Jinnat Ka Chori Karna ! Kya Jinnat Chori Karte Hain ! Chor ka Pata Lagane Ka Upay | jinnat ki duniya | جنات کی کتاب | chor ka pata lagane ka wazifa

 جنات کے حقوق

Jinnat Ka Chori Karna ! Kya Jinnat Chori Karte Hain ! Chor ka Pata Lagane Ka Upay  | jinnat ki duniya | جنات کی کتاب


: اسی طرح جنا۔ّت بھی اس جہان کے باشندے ہیں جن کے حقوق ہیں۔ اُنھیں مکان، غذا اور امن کا حق دیا گیا ہے، جسے پامال کرنے کا کسی کو حق نہیں، جس طرح وہ ویرانوں میں رہتے ہیں ویسے ہی اُنھیں حق دیا گیا ہے کہ ہمارے گھروں میں بھی بود و

اختیار کریں۔ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر گھر میں بھی جنا۔ّت بسے ہوئے ہیں۔ چوں کہ وہ اپنے کام میں لگے رہتے ہیں اور ہم اپنے کام میں، اس لیے ہمیں پتہ نہیں چلتا کہ کوئی جن ہمارے گھر میں آباد ہے۔ البتہ جو بدطینیت اور شر۔ّی، فسادی ہوتا ہے اور ہمیں ستاتا ہے تو ہم کہنے لگتے ہیں کہ فلاں گھر میں آسیب کا اثر ہے اور پھر عاملوں کی طرف رجوع کرتے ہیں کہ وہ عملیات سے اس جن کو بند کریں یا جلا ڈالیں۔

بہر حال جب جنا۔ّت بدی پر آجائیں تو پھر ان کا مقابلہ، بلکہ ان سے مقاتلہ کی اجازت بھی دی گئی ہے۔

جنات میں مختلف مذاہ

: ورنہ جہاں تک نیک اور مؤمن جنا۔ّت کا تعلق ہے ہمیں کوئی حق نہیں کہ اپنے گھروں سے اُنھیں نکالنے کی فکر میں رہیں، بلکہ ان کی طاقت اور نیکی سے خود ہمیں بھی فائدہ پہنچے گا۔ رہی بدی اور ایذا رسانی، سو وہ انسان کی بھی گوارا نہیں کی گئی، چہ جائے کہ جنا۔ّت کی کی جاتی۔

بہر حال یہ واقعہ ہے کہ جنا۔ّت میں ہر قسم کے افراد ہیں، نیک ہیں اور بد بھی ہیں، مسلم بھی ہیں اور غیر مسلم بھی، مشرک بھی ہیں اور یہودی و نصرانی بھی۔ چناں چہ قرآنِ کریم نے اس طرف کھلا اشارہ فرمایا ہے۔ حضورﷺ کی بعثت سے قبل جنا۔ّت آسمانوں کے دروازوں تک آجاسکتے تھے اور ملائکہ کی گفتگوؤں سے وحیٔ خداوندی کے کچھ الفاظ اُچک لاتے تھے جس میںاپنی طرف سے جھوٹ ملا کر اپنے معتقدوں کو سناتے اور پھر غیب دانی کے دعوے کرکے مخلوق کو اپنے دام میں پھانستے۔ حضورﷺ کی بعثت کے وقت ان کا آسمانوں کی طرف چڑھنا بند کردیا گیا تو اُنھیں پریشانی ہوئی کہ یہ کیا نیا حادثہ پیش آیا ہے جس نے ہم پر یہ بند ش عائد کردی، اور یہ کون سی نئی بات ظہور میں آئی ہے جس کی بد ولت ہم پر یہ پابندی عائد کردی گئی ہے۔ چناں چہ کچھ جنا۔ّت اس وجہ کی تلاش میں نکلے اور مشرق و مغرب میں گھومے، کسی نے مغرب کی راہ لی اور کسی نے مشرق کی، کسی نے شمال کو چھانا اور کسی نے جنوب کو۔ ان میں سے ایک جماعت کا گزر مکہ میں ہوا تو دیکھا کہ حضورﷺ قرآن پڑھ رہے ہیں۔اس کا طرز و نرالا اور رہبرانہ دیکھ کر اور یہ سمجھ کر کہ اس کی ہدایت کی زَد ٹھیک ہمارے شر۔ّ کے اُوپر ہے، سمجھ گئے کہ بس یہی وہ بات ہے جس سے ہم پر اور ہمارے شر۔ّی افعال پر یہ پابندی عائد کی گئی ہے۔ انھوں نے جاکر اپنے بھائیوں کو اطلا ع دی کہ

{اِنَّا سَمِعْنَا قُرْاٰنًا عَجَبًاO یَّہْدِیْٓ اِلَی الرُّشْدِ فَاٰمَنَّا بِہٖط}1

ہم نے ایک عجیب قسم کا پڑھا جانے والا کلام سنا ہے، جو نیکی کے راستہ کی طرف راہ نمائی کرتا ہے، سوہم تو اس پر ایمان لے آئے۔

جس سے معلوم ہوا کہ ان میں کافر بھی تھے جو بعد میں ایمان لائے، تو ان میں کافر و مؤمن کی دونوں نوعیں نکلیں۔ پھر آگے فرمایا:

{وَلَنْ نُّشْرِکَ بِرَبِّنَآ اَحَدًاO}2

اور ہم اب ہرگز کسی چیز کو اللہ کا شریک نہ ٹھہرائیں گے۔

اس سے معلوم ہوا کہ ان میں مو۔ّحد و مشرک کی تقسیم بھی تھی، کچھ مشرک تھے اور کچھ مو۔ّحد۔ آگے فرمایا:

{وَّاَنَّہٗ تَعٰلٰی جَدُّ رَبِّنَا مَا اتَّخَذَ صَاحِبَۃً وَّلَا وَلَدًاO}3

اور یقینا ہمارے پروردگار کی شان بہت بلند ہے اس سے کہ اس کے کوئی بیوی اور بیٹا ہو۔

معلوم ہوا کہ ان میں بعض عیسائی بھی تھے، جو عقیدۂ زوجیت اور ابنیّت (یعنی اللہ کے بیوی اور بیٹا ہونے) کے قائل تھے۔ آگے فرمایا:

{وَّاَنَّہٗ کَانَ یَقُوْلُ سَفِیْہُنَا عَلَی اللّٰہِ شَطَطًاO}4

اور ہم میں سے بے وقوف اللہ تعالیٰ پر حد۔ّ سے زیادہ جھوٹ اور افترا باندھتے تھے۔

معلوم ہوا کہ ان میں ملحد بھی تھے جو اپنی سفاہت اور بد عقلی سے خدا پر جھوٹ باندھ کر غیرِ دین کو دین باور کراتے تھے اور وحیٔ الٰہی کے نام سے اپنے ۔ّتخیلاتِ فاسدہ پھیلانے کے عادی تھے۔

بہرحال اس سے واضح ہوا کہ جنا۔ّت میں مختلف فرقے اور مختلف خیالات و عقائد کے

 افراد پائے جاتے ہیں، تاہم اس سے ان کے قدرتی حقوق پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہ بد کاروں کو سزا و سرزنش کی جائے جیسے انسانوں کو کی جاتی ہے، لیکن ان کے حقوق کو نہیں ختم کیا جاسکتا، حتیٰ کہ فقہا اس پر بحث بھی کرتے ہیں کہ مسلم جن عورت سے شادی بھی ہوسکتی ہے یا نہیں؟

فقہا کی بحث: بعض فقہا نے اس نکاح کو جائز کہا ہے بعض نے ناجائز، جس کی نظر اس پر ہے کہ نکاح ہم جنس سے ہوتا ہے نہ کہ غیرجنس سے۔ وہ یہ نکاح جائز نہیں قرار دیتے، کیوں کہ یہ نکاح ایسا ہی ہوگا جیسے آدمی بکری یا گائے سے نکاح کرے تو جانور بو جہ غیرِ جنس ہونے کے محلِ نکاح ہی نہیں، اس لیے نکاح نہ ہوگا۔

اور جن کی نظر اس پر ہے کہ جنا۔ّت میں شعور ہے اور وہ شریعت کے مخاطب اور احکام کے مکلف ہیں، نیز انسانی شکل بھی اختیار کرسکتے ہیں۔ وہ نکاح جائز قرار دیتے ہیں۔

بہر حال جنا۔ّت کے مختلف حقوق ہیں، کچھ غذا کے حقوق ہیں، کچھ مکان کے ہیں، کچھ پڑوسی ہونے کے ہیں، یہاں تک کہ کچھ رشتۂ زوجیت کے بھی ہیں، ان کی رعایت لازمی ہے۔

جنات میں آں حضرتﷺ کی تبلیغ: حدیث شریف میں آتا ہے کہ ایک دفعہ حضورﷺ کی خدمت میں نصیبین کے جنا۔ّت کا ایک وفد آیا اور اس نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ہمارے بھائیوں کی ایک جماعت فلاں جگہ جمع ہوئی ہے، آپ تشریف لا کر اُنھیں وعظ و نصیحت فرمائیں اور اُن سے متعلق مسائل بیان فرمائیں، ان کے کچھ سوالات بھی ہیںجن کا حل چاہتے ہیں۔ حضورﷺ تشریف لے گئے، حضرت عبد اللہ ابنِ مسعودؓ بھی ساتھ تھے۔ حضورﷺ جب اس پہاڑ کے دامن میں پہنچے جس پر جنا۔ّت کا اجتماع تھا تو آپﷺ نے ایک دائرہ کھینچا اور حضرت عبد اللہ ابنِ مسعودؓ سے فرمایا کہ اس دائرے سے باہر نہ نکلیں۔ عبد اللہ ابنِمسعودؓ فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ عجیب عجیب قماش کے لوگ اس دائرہ کے باہر سے گزر رہے ہیں، لیکن دائرہ کے اندر نہیں آسکتے، اُن کی آوازیں بھی آتی تھیں۔ بہر حال حضورﷺ اُن کے مجمع میں پہنچے اور وعظ فرمایا اور مسائل بتلائے۔ اسی میں فرمایا کہ کوئی انسان ہڈی سے استنجا ء

کرے اور وجہ یہ فرمائی کہ فَإِنَّھَا زَادُ إِخْوَانِکُمْ مِنَ الْجِنِّ (کیوں کہ یہ تمہارے جنا۔ّت بھائیوں کی خوراک ہے)۔

جس سے واضح ہوا کہ ان کی غذا کے حقوق کو تلف کرنا جائز نہیں، پھر حدیث ہی میں ہے کہ جب آپ لوگ ہڈی سے گوشت کو کھالیتے ہیں تو یہ ہڈیاں جنا۔ّت کو ’’۔ُپر گوشت‘‘ ہو کر ملتی ہیں۔

اس سے معلوم ہوا کہ پہلے انسان ہڈی سے استنجا کرتے تھے جس پر جنا۔ّت نے حضورﷺ سے شکایت کی، تو حضورﷺ نے ہڈی سے استنجا کرنے کی ممانعت فرمائی، جس سے جنا۔ّت غذائی حقوق کی حفاظت ثابت ہوئی اور یہ کہ ہمیں ان کے حقوق تلف کرنے کا کوئی حق نہیں۔ اسی طرح مکانات سے بے وجہ اُنھیں اُجاڑنا جائز نہیں، جب تک کہ وہ تکلیف پہنچانا شروع نہ کریں


I Covered these points in the video

 > jinnat ki chori ka saboot

> kya jinnaat chori karsakte hain

> kya jin bhi chori karte hai

> jinnat ka chori

> kya jinnat chori karte hai

> jinnat ki chori ka ilaj

> kya jin bee choori karte hain

. > kya jinnat chori kar sakte hai

> kya jinnat chori kar sakte hai m

> kya jinnat chori kar sakte

. > jinn chore karta hai

Spread the love

Leave a Comment

%d bloggers like this: