنکھ دی‘ چلنے کے لئے پیر دئیے‘ پکڑنے کیلئے ہاتھ دئیے بچے کو ان نعمتوں کی موجودگی کا احساس دلائیے پھر وہ نعمتوں کے بارے میں سوچے گا۔اور اسے ایک عالم کا یہ قول یاد دلائیں کہ اللہ تعالیٰ نے جتنی چیزیں پیدا کی ہیں وہ دراصل اس کا اپنے بندوں ہی پر فضل و احسان ہے‘ جس کا شکر ادا کر نے کے لیے بندے اس کی حمد کرتے ہیں اس میں جو حکمت و مصلحت ہے وہ بھی اسی کی طرف لوٹتی ہے جس کی وجہ سے وہ ذات لائق حمدو شکر ہے۔

والدین کو چاہیے کہ وہ بچے کی توجہ ارد گرد کے وسیع ماحول کی طرف مبذول کرائیں‘ جب وہ آسمان وزمین ‘ درختوں‘ پہاڑوں اور پھولوں جیسے قدرتی مناظر دیکھے گا تو اسے ان قدرتی امور کے حسن و جمال کا ادراک ہوگا اور اسے خوشگوار آثار کا احساس ہوگا جس کا اس پر اثر یہ ہوگا کہ پھر وہ اللہ رب العالمین کا مزید شکر ادا کرے گا جس نے ہر چیز کو خوبصورت پیدا کیا ہے۔

اس کے بعد اسے قرآن حکیم کی چند آیات سنائی جائیں‘ مثلاً فرمان خداوندی ہے:

{یَااَیُّھَا النَّاسُ اذْکُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ ھَلْ مِنْ خَالِقٍ غَیْرُ اللّٰہِ یَرْزُقُکُمْ مِنَ السَّمَائِ وَالْاَرْضْ} [فاطر:۳]

’’اے لوگو! اللہ کے تم پر جو احسانات ہیں ان کو یاد کرو‘ کیا اللہ کے سوا کوئی خالق ہے جو تم کو آسمان و زمین سے رزق پہنچا ئے۔‘‘

نیز فرمان رب العالمین ہے:

{وَمِنْ رَحْمَتِہِ جَعَلَ لَکُمُ اللَّیْلُ وَالنَّھَارَ لِتَسْکُنُوْا فِیْہِ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِہٖ وَلَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ} [القصص:۷۱]

’’اور اس نے اپنی رحمت سے تمہارے لئے دن اور رات کو بنایا تاکہ تم رات میں آرام کرو اور تاکہ (دن میں) اس کی روزی تلاش کرو اور تاکہ تم شکرکرو۔‘‘

اسی طرح کی دیگر کثیر آیات قرآنیہ جن میں اللہ تعالیٰ کے انعامات و احسانات اور عطیات کا ذکر ہو ان کا بچوں کے سامنے ذکر کیا جائے اور ساتھ ساتھ ان آیات کی تشریح بھی اس سے یہ ہوگا کہ بچے کوبصارت کی فضیلت و اہمیت معلوم ہوگی اوراس کے نتائج سے واقفیت ہوگی‘ اس طرح سے اس کو ان نعمتوں کے شکر بجالانے اور اللہ تعالیٰ کی حمدو تعریف کر نے پر متوجہ کیا جاسکتا ہے‘ اسی طرح بچوں کو ایسے دوسرے پہلوؤں پر توجہ دلائی جاسکتی ہے‘ جو ان کی عمر اور ذہنی سطح کے مناسب ہوں اور ان پہلوؤں کے ساتھ اخلاقی پہلوؤں پر بھی توجہ ضروری ہوگی‘ دونوں کو مربوط شکل میں پیش کیا جائے گا۔

بچوں کو عربی زبان سکھائیے

+923044555964

محترم والدین ہم آج کل جس طرح اپنے بچوں کو غیر مادری اور غیر ملکی زبانوں مثلاً انگریزی اور فرانسیسی و غیرہ کی تعلیم دلواتے ہیں اسی طرح انہیں عربی زبان کی تعلیم بھی دینی چاہیے‘ کیونکہ یہ زبان اسلام کی زبان ہے‘ قرآن مجید اور محمد عربی صلی اللہ علیہ و سلم کی زبان ہے‘ اس سے ہمیں قرآن مجید‘ حدیث شریف‘ سیرت نبوی صلی اللہ علیہ و سلم اور دینی کتابوں کا مطالعہ کرنے اور سمجھنے میں مدد ملے گی۔

اسلام نے عربی زبان کو جو اہمیت دی ہے اس کا اندازہ ہم اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ قرآن پاک اللہ تعالیٰ نے عربی زبان میں اتارا۔ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی زبان عربی تھی‘ اسلام عربی زبان سے دنیا میں پھیلا اور سب سے بڑی بات جنت میں جنتیوں کی زبان بھی عربی ہوگی۔ ایک حدیث میں ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ و سلم ہے:

’’عربی زبان سے تین وجوہات سے محبت کرو قرآن کی زبان عربی ہے !جنت کی زبان عربی ہے “میری زبان بھی عربی ہےاگر ہم عربی زبان سے ناواقف ہیں تو آج ہی سے یہ نیت سے کریں کہ ہم اپنے بچوں کو عربی زبان سکھائیں گے تاکہ وہ قرآن جو کہ عربی میں ہے اس کے صحیح مفہوم کو اور حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے عربی میں جو ارشادات ہیں ان کو سمجھ سکیں اور عربی زبان میں جو دعائیں دن اور رات کی ہیں ان کے صحیح معنی کو سمجھ سکیں کیونکہ جب قرآنی آیات اور دعاؤں کے معنی معلوم ہوں گے تو اتنا ہی شوق اور لذت محسوس ہوگی اس کے لئے ہم آج ہی سے اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگیں کہ اے اللہ! ہمیں اور ہمارے بچوں کو عربی سیکھنے کی توفیق دے تاکہ ہم اور ہمارے بچے قرآن و حدیث کے صحیح مفہوم کو سمجھ سکیں‘ اس کی آسان صورت یہ ہے کہ سکھانے والی کوئی عربی کتاب خرید کر بچوں کو پڑھائیں اور چند چھوٹی چیزوں کے عربی میں نام یاد کرائیں اور روزانہ ان کی مشق کرائیں۔

بچوں کو ماں باپ کا نام و پتہ ضرور یاد کرادینا چاہیے

بچوں کو ماں باپ بلکہ دادا کانا بھی یاد کرادیں اور کبھی کبھی پوچھتے رہا کریں تاکہ اس کو یاد رہے۔ اس میں یہ فائدہ ہے کہ اگر خدانخواستہ بچہ کھو جائے اور کوئی اس سے پوچھے کہ تو کس کا ہے‘ تیرے ماں باپ کون ہیں تو اگر بچے کو نام یاد ہوں گے تو بتلا دے گا پھر کوئی نہ کوئی اسے آپ کے پاس پہنچا دے گا اور اگر یاد نہ ہوا تو پوچھنے پر اتنا ہی کہے گا کہ میں اماں کا ہوں‘ ابا کا ہوں یہ خبر نہیں کہ کون اماں کون ابا۔

بچوں کے ساتھ پیار اور سختی کا ایک تجربہ

بچے کو اکثر والدین چھوٹا سمجھ کر اچھا برا جس طرح کا سلوک کرنا چاہیں کر لیتے ہیں اور اس میں اس کی کسی حق تلفی کا انہیں شبہ بھی نہیں ہوتا۔ یقین کیجئے ۲ماہ کے بچے کو بھی اپنی عزت نفس‘ خوشی‘ غم اور غصے کا احساس ہوتا ہے۔ تجربہ کرلیں نفرت یا غصے سے اس کے گال پر ہلکی سی چپت لگائیں اور اس کے بر خلاف محبت اور گرم جوشی سے یہی چپت مقابلۃً زیادہ زور سے لگائیں۔

پہلی چپت پر بچہ رو نے لگے گا جبکہ دوسری چپت پر باوجود زیادہ تکلیف دہ ہونے کے مسکرائے گا کیوں؟

اسلامی تعلیمات بھی اس کی مقتضی ہیں کہ چھوٹوں کے ساتھ شفقت ‘ عفو و درگزر و محبت کا سلوک کیا جائے اور سختی وہیں کی جائے جہاں اور جب اس کی اجازت یا تعلیم ہو اس کے بارے میں علمائے کرام سے رجوع کر کے ہر موقع محل کے بارے میں تفصیلی علم حاصل کرنا والدین پر فرض ہے۔

تربیت بذریعہ خطاء

بعض والدین کو دیکھا گیا ہے کہ جہاں بچے نے کانچ کا برتن اٹھا کر کہیں رکھنا چاہا فوراً تیز آواز سے منع کر دیا جاتا ہے کہ ارے تم برتن گرادو گے۔ بعض مائیں اپنی لڑکیوں کو کچن کے کاموں میں یہی سوچ کر شامل نہیں کرتی ہیں کہ وہ ہاتھ جلا لیں گی‘ روٹی خراب کر دیں گی یا سالن جلا دیں گی۔ بچے نے سائیکل چلانے کی بات کی اور فوراً ڈانٹ پڑگئی کہ چوٹ لگ جائے

وتربیت نے اسے بھی سیکھنے کا اہم ذریعہ قرار دیا ہے۔ زندگی کے تجربات میں کسی مقام پر ناکامی یا غلطی بچے کو اس کام کے اچھے یا برے پہلو سے آشنا کرتی ہے۔ ایک بچہ چلنا سیکھتا ہے تو بار بار گرتا ہے پھر سنبھلتا ہے اور ایک وقت آتا ہے کہ وہ ان غلطیوں سے تجربہ حاصل کر کے اپنا توازن کنٹرول کرنے کے فن سے آگاہ ہو جاتا ہے ایک بچہ سائیکل چلانا سیکھتا ہے تو یہ عین ممکن ہے وہ اگر لے بھی لیکن یہ خطا اسے صلی اللہ علیہ و سلم rr علیھم السلام rاس فن میں ماہر بنا دے گی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی تجربات سے گزرنے اوران میں ٹھوکر کھانے کو ایک مثبت عمل قرار دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے ہیں: ’’ٹھوکر کے بغیر انسان برباد نہیں ہوتا اور تجربے کے بغیراسے حکمت نہیں ملتی۔‘‘ (ترمذی)

اسی طرح کی ایک بات حضرت علی tنے بھی فرمائی ’’میں نے اللہ کو اپنے ارادے کی ناکامی سے پہچانا۔‘‘

بچوں کی چھوٹی غلطیوں سے درگزر کیجئے

درگزر کا مطلب کسی غلطی کی نشاندہی ہونے کے بعد اس کو معاف کر دینا یا چشم پوشی اختیار کرنا ہے بعض مواقع پر کسی کی غلطی پر سرزنش کرنا ضروری ہو جاتا ہے لیکن ایسے مواقع بھی آتے ہیں کہ کسی کی غلطی سے درگزر کرنا اسے دوبارہ غلطی دہرانے سے باز رکھتا ہے۔ درگزر بسا اوقات ایک مضبوط تربیتی وسیلہ بن جاتا ہے اور مذکورہ شخص ناصرف غلطی دہرانے سے اغماض برتتا ہے بلکہ درگزر کر نے والے کی عزت و تکریم اس کے دل میں بڑھ جاتی ہے۔

حضرت انسtدس سال کے بچے ہی تھے کہ ان کی والدہ ام سلیمr انہیں سرور کونین صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں لے آئیں۔ حضرت انسtسے کام میں کوتاہیاں بھی ہوتی تھیں‘ بہت سے کام بننے کے بجائے بگڑ جاتے مگر دس سال کی طویل رفاقت کے دوران پیکر عفو کرم سیدنا حضورp نے کبھی حضرت انسtکو سزا نہیں دی یہاں تک کہ کبھی ڈانٹا تک نہیں۔ حضرت انسtخود فرماتے ہیں ’’میں نے جو کام بھی کیا ٹھیک ہوگیا یا خراب کبھی حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ نہیں فرمایا کہ یہ تم نے کیوں کیا۔‘‘ (داعی اعظم از محمد یوسف اصلاحی)

اس واقعے میں حضور پاک صلی اللہ علیہ و سلم کی بصیرت افروز تربیت کا واضح اشارہ موجود ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اتنا زبردست طریقہ اختیار کیا کہ حضرت انس t کے اندر احساس ذمے داری بڑھ گیا اور یوں وہ اپنی غلطیوں کو خود ہی درست کر نے کے قابل ہوئے۔

Dawonlod

ایک روز ام قیس بنت محصن tاپنے شیر خوار بچے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں لائیں۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ و سلم نے اس بچے کو اپنی گود میں لے لیا‘ بچے نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے کپڑوں پر پیشاب گرایا۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس واقعے پر کسی کو کچھ نہیں کہا بلکہ پانی سے کپڑے دھو لیے۔ گو کہ اس واقعے میں اتنے چھوٹے بچے کی تربیت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا لیکن اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے مزاج اقدس کا احساس ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم بچوں سے کتنی محبت کیا کرتے تھے۔ (تذکار صحابیات از طالب الہاشمی

Spread the love

Leave a Comment

%d bloggers like this: