Dusri Shadi Ke Liye Pehli Biwi Se Ijazat ! Second marriage in islam ! Dosri Shadi Ki Ijazat In Islam | دوسری شادی کیلیے پہلی بیوی سےاجازت

 بغیر سخت مجبوری کے دوسری شادی کرنے کا انجام

 Dusri Shadi Ke Liye Pehli Biwi Se Ijazat

Dusri Shadi Ke Liye Pehli Biwi Se Ijazat ! Second marriage in islam ! Dosri Shadi Ki Ijazat In Islam | دوسری شادی کیلیے پہلی بیوی سےاجازت

موجودہ حالات میں بغیر سخت مجبوری کے دوسرا نکاح ہر گز نہ کرنا چاہئے‘ اور مجبوری کا فیصلہ نفس سے نہ کرانا چاہئے بلکہ عقل سے کرانا چاہئے‘ بلکہ عقلاء کے مشورہ سے کرانا چاہئے‘ اور پختگی سن (عمر ڈھل جانے) کے بعد دوسرا نکاح کرنا پہلی منکوحہ کو بے فکر ہو جانے کے بعد اس کو فکر میں ڈالنا ہے اور جہالت تو اس کا لازمی حال ہے۔ وہ اپنا رنگ لائے گا اور اس رنگ کے چھینٹے سے نہ ناکح (نکاح کرنے والا مرد) بچے گا نہ منکوحہ ثانیہ (دوسری بیوی) بچے گی۔ خواہ مخواہ غم کے دریا بلکہ خون کے دریا میں سب غوطے لگائیں گے۔ خصوصاً جب کہ مرد عالم دین اور متحمل بھی نہ ہو۔ علم نہ ہونے سے تو وہ عدل کے حدود کو نہ سمجھے گا اور تحمل (برداشت کا مادہ) نہ ہونے سے ان حدود کی حفاظت نہ کر سکے گا اس وجہ سے وہ ضرور ظلم میں مبتلا ہو گا۔ چنانچہ عموماً کئی بیویوں والے لوگ ظلم و ستم کے معاصی (گناہ) میں مبتلا ہوتے ہیں۔ (اصلاح انقلاب صفحہ ۸۳ جلد ۲)

دو شادیاں کرنا پل صراط پر قدم رکھنا اور اپنے کو خطرہ میں ڈالنا ہے

(مجھے) دوسری بیوی کرنے میں بہت ساری مصلحتیں ظاہر ہوئیں مگر یہ مصلحتیں ایسی ہیں جیسے جنت کے راستہ میں پل صراط کہ بال سے زیادہ باریک تلوار سے زیادہ تیز جس کو طے کرنا سہل کام نہیں اور جو طے نہ کر سکا وہ سیدھا جہنم میں پہنچا اس لئے ایسے پل پر خود چڑھنے کا ارادہ ہی نہ کرے۔ ان خطرات اور ہلاکت کے موقعوں کو پار کرنے کے لئے جن اسباب کی ضرورت ہے وہ ارزاں (سستے) نہیں ہیں۔ دین کامل‘ عقل کامل‘ نور باطن‘ ریاضت سے نفس کی اصلاح کر چکنا‘ (یہ سب اس کے لئے ضروری ہیں)۔

چونکہ ان سب کا جمع ہونا شاذ ہے اس لئے تعدد ازواج (کئی بیویوں کے چکر میں پڑنا) اپنی دنیا کو تلخ اور برباد کرنا ہے یا آخرت اور دین کو تباہ کرنا ہے۔

(اصلاح انقلاب صفحہ ۹۰)

حضرت تھانوی رحمہ اللہ کی وصیت اور ایک تجربہ کار کا مشورہ

کسی کو یہ وہم نہ ہو کہ خود کیوں اس مشورہ کے خلاف کیا (حضرت تھانوی رحمہ اللہ کی دو بیویاں تھیں) بات یہ ہے کہ خلاف کرنے ہی سے یہ مشورہ سمجھ میں آیا ہے اس فعل سے مجھے تجربہ ہو گیا اور تجربہ کار کا قول زیادہ ماننے کے قابل ہے۔ میں اپنے تجربہ کی مدد سے اپنے بھائیوں اور احباب کو اس تعدد سے (کئی بیوی کرنے سے) مشورۃً منع کرتا ہوں اگر میں اس تعدد کو اختیار نہ کرتا تو میرے اس منع کرنے کی زیادہ وقعت آپ لوگ نہ کرتے۔

لیکن اب اس ممانعت کی خاص وقعت (ہوگی لہٰذا) اس ممانعت پر عمل کرنا چاہئے مگرساتھ ہی احکام شرعیہ میں تحریف نہ کی جائے۔ شرعی حکم تو یہی ہے کہ تعدد ازواج میں نکاح تو ہر حال میں منعقد ہو جاتا ہے خواہ عدل ہو یا نہ ہو لیکن عدل نہ کرنے کے وقت گناہ ہو گا۔

نکاح ثانی کس کو کرنا چاہئے

فرمایا ایک شخص نے مجھ سے عقد ثانی کے متعلق مشورہ کیا تو میں نے کہا کہ تمہارے پاس کتنے مکان ہیں؟ اس نے کہا ایک ہے میں نے کہا تمہارے لئے مناسب نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کتنے مکان ہونے چاہئیں۔ میں نے کہا تین ہونے چاہئیں انہوں نے کہا تین کس لئے؟ میں نے کہا تین اس لئے ہونے چاہئیں کہ دو مکان تو دو بیویوں کے رہنے کے لئے ہوں اور تیسرا مکان اس لئے کہ جب ان دونوں سے اختلاف ہو جائے تو آپ تیسرے مکان میں ان دونوں سے الگ رہیں کیونکہ جب تم ان سے روٹھو گے تو کہاں رہو گے یہ سن کر وہ رک گئے۔ (ملفوظات صفحہ ۱۴۱)

ایک ہی بیوی پر اکتفا کرے اگرچہ نا پسند ہو

بہتر طریقہ یہی ہے کہ تعدد (کئی بیوی) کو اختیا رنہ کیا جائے ایک ہی پر قناعت کی جائے اگر چہ نا پسند ہو۔

{فَاِنْ کَرْھْتُمُوْھُنَّ فَعَسٰی اَنْ تَکْرَھُوْا شَیْئًا وَّ یَجْعَلَ اللّٰہُ فِیْہِ خَیْرًا کَثِیْرًا}

’’اور اگر وہ تم کو نا پسند ہوں تو ممکن ہے کہ تم ایک شے کو نا پسند کرتے ہو اور اللہ تعالیٰ نے اس کے اندر کوئی بڑی منفعت رکھ دی ہو‘‘

پہلی بیوی کی اولاد نہ ہونے کی وجہ سے دوسری شادی کرنا

بعض لوگ محض اتنی بات پر کہ اولاد نہیں ہوتی دوسرا نکاح کر لیتے ہیں حالانکہ دوسرا نکاح کرنا اس زمانہ میں اکثر حالات میں زیادتی ہے کیونکہ شرعی قانون یہ ہے۔

{فَاِنْ خِفْتُمْ اَنْ لاَّ تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَۃً}

’’کہ اگر متعدد بیویوں میں عدل نہ ہو سکنے کا اندیشہ ہو تو صرف ایک عورت سے نکاح کرو‘‘

اور ظاہر ہے کہ آج کل طبیعتوں کی خصوصیات سے عدل ہو نہیں سکتا ہم نے تو کسی مولوی کو بھی نہیں دیکھا جو دو بیویوں میں پورا پورا عدل کرتا ہو۔ دنیا دار تو کیا کریں گے۔ پس ہوتا یہ ہے کہ دوسرا نکاح کر کے پہلی کو معلق چھوڑ دیتے ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ آج کل طبیعتوں میں انصاف و رحم کا مادہ بہت کم ہے تو آج کل کے حالات کے اعتبار سے تو عدل قریب قریب قدرت سے خارج ہے۔ پھر جس غرض کے لئے دوسرا نکاح کیا جاتا ہے اس کا کیا بھروسہ ہے کہ دوسرے نکاح سے وہ (اولاد) حاصل ہو ہی جائے گی ممکن ہے کہ اس سے بھی اولاد نہ ہو تو پھر کیا کر لو گے۔ بلکہ میں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو بانجھ سمجھ کر دوسرا نکاح کر لیا اور نکاح کے بعد پہلی بیوی کے اولاد ہو گئی تو خواہ مخواہ ایک محتمل امر کے لئے اپنے کو عدل کی مصیبت میں گرفتار کرنا اچھا نہیں اور جو عدل نہ ہو سکا تو پھر دنیا و آخرت کی مصیبت سر پر رہی۔

لوگ زیادہ تر اولاد کی تمنا کے لئے ایسا کرتے ہیں اور اولاد کی تمنا اس لئے ہوتی ہےنام باقی رہے تو نام کی حقیقت سن لیجئے کہ ایک مجمع میں جا کر ذرا لوگوں سے پوچھئے تو پر دادا کا نام اکثر کو نا معلوم ہو گا جب خود اولاد ہی کو پردادا کا نام نہیں معلوم تو دوسروں کو خاک معلوم ہو گا‘ تو بتلایئے نام کہاں رہا ؟ اولاد سے نام نہیں چلا کر تا بلکہ اولاد نا لائق ہو ئی تو الٹا بدنامی ہوتی ہے اور اگر نام چلا بھی تو نام چلنا کیا چیز ہے جس کی تمنا کی جائے‘ دنیا کی حالت کو دیکھ کر تسلی کر لیا کریں کہ جن کے اولاد ہے وہ کسی مصیبت میں گرفتار ہیں اور اگر اس سے بھی تسلی نہ ہو تو یہ سمجھ لے کہ جو خدا کو منظور ہے وہی میرے واسطے خیر ہے نہ معلوم اولاد ہوتی تو کیسی ہوتی اور اگر یہ بھی نہ کر سکے تو کم از کم یہ تو سمجھے کہ اولاد نہ ہونے میں بیوی کی کیا خطا ہے۔ (حقوق الزوجین صفحہ ۳۸ وعظ حقوق البیت

I Covered these points in the video


> dusri shadi ke liye pehli biwi se ijazat
> dosri shadi ki ijazat nama
> dosri shadi ki ijazat in islam
> dusri shaadi kay liye pehli biwi se ijazat lena
> dosri shadi k liye pahli biwi se ijazat
> dusri shadi
> kya dusri shadi ke liye pehli biwi se ijazat lena zaruri hai
> dusri shadi ke liye kya pehli biwi se ijazat lena zaroori hai
> pehli biwi se ijazat
> dosri shadi ka wazifa
> dosri shadi
> dosri shadi karne par kya saza hai
> dosri shadi in islam
> dosri shadi ki lakeer
Spread the love

Leave a Comment

%d bloggers like this: