Humbistari Ke Masail in Urdu | Humbistari ka tarika | humbistari ka islami tariqa | humbistari ka sunnat tarika | Hambestri Kha Karni Chahiya | Hambestri Ke Adab

 احکام مباشرت

Humbistari Ke Masail in Urdu | Humbistari ka tarika | humbistari ka islami tariqa | humbistari ka sunnat tarika | Hambestri Kha Karni Chahiya | Hambestri Ke Adab


(یعنی میاں بیوی کے خصوصی احکام و مسائل)�

بیوی کے پاس جانے میں بھی ثواب ملتا ہے

حدیث میں یہاں تک آیا ہے کہ انسان جو بیوی کے پاس (خواہش پوری کرنے) جاتا ہے اس میں بھی ثواب ملتا ہے۔ کسی نے کہا یا رسول اللہ! یہ تو اپنی خواہش کا پورا کرنا ہے‘ اس پر کیوں ثواب ملتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے جواب دیا کہ اگر اپنی خواہش کو بے محل صرف کرتا تو گناہ ہوتا یا نہیں؟ صحابہ نے عرض کیا ہاں یا رسول اللہ آپ نے فرمایا تو جب حلال موقع میں صرف کرتا ہے تو اسے ثواب بھی ملنا چاہئے۔

 Humbistari Ke Masail in Urdu

(الحیٰوۃ‘ حقیقت مال و جاہ صفحہ ۵۰۱)

بیوی کے پاس کس نیت سے جانا چاہئے

{وَابْتَغُوْا مَا کَتَبَ اللّٰہُ لَکُمْ} یعنی بیوی کی قربت سے اولاد کا قصد کرو جس کو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے مقدر فرمایا ہے۔

مسلمان کی دنیا بھی دین ہی ہے مگر یہ ضروری ہے کہ نیت کر کے اس کو دین بنانا چاہئے۔ اس بنیاد پر مسلمان دنیا دار ہو ہی نہیں سکتا۔ مثلاً نکاح دنیا کا قصہ ہے اور کوئی اہل اسلام کے ساتھ خاص نہیں‘ دین محض (خالص دین) تو وہ ہے جو اہل اسلام کے ساتھ مخصوص ہو اور نکاح تو کافر و مسلم دونوں میں مشترک ہے۔

بظاہر اس سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ صرف دنیا کا قصہ ہے مگر حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں بھی نیت یہ ہونی چاہئے کہ اس سے عفت محفوظ رہے اور طبیعت منتشر نہ ہو اور جمعیت خاطر کے ساتھ عبادت ہو سکے۔ اگر اس طرح نیت کرے گا تو نکاح عبادت ہو جائے گا۔ (الحیٰوۃ صفحہ ۵۰۰ ملحقہ حقیقت مال و جاہ)

صحبت کرنے کا طریقہ


Humbistari ka tarika 


{نِسَائُ کُمْ حَرْثٌْ لَّکُمْ فَاْتُوْا حَرْثَکُمْ اَنّٰی شِئْتُمْ}

(ترجمہ و تشریح) صحبت آگے کے موقع میں ہو(یعنی شرمگاہ میں اور) یہ حکم اس لئے ہے کہ تمہاری بیویاں تمہارے لئے بمنزلہ کھیت کے ہیں‘ جس میں نطفہ بجائے تخم کے اور بچہ بجائے پیداوار کے ہے۔ (یعنی مادہ منویہ بمنزلہ بیج کے اور بچہ بمنزلہ پیداوار کے ہے) سو اپنے کھیت میں جس طرح سے ہو کر چاہو آئو اور جس طرح کھیتوں میں اجازت ہے اسی طرح بیویوں کے پاس پاکی کی حالت میں ہر طرف سے آنے کی اجازت ہے‘ (یعنی ہر طریقہ سے صحبت کرنے کی اجازت ہے) خواہ کروٹ سے ہو یا پیچھے یا آگے بیٹھ کر ہو یا اوپر یا نیچے لیٹ کر ہو یا جس ہیئت (طریقہ) سے ہو مگر آنا ہو ہر حال میں کھیت کے اندر کہ وہ خاص آگے کا موقع ہے کیونکہ پیچھے کا موقع (پاخانہ کا مقام) کھیت کے مشابہ نہیں (اس لئے) اس میں صحبت نہ ہو پیچھے کے موقع (یعنی پاخانہ

مقام) میں اپنی بیوی سے صحبت کرنا حرام ہے۔

اور ان لذات میں ایسے مشغول مت ہو جائو کہ آخرت ہی کو بھول جائو بلکہ آئندہ کے واسطے بھی اپنے لئے کچھ اعمال صالحہ کرتے رہو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور یہ یقین رکھو کہ بیشک تم اللہ کے سامنے پیش ہونے والے ہو۔ (بیان القرآن سورۃ بقرہ صفحہ ۱۲۹ جلد ۱)

humbistari ka islami tariqa

شوہر بیوی کو ایک دوسرے کا ستر دیکھنے سے متعلق بعض احادیث

اپنے شوہر سے کسی جگہ کا پردہ نہیں ہے‘ تم کو اس کے سامنے اور اس کو تمہارے سامنے سارے بدن کا کھولنا درست ہے مگر بے ضرورت ایسا کرنا اچھا نہیں ہے۔

(بہشتی زیور صفحہ ۴۹ حصہ ۳)

شوہر کے روبرو (سامنے) کسی جگہ کا بھی اخفاء (پردہ) واجب نہیں گو خاص بدن کو دیکھنا خلاف اولیٰ ہے۔

((قالت سیدتنا ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا ما محصلہ لم ارمنہ ولم یر منی ذالک الموضع)) (اوردہ فی المشکوٰۃ)

’’ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ وہ مخصوص مقام (یعنی شرمگاہ) نہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے میرا دیکھا اور نہ میں نے آپ کا دیکھا‘‘ (مشکوٰۃ)

((و روی عن ابن عباس مرفوعا اذا جامع احدکم زوجتہ او جاریتہ فلا ینظر الی فرجھا فان ذلک یورث العمی قال ابن الصلاح جید الاسناد کذا فی الجامع الصغیر))

(بیان القرآن سورۃ نور صفحہ ۸۔۱۶)

 humbistari ka sunnat tarika


’’اور حضرت ابن عباس سے مرفوعا مروی ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی یا باند ی سے جماع کرے تو اس کی شرمگاہ نہ دیکھے کیونکہ یہ اندھے پن کو پیدا کرتاہے۔ ابن صلاح فرماتے ہیں کہ اس کی اسناد اچھی ہے‘ جامع صغیر میں اسی طرح ہے۔‘‘

بیوی کا ستر دیکھنے کا نقصان

تنہائی میں بلا ضرورت برہنہ نہ ہونا چاہئے اور بیوی کا ستر دیکھنا تو اس سے بھی زیادہ شرمناک ہے‘ بعض حکماء نے کہا ہے کہ اس حرکت سے اولاد اندھی پیدا ہوتی ہے۔ لیکن اگر اندھی نہ ہو تو بے حیاء ضرور ہوتی ہے اور وجہ اس کی یہ ہے کہ اس وقت خاص میں جس قسم کی اس سے حرکت ہوتی ہے‘ اولاد کے اندر وہی خصلت پیدا ہوتی ہے اسی واسطے حکماء نے لکھا ہے کہ انزال کے وقت اگر زوجین (میاں بیوی) کو کسی اچھے آدمی کا تصور آجائے تو بچہ نیک ہوگا۔ اسی واسطے پہلے لوگ اپنے خلوت کے کمرے میں علماء اور حکماء کی تصویریں رکھا کرتے تھے۔ (لیکن اسلام نے آکر اس کو ناجائز قرار دے دیا) ہمارے پاس تو ایسی تصویر ہے کہ وہ ان تصویروں سے بے نیاز کرنے والی ہے۔

Hambestri Kha Karni Chahiya | Hambestri Ke Adab 

دل کے آئینہ میں ہے تصویر یار

جب ذرا گردن جھکائی دیکھ لی

یعنی ہم کو چاہئے کہ ہم اللہ تعالیٰ کا تصور کریں اور یہ دعاء پڑھیں۔

((اللھم جنبنا الشیطان و جنب الشیطان ما رزقتنا 

اللہ جل جلالہ سے زیادہ کون ہے کہ جس کا خیال کیا جائے‘ شیطان کا خیال اس وقت نہ ہونا چاہئے۔ (التہذیب ملحقہ مفاسد گناہ صفحہ ۴۸۸)

صحبت کے وقت دوسری عورت کا تصور کرنا حرام ہے

فرمایا اگر اپنی بیوی کے پاس ہو اور صحبت کے وقت کسی اجنبیہ کا قصداً تصور کرے تو وہ حرام ہو گا۔ (ملفوظات اشرفیہ صفحہ ۹۷

Spread the love

Leave a Comment

%d bloggers like this: