Hamal Girana in Islam | isqat e Hamal in Islam | Hamal Zaya Karna Kaisa | pregnancy khatam karne ki Dua | Hamal Kin Majburi Aur Kitne Din Tak Giraya Ja Sakta Hai

 اسقاط حمل کی صورتیں

Hamal Girana in Islam | isqat e Hamal in Islam |  Hamal Zaya Karna Kaisa | pregnancy khatam karne ki Dua | Hamal Kin Majburi Aur Kitne Din Tak Giraya Ja Sakta Hai


Hamal Girana in Islam

اسقاط حمل کی تین صورتیں ہوسکتی ہیں :

۱۔ حمل میں جان پڑجانے کے بعد اسقاط

۲۔ حمل میں جان پڑنے سے قبل اوراعضاء کی تخلیق کے بعد اسقاط

۳اعضاء کی تخلیق سے قبل اسقاط

 isqat e Hamal in Islam

Hamal Girana in Islam | isqat e Hamal in Islam |  Hamal Zaya Karna Kaisa | pregnancy khatam karne ki Dua | Hamal Kin Majburi Aur Kitne Din Tak Giraya Ja Sakta Hai

پہلی صورت

۱۲۰/ دن یعنی چار ماہ کے بعد حمل میں جان پڑجاتی ہے ،البتہ عبد اللہ ابن عباس ؓ سے چارماہ دس دن کے بعد جان پڑنے کی روایت منقول ہے جس کو امام احمد ؒ نے اختیار کیاہے، اورجس کوعلامہ شامی نے بھی ذکر کیاہے (۳)

اور فقہاء نے صراحت کی ہے کہ حمل میں جان پڑجانے کے بعد بالا تفاق اس کا اسقاط جائزنہیں ،لہذا نفخ روح یعنی چار ماہ بعد باتفاق علماء اورچار ما ہ دس دن بعد بروایت عبداللہ بن عباس ؓ اسقاط جائز نہیں ہے ،اوراس صورت میںحمل کااسقاط قتل نفس کے مرا 

ہوگا ۔(۴)

مجبوری کی حالت کا حکم

Hamal Zaya Karna Kaisa

البتہ اگر حمل میں جان پڑجانے کے بعد عورت کی صحت بالکل خراب ہوجائے اورماہر تجربہ کا رڈاکٹر کے کہنے کے مطابق اسقا ط کے بغیر اس کی جان بچاناممکن نہ ہوتو اہون البلیتین (۵) یعنی دو مصیبتوں میںسے آسان مصیبت کواختیار کیا جائے گا ،اوراس جیسے مسلمہ اصول کے پیش نظر عورت کی جان بچانے کی غرض سے اسقاط کی اجازت ہوگی،اس لئے کہ عورت کی جان کاضیاع بڑا ضرر ہے اور جنین کا اسقاط اہون ہے ،کیونکہ عورت کا و جو د مشا ہد ہے اورجنین کا وجود غیر مشاہدہ عورت کا وجو د متیقن ہے اورجنین کا وجو د غیر متیقن ہے ،اس لئے ایک مشاہدہ او ر متیقن وجو د کو بچانے کے لئے ایک غیر مشا ہدا ور غیر متقین وجو د کو ضائع کیا جاسکتاہے (۶)

Hamal Girana in Islam | isqat e Hamal in Islam |  Hamal Zaya Karna Kaisa | pregnancy khatam karne ki Dua | Hamal Kin Majburi Aur Kitne Din Tak Giraya Ja Sakta Hai

دوسری صورت

دوسری صورت یعنی اعضاء کی تخلیق کے بعد اورجان پڑنے سے قبل بھی صحیح قول کے مطابق اسقاط جائزنہیں ہے ، علامہ حصکفی ؒ المتوفی ۱۰۸۸؁ ھ فرماتے ہیں :

اورمکروہ ہے حمل کوساقط کرنے کے لئے دوا ء پلانا ،اوریہ مطلق ہے، خواہ ضرر سے پہلے ہویا اس کے بعدہو، خانیہ میں اسی قول کواختیار کیاگیاہے۔(۷)

ایک جگہ علامہ شامی ؒ فرماتے ہیں :

اعضاء کے ظہور سے پہلے بھی اسقاط مکروہ ہے؛ کیونکہ ما دہ منویہ کے رحم میں جانے کے بعد اب اس کا مآل حیات اورزندگی ہے ،لہذا وہ زندہ وجود کے حکم میں ہوگا ،جیساکہ حرم کے شکار کے انڈے کاحکم ہے (۸

بلکہ شوہر اپنی بیوی کے پیٹ پر مار کر حمل ساقط کردے، تواس کے عاقلہ پر غرہ واجب ہوگا ،اسی طر ح اگر عورت دواء وغیرہ کے ذریعہ حمل ساقط کر دے توعورت کے عاقلہ پر غرہ وا جب ہوگا (۹)

pregnancy khatam karne ki Dua 


اورایک جان قتل کرنے کاگناہ ہوگا ،علامہ شامی ؒ فرماتے ہیں :

اوریہ بات مخفی نہیں ہے کہ اسقاط کاگناہ قتل کاگناہ ہے ،اگر اس کی خلقت ظاہر ہوجائے اوروہ اس کے فعل سے مر جائے (۱۰)

البتہ اگر عورت کی جان کاخطر ہ ہوتو اس صورت میں بھی اسقاط کی اجازت ہوگی، جیساکہ فقہا ء نے صراحت کی ہے کہ جب بچہ ماں کے پیٹ میں مر جائے اوراس کے نکالنے کا راستہ نہ ہو او رنہ نکالنے کی صور ت میں ماں کی جان جانے کا خطر ہ ہو تو اس صورت میں ماں کی جان بچانے کی غرض سے بچہ کو کاٹ کاٹ کرنکال لینا جائز ہے ۔فتاوی ہندیہ میں ہے :

او رجب لڑکا حاملہ کے پیٹ میں ہو او رلڑکے کو نکالنے کاکوئی راستہ نہ ملے سوائے اس کے کہبچہ کوکاٹ کاٹ کر نکالا جائے اور اگرایسانہ کیاتوماں کی جان کے نقصان کاخوف ہے ،توفقہاء فرماتے ہیں کہ اگربچہ پیٹ میںمرچکا ہوتوکاٹ کاٹ کر نکالنے میں کوئی حر ج نہیں ،اوراگر وہ زندہ ہو توبچہ کو کاٹ کاٹ کرنکالنا جائز نہیں ہے (۱۱)

جب جان پڑ جانے کے بعد جنین مر جائے توماں کی جان کوہلاکت سے بچانے کے لئے اس جنین کوکاٹ کاٹ کر نکالنے کی اجازت ہے ،تو جان پڑنے سے قبل اس عظیم مقصدکے لئے بدرجہ اولی اس کی اجازت ہوگی ۔

تیسری صورت

حمل کا استقرار ہوجانے کے بعد بلا عذر شرعی اس کااسقا ط جائز نہیں ہے ،خواہ اعضاء

کی تخلیق ہوئی ہویانہ ہوئی ہو ،ا س لئے کہ اس کا مستقبل زندگی ہے ،لہذا اس کو بھی زندہ کا حکم دیا جائے گا ،جیساکہ محرم اگر انڈے کوتو ڑ دے توزندہ شکار مارنے کا حکم دیا جائے گا ،علامہ شامی ؒ فرماتے ہیں :

ما دئہ منویہ کے رحم میں جانے کے بعد اب اس کا مآ ل حیات اورزندگی ہے؛ لہذا وہ زندہ وجو د کے حکم میں ہوگا ،جیساکہ حرم کے شکار کے انڈے کا حکم ہے (۱۲)

البتہ اگر کوئی شرعی عذرہے مثلا استقرار حمل کی وجہ سے عورت کا دودھ ختم ہو جائے اوربچہ کے والد کے پاس اتنی مالی صلاحیت نہیں ہے کہ و ہ دایہ رکھ کر بچے کو دودھ پلواسکے ،جس کی وجہ سے لڑکے کی ہلا کت کا اندیشہ ہے ،یاطبی آلات کے ذریعہ یہ یقین ہوجائے کہ اس حمل کے ذریعہ پیدا ہونے والا بچہ کسی خطرناک موروثی مر ض ،کوئی خلقی نقص اورجسمانی اعتبارسے غیر معتدل ہوگا ،یا ماں کی جان کاخطر ہ ہو ،یاماں کی جسمانی صحت ،یا دماغی توازن کے متاثر ہونے کا قوی اندیشہ ہویا اوراس قسم کے دیگر شرعی عذر کی وو جہ سے اعضاء کی تخلیق سے قبل اسقاط کی اجازت ہوگی ،کیوںکہ شریعت کااصول ہے ، ضرر ونقصان قابل ازالہ ہے ، کوئی معاملہ جب تنگ اورحر ج والا ہوجائے تواس میں وسعت اورگنجائش پیدا ہوجاتی ہے ،علامہ حصکفی ؒ فرماتے ہیں :

اسقاط جائز ہے ،جب تک کہ حمل متصور نہ ہو ،علامہ شامی ؒ نے عذر کے تحت لکھاہے ،مثلا :دودھ والی عورت جب وہ حاملہ ہوجائے اوراس کادودھ ختم ہوجائے اوربچہ کے والد کی اتنی استطاعت نہ ہوکہ وہ دایہ کواس کی اجرت دے سکے ،جس کی وجہ سے لڑکے کی ہلا کت کاخوف ہو توفقہاء مباح کہتے ہیں ، اسقاط حمل کوجب تک کہ وہ مضغہ ہو یا علقہ ہو اورحمل کاکوئی عضو پید ا نہ ہوا ہو ، اورفقہاء نے

اس مدت کا اندازہ ایک سوبیس دن سے کیاہے (اس سے قبل اسقاط ) جائز ہے، اس لئے کہ وہ آدمی نہیںہے اوراسی میں آدمی کی حفاظت ہے (۱۳)

اورفتاوی عالمگیری میںہے :

حمل کوساقط کرنے کے لئیتدبیر کرنا جب کہ اس کی خلقت ظاہر ہوگئی ہو جیسے کہ بال ،ناخن اوران جیسے جائزنہیں ہے ،اوراگر خلقت ظاہر نہ ہوئی ہوتوجائزہے ، (۱۴)

تنگیٔ معاش یامسئلہ رزق

Hamal Kin Majburi Aur Kitne Din Tak Giraya Ja Sakta Hai

معاشی اسباب کے تحت تاکہ ہر بچہ کا مستقبل بہتر ہو ،یہ عذر شرعی نہیںاوراس کی وجہ سے قطعا اسقاط کی اجازت نہیں دی جاسکتی ،نہ ہی نفخ روح یعنی ایک سو بیس دن سے پہلے اورنہ ہی نفخ روح یعنی ایک سو بیس دن کے بعد ،کیونکہ معاش کے اعتبار سے مستقبل کی بہتری اللہ نے اپنے ذمہ لے رکھی ہے ،ار شا د باری ہے :

ومامن دابۃ فی الا رض الا علی اللہ رزقہا ( ہو د :۶)

روئے زمین پر کوئی چوپایہ نہیں ،مگر اللہ کے ذمہ اس کا رزق ہے ،

ایک اور جگہ ارشادہے :

وجعلنا لکم فیہا معایش ومن لستم لہ برازقین وان من شی ء الا عند ناخزائنۃ وماننزلہ الا بقدر معلوم (الحجر : ۲۰)

اورہم نے تمہارے واسطے اس میں معاش کے سامان بنائے اوران

کو بھی معاش دی کہ جن کوتم روزی نہیں دیتے اورجتنی چیزیں ہیں ہمارے پاس سب کے خزانے ہیں اورہم اس کوایک معین مقدار سے اتارتے رہتے ہیں ۔

اس آیت میں اللہ نے صاف واضح فرمایاہے کہ انہوں نے اس کائنات میں انسان اوردوسرے تمام مخلوقات کے لئے معیشت کے لا محدود خزانے رکھد ئیے ہیں ،اوران کے پاس ہر چیز کے غیر متناہی خزانے ہیں ،البتہ ان خزانوں کا انکشاف متعین اورمحدود مقدار میں کرتے ہیں۔

مذکور ہ بالا آیات سے واضح طور پر یہ بات ظاہرہوئی کہ خاندان کاہر نفس اپنے حصہ کا رزق اپنے ساتھ لاتاہے اورکوئی فرد دوسرے کے رزق کا ذمہ دار نہیں ، چونکہ اللہ تعالی ازل وابد میں عالم ہے ،اس لئے اللہ نے ان آیتوں کو نازل فرماکر بنی آدم کومطمئن کردیاکہ انسانی نسل کے اضافہ سے کوئی روزی کی فکر اور وہمِ باطل کا شکار نہ بنے ،اور احا دیث کے تتبع سے اس سے بڑھ کر یہ بات ملتی ہے کہ خاندان کی وسعت قلت رزق کا باعث نہیں؛ بلکہ کشادگی رزق کاباعث ہے ،اس لئے بارگاہ نبوی سے یہ ہدایت کی گئی ہے کہ رزق کونکا ح کے ذریعہ تلا ش کرو (۱۵)اورکثرت عیال کو موجب برکت قرار دیا ہے کہ جس گھر میںچھوٹے بچے نہ ہو ں اس میں برکت نہیں ۔ (۱۶)

حافظ ابن کثیر نے صحیحین سے حضرت عبداللہ ابن مسعو د ؓ کی ایک روایت نقل کی ہے جس میں شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ اسی کوکہاگیاہے کہ معاشی پریشانی کے خدشہ سے اولا د کو قتل کیا جائے (۱۷)

خلا صہ یہ ہے کہ معاشی تنگی وبدحالی کے اندیشہ سے اسقاط حمل کرانا اللہ پر اعتما د اوراس کی رزاقیت پر ایمان رکھنے کے صریح منافی ہے ،اس لئے غیر شرعی او ر بے بنیا د مقصد کے پیش نظر اسقاط حمل نا جائز اورحرام ہے 

حمل بالزنا کااسقاط

اگر زنا بالجبر کے نتیجہ میں حمل ٹھہرجائے

 اوراس پر چار ماہ گذرگئے ہوں اوروہ عورت کنواری ہوتو اس صورت میں اسقاط کی اجازت ہونی چاہئے تاکہ وہ بے چاری ایک غیر ارادی فعل کی وجہ سے ازدواجی زندگی کی نعمت سے ہمیشہ کے لئے محروم نہ ہو اوراگر حمل زنا بالرضاء کے نتیجہ میں ہو اور اس حمل پر چار ماہ نہ گذرے ہوں ،توبھی اسقاط کی اجازت نہیںہوگی (۱۸)

تحدید نسل کے ملکی قانون کی بناء پر اسقاط

جہاں تک ملکی قانون پر عمل کرنے کی بات ہے تویہ بات ذہن نشین رہے کہ حکومت وقت کے وہ قوانین جوشریعت مطہر ہ کے مخالف نہ ہوں ،نیز ان پر عمل کرنے میں خدا اوراس کے رسول کی نافرمانی نہ ہوتی ہو، تو ان پر عمل کرنا لازم ہے ورنہ ان قوانین پر عمل صحیح نہیںہے ،حضرت حسن ؒ حضور ﷺ کا ارشا د نقل فرماتے ہیں :خالق کی نافرمانی میںمخلوق کی کوئی اطاعت نہیں (۱۹)

اورعلامہ حصکفی ؒ فرماتے ہیں :

سلطان کاحکم اسی وقت نافذ ہوگا ،جب وہ شریعت کے موافق ہو ورنہ نہیں (۲۰)

الغرض ان فقہی عبارات کے پیش نظر تحدید نسل کے ملکی قانون کی بناء پر اسقاط جائز نہیں

Spread the love

Leave a Comment

%d bloggers like this: