Jhooti Qasam Ka kaffara ! Kasam Torne Ka Kaffara ! Quran Ki Jhooti Qasam Ka Kaffara ! قسم کاکفارہ | Kasam todne ka kaffara shia

 جھوٹی قسم

Jhooti Qasam Ka kaffara ! Kasam Torne Ka Kaffara ! Quran Ki Jhooti Qasam Ka Kaffara ! قسم کاکفارہ | Kasam todne ka kaffara shia


Jhooti Qasam Ka kaffara

زبان کی آفتوں میں سے ایک عظیم آفت جھوٹی قسم کھاناہے۔ قسم کھانا درحقیقت شہادت یعنی گواہی ہے۔جو شخص کسی بات پر خدا کی قسم کھا کر کہتا ہے۔ وہ دراصل اپنی بات یا عمل کی سچائی پر خدا کو گواہ بناتا ہے۔اس سے ظاہر ہے کہ اس معاملہ کی اہمیت کتنی بڑی ہے لیکن اس عظمت اور اہمیت کے باوجود بعض لوگ بات بات پر جھوٹی قسم کھانے کے عادی ہوتے ہیں۔ گویا وہ لوگوں کو فریب بھی دے رہے ہیں۔ اور اس فریب اور جھوٹ پر نعوذ باللہ ۔ اللہ تعالیٰ کو گواہ بناتے ہیں‘ اس سے باآسانی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ایسا کرنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک کتنا بڑا جرم ہوگا۔ اصل بات یہ ہے کہ بلاضرورت نفس قسم کھانا ہی ناپسندیدہ او ربرا فعل ہے ۔پھر جھوٹی قسم کھانا تو عظیم گنا ہ ہے ۔ اور سخت ممنوع ہے ۔ایسی قسم کھانا جھوٹ کی بدترین شکل ہے۔ کیونکہ اس میں جھوٹ بولنے والا اپنے ساتھ خدا کو بھی شریک کرنا چاہتا ہے ۔

مسئلہ یہ ہے کہ کسی آئندہ بات یا معاملہ کے بارے میں کوئی فرد قسم کھالے تو اس کو پورا کرنا لازمی ہوجاتا ہے پورا نہ کرنے کی صورت میں گنہگار ہوجاتا ہے۔ اور اس پر کفارہ لازم ہے۔

’’اللہ تعالیٰ تمہاری بے ارادہ قسموں پر تم سے مواخذہ نہیں کرے گا۔ لیکن پختہ قسموں پر(جن کے خلاف کروگے) مواخذہ کریگا۔ توا س کا کفارہ دس محتاجوں کو اوسط درجے کا کھانا کھلاتا ہے‘ جو تم اپنے اہل وعیال کو کھلاتے ہو‘ یا ان کو کپڑے دینا یا ایک غلام آزاد کرنا ‘ اور جن کویہ میسر نہ ہو وہ تین روزے رکھے۔ یہ تمہاری قسموں کاکفارہ ہے جب تم قسم کھالو۔ (اور اسے توڑ دو) اور (تم کو ) چاہیے کہ اپنی قسموں کی حفاظت کرو۔‘‘ [سورئہ المائدہ]

Kasam Torne Ka Kaffara


آیت مذکورہ میں قسم کھانے کی چند صورتوں کا بیان ہے ۔ کہ اگرکسی گزشتہ واقعہ پرجان بوجھ جھوٹی قسم کھائے تواس کو یمین غموس کہتے ہیں۔ یہ جھوٹی قسم سخت گناہ کبیرہ او رموجب وبال دنیا و آخرت ہے ۔ مگر اس پر کفارہ واجب نہیں ہوتا۔ صرف توبہ واستغفار لازم ہے ۔ اصطلاح فقہاء میں اس کو یمین غموس اس لئے کہتے ہیں کہ غموس کامعنی ہے ڈبو دینے والا۔ اس لئے یہ قسم انسان کو گناہ اور وبال میں غرق کردینے والی ہے ۔ دوسری صورت یہ ہے کہ گسی گزشتہ واقعہ پر اپنے آپ کو سچا سمجھ کر قسم کھائے۔ اور واقعہ میں وہ غلط ہو، تو اس کو یمین لغو کہتے ہیں ‘ اسی طرح بلاقصد وارادہ زبان سے لفظ قسم نکل جائے اسکی یمین لغو کہتے ہیں ‘ اس پر نہ کفارہ ہے نہ گناہ ‘ تیسری صورت یہ ہے کہ آئندہ وقت میں کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کی قسم کھائے۔ اس کو یمین منعقدہ کہاجاتا ہے ۔اس قسم کو توڑنے کی صورت میں کفارہ واجب ہوتا ہے ۔[خلاصہ مطالب تفسیر معارف القرآن]

miya biwi ka rishta

جھوٹ کی قسمیں کھانے والے جان بوجھ کر جھوٹ بولتے ہیں۔اس لئے یہ نفاق کی بڑی نشانی ہے۔ اہلِ نفاق کی حالت قرآن نے یہ بتائی :

’’اور جان بوجھ کر جھوٹی باتوں پر قسمیں کھاتے ہیں ‘‘[سورہ المجادلہ]

اسی طرح صحیح مسلم میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

’’ جو کسی مسلمان کے حق کو جھوٹی قسم کھا کر لینا چاہے گا۔ تو خدا اس پر دوزخ کی آگ واجب کرے گا۔صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا اگرچہ معمولی سی چیز ہے؟ فرمایا درخت کی ڈالی ہی کیوں نہ ہو۔‘‘

ایک اور ارشاد ہے کہ :

’’ جس نے کسی مسلمان کے مال پر ناحق قسم کی تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سے ملے گا اس حال میں کہ وہ اس پر غصہ ہوگا۔‘‘

جھوٹی قسم کھا کر کسی کے مال پر دعویٰ کرنا خدا کے نام پر جھوٹ بولنا ہے ۔ اور ایک کی بجائے دوگنا ہوں کا ارتکاب کرنا ہے یعنی غصب اور جھوٹ اور وہ بھی اللہ کے نام پر ۔ ارشاد ربانی ہے

جو لوگ اللہ کے اقراروں اور اپنی قسموں(کو بیچ ڈالتے ہیں اوران) کے عوض تھوڑی سی قیمت حاصل کرتے ہیں‘ ان کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں ۔ ان سے اللہ نہ تو کلام کرے گا اور نہ قیامت کے روز ان کی طرف دیکھے گا اور نہ ان کو پاک کرے گا او ران کو دکھ دینے والا عذاب ہوگا ۔‘‘ [سورہ آل عمران]

Muharram Mein Biwi Se Humbistari

سید سلیمان ندویؒ لکھتے ہیں کہ:

’’ ابن جریر کی بعض روایتوں کے مطابق یہ آیت ان تاجروں کے بارے میں ہے جو جھوٹی قسمیں کھا کھا کر اپنا مال بیچتے ہیں۔ ان کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا کہ تین آدمی ہیں جن کی طرف خدا قیامت کے دن نہ دیکھے گا۔ نہ ان کو پاک کرے گااوران کیلئے دردناک عذاب ہے۔

ایک صحابی نے عرض کیا کہ کون یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو جھوٹی قسمیں کھا کر اپنا مال بیچتا ہے‘ بعض تجارت پیشہ حضرات مال کی اصل حقیقت اور قیمت بتانے میں جھوٹ کا ارتکاب کرتے ہیں اور جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خاص طور پر ایسا کرنے سے منع فرمایا ہے۔ ’’خرید وفروخت میں زیادہ قسمیں کھانے سے بچو ‘‘

قرآن و حدیث کی روشنی میں یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ جھوٹی قسمیں کھانا مسلمان نہیں بلکہ منافق کی عادت اورنشانی ہے۔ یہ غلط زبانی کی ایک سنگین قسم ہے۔ اس لئے جھوٹی قسمیں کھانے سے اجتناب لازمی ہے۔

I Covered these points in the video

> jhooti qasam ka kaffara

> qasam ka kaffara

> quran ki jhooti qasam ka kaffara

> quran ki qasam ka kaffara

> jhooti qasam

> kasam ka kaffara

> jhooti qasam ka kaffara in urdu

> quran ki qasam khane ka kaffara

> jhooti qasam ka kaffara kya hai

> kasam ka kafara

> qasam ka kaffara kya hai

> quran ki qasam todne ka kaffara

Spread the love

Leave a Comment

%d bloggers like this: