Karbala ka Waqia | waqia karbala | waqia karbala full bayan | karbala ki kahani | کربلا کا مختصر واقعہ | Who was Imam Hussain in Urdu

Karbala ka Waqia  

کربلا کا مختصر واقعہ

ایک شبہ کاازالہ: بعض لوگ کہہ دیاکرتے ہیں کہ تعزیہ امام حسینؓ کے روضۂ مبارک کی نقل اور تصویر ہے، اور عَلم ومہندی وغیرہ ان واقعات کی نقل ہے جو کربلا کے میدان میں حضرت امام حسینؓکوپیش آئے، توان واقعات کی نقل کرنے میں کیاقباحت ہے؟ اور تصویر بے جان چیز کی بنانا شرع میں جائز ہے، پھر تعزیہ بنانا کیوں ناجائز ہے؟

اس شبہ کاجواب یہ ہے کہ یہ صحیح ہے کہ تصویر بے جان چیز کی بنانا جائز ہے مگر اوّل تو اس تصویر کاصحیح اور واقعہ کے مطابق ہونا لازم ہے۔ ایک غلط تصویر بنا کر اس کے متعلق یہ دعویٰ کرنا کہ یہ فلاں کی تصویر ہے جھوٹی نسبت ہے جس سے شرع نے منع کیاہے اور وہ ناجائز اور حرام ہے۔ اور یہ بات کسی دلیل سے ثابت نہیں کہ تعزیہ وغیرہ کی جوشکل اس وقت عام طور پر مروّج ہے وہ یقینا روضۂ امامؓ کا ہی نقشہ اور اس کی ہی صحیح تصویر ہے۔ اس لیے غلط طور پر نسبت کرنے کی وجہ سے ان واقعات کی نقل اُتارنا ناجائز ہی رہا۔

اور اگریہ بھی مان لیاجائے کہ مختلف مقامات پرجونقشے روضۂ امامؓ کے بنانے کا طریقہ ہمارے دیارمیں مروّج ہے وہ روضۂ امام ہی کی تصویر بنائی جاتی ہے، جیساکہ کعبۂ معظمہ اور روضتہ النبیﷺ کے نقشے کاغذوغیرہ پربنائے جاتے ہیں، تو اگر اس تصویر کشی سے مقصود صرف نقشہ سمجھانا اور تخیل آرائی ہوتی تویہ بے جان کی تصویر کشی ہونے کی وجہ سے جائز ہوتی۔ لیکن جب روضۂ امامؓ وغیرہ کی تصویر بنانے کو ثواب کاکام سمجھا جاتا ہے، اور تعزیہ و عَلم وغیرہ بنانے سے بنانے والوں کا مقصود ہی ثواب حاصل کرنا ہوتا ہے تو اب یہ نقشہ بنانا بھی جائز نہیں رہا بلکہ بدعت سیئہ ہوگیا۔

کیوںکہ قبروں وغیرہ کے ایسے نقشے بنانا اور جعلی قبور کی زیارت کرنا رسول اللہ ﷺ اور اہلِ بیت کے ائمۂ اَطہارسے ہرگزثابت نہیں، نہ ان نقشوں کے بنانے پرانھوں نے ثواب بیان فرمایا۔ خصوصاً جب کہ ان مصنوعی صورتوں پر اصل کے احکام جاری کیے جائیں اور ان کے ساتھ بالکل اسی طرح کا معاملہ کیاجائے جس طرح کا معاملہ اصل کے ساتھ کیا جاتا ہے، تب تو اس کے ناجائز ہونے میں کسی طرح کا شک وشبہ ہی نہیں رہتا۔ کیوںکہ یہ طریقہ بت پرستوں کا ہے کہ کوئی شکل اپنے ہاتھ سے بناکر اُس کے ساتھ وہی معاملہ کیا جائے جو اصل کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ کعبۂ معظمہ اور روضۃ البنی ﷺ کے نقشوں کے ساتھ کوئی شخص ایسا معاملہ نہیں کرتا جو اصل کعبۂ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے ساتھ کیا جاتاہے۔ اس لیے کعبۂ معظمہ اور روضۂ مطہّرہ کے نقشوں پر قیاس کرکے تعزیہ بنانے کاجواز ہرگز ثابت نہیں ہوگا۔ تواب ان تعزیوں کے بنانے اور زیارت کرنے کو ثواب کا کام اور دین کی بات سمجھ کر کرنا یقینا إحداث في الدین اور بدعتِ سیّئہ ہوگا۔ {اَمْ لَہُمْ شُرَکٰٓؤُا شَرَعُوْا لَہُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا لَمْ یَاْذَنْم بِہِ اللّٰہُط} 1

اور پھر تعزیہ کے ساتھ ایسے ہی معاملات نہیں کیے جاتے جو اصل قبرکے ساتھ جائز ہیں، بلکہ ایسے معاملات بھی تعزیہ کے ساتھ اہلِ زمانہ کرتے ہیں جن کاکرنا اصل قبر کے ساتھ بھی جائز نہیں۔ جیسے اس کو طواف و سجدہ کرنا، جھک جھک کرسلام کرنا اور حضرت امامؓکی اس کو جلوہ گاہ سمجھ کراس ابرک پنّی لکڑی کے ڈھانچہ سے مرادیں مانگنا، اس کو حاجت روا جاننا، ان کاموں کا اصل قبر کے ساتھ کرنابھی ناجائز اور حرام ہے۔ پھر ان فرضی نقلوں اورجعلی قبروں کے ساتھ کرناکیسے جائز ہوگا۔ اس وجہ سے بھی تعزیہ کا بنانا ناجائز ہے۔ کیوں کہ یہ سبب بن گیا ہے بہت سے ممنوعات و منہیات کے ارتکاب کا۔

غیرذی روح کی تصویر کشی اس وقت تک جائز ہے جب تک کہ اس سے کوئی اور اعتقادی خرابی پیدا نہ ہو اور نہ وہ کسی گناہ اور معصیت کا سبب بنے۔ بعض جاہل ایک روایت بیان کرتے ہیں کہ پیغمبر ﷺ نے ایک شخص کو جس نے جنت کی چوکھٹ کوبوسہ دینے کی نذر مانی تھی، ماں باپ کی قبر کا بوسہ لینے کے لیے فرمایا تھا اور قبرمعلوم نہ تھی تو لکیر کھینچ کربوسہ لینے کاحکم فرمایا تھا۔ اس روایت کو فرضی قبروں اوردوسری بدعات کے جواز پردلیل بناتے ہیں۔ مگر یہ حدیث ہرگز صحیح نہیں بلکہ جعلی اور موضوع ہے اوراس میں شیعی راوی ہے۔

بعض جاہل کہتے ہیں کہ آںحضرت ﷺ نے فتح مکہ کے موقع پرحضرت ابراہیم ؑ کی تصویر کو توڑا نہیں بلکہ دفن کردیا تھا۔ مگر دفن کرنے کا ثبوت کوئی نہیں ہے۔ اور اگر زمانۂ جاہلیت کے قریب ہونے کی وجہ سے تالیفِ قلوب کے لیے اس کو دفن ہی کرادیا گیا ہو تو پھر بھی جب آںحضرت ﷺ نے اس کو باقی و قائم نہ رکھا بلکہ اس کو دفن کرکے علیحدہ کردیا تو آں حضرت ﷺ کی ناخوشی اورناراضگی تصویر کشی کے متعلق معلوم ہوگئی۔

اگرتصویر کشی کو آں حضرتﷺ پسند فرماتے توحضرت ابراہیم ؑ کی تصویر بطورِ تبّرک ضرورباقی اور قائم رکھتے اس کو دفن بھی کیوں کرتے۔ اس سے ثابت ہواکہ تصویر کشی ناجائز ہے اور جو تصویر پہلے سے بھی بنی ہوئی ہو اس کو بھی علیحدہ کردو۔ اگرچہ وہ کسی متبرک اور اولو العزم پیغمبر کی ہی تصویر کیوں نہ ہو۔ عجب تماشہ ہے کہ یہ حدیث تصویر بنانے کے لیے سندِ جواز ہوسکتی ہے؟ اس سے تو زمانۂ جاہلیت کی بنی ہوئی ایک معظم شخصیت کی تصویر رکھنے کابھی ناجائز ہونا ثابت ہوتاہے۔

اس جگہ وہ حضرات بھی غور فرمائیں جنھوں نے اپنے پیروں اور بزرگوں کی تصاویراور تماثیل کو بطور تبرک اپنے عبادت خانوں کی زینت بنایا ہواہے۔ اور بعض لوگ جویہ کہتے ہیں کہ حضرت علیؓ نے اپنی بہت سی قبریں بنانے کی وصیت کی تھی تو نقلی قبریں بنانا جائز ہوئیں۔ یہ بالکل غلط اور حضرت علیؓ پربہتان ہے۔ صحیح سندسے کسی کتاب میں یہ روایت نہیں ہے بلکہ کتبِ شیعہ میں تو حضرت علیؓ سے دوبارہ قبربنانے اور تمثالی تصویر بنانے کی ممانعت منقول ہے۔

’’من لا یحضرہ الفقیہ‘‘ میں ہے:

من جدّد قبرًا ومثّل مثالاً فقد خرج عن الإسلام۔

جس نے کسی قبر کو پھر سے بنایا یا کوئی تمثال (تصویر) بنائی تووہ ضرور اسلام سے نکل گیا۔

اور جوسخت جاہل ہیں وہ کہاکرتے ہیں: قرآن نقل ہے، مسجد نقل ہے، اور کعبہ نقل ہے۔ ان کے کلام کا سخت واہی اور بودا ہونا ظاہر ہے کیوں کہ قرآن کو حضرت جبرئیل ؑ لکھاہوا لے کر نہیں اُترتے تھے جو ان مصاحف کو اس کی نقل کہاجاتا۔ مسجد و کعبہ آپ اصل ہیں نقل کسی کی نہیں۔

البتہ اگرکوئی مکہ مکرمہ کے علاوہ کسی مقام پرکعبہ معظمہ کی نقل اتارکر فرضی کعبہ کے ساتھ وہی معاملات کرنے لگے جو کعبہ معظمہ کے ساتھ کیے جاتے ہیں تووہ بھی اسی طرح ممنوع ہے جس طرح روضۂ امام حسین ؓکی نقل اتار کر اس کے ساتھ اصل قبر مبارک جیسامعاملہ کرنا ممنوع ہے۔ کیاکوئی صاحبِ علم اس کی اجازت دیں گے کہ کسی مقام پرکعبۂ معظمہ کی نقل بناکر اس کا طواف کیاجائے اورمصنوعی طور پرکسی جگہ کانام عرفات ومنیٰ و مزدلفہ وغیرہ رکھ کر حج کیا جائے؟ ہرگزہرگز کسی کے نزدیک یہ چیز جائز نہیں۔ تو پھر روضۂ امام حسینؓکی نقل کے ساتھ اصل قبر مبارک کامعاملہ کرناکیسے جائز ہوگا؟ اسی طرح عَلم اوردلدل اورمہندی وغیرہ کی نقل بناکر ان کے ساتھ وہی برتائوکرنا جو اصل کے ساتھ ہو کیسے صحیح ہوگا

۲۔ معازف ومزامیرڈھول وغیرہ کابجانا اورفساق وفجار کاجمع ہونا: جس میں بہت مرتبہ فحش اور نا گفتہ بہٖ واقعات کا بھی وقوع ہوتا ہے۔

معازف و مزامیر وغیرہ کی حرمت حدیث میں صاف صاف مذکور ہے اور قطع نظر خلاف شرع ہونے کے عقل کے بھی تو خلاف ہے۔ کیوں کہ یہ آلات تو سرور اور خوشی کے ہیں۔ سامان غم میں ان کے کیا معنی ہیں؟ یہ تودر پردہ خوشی مناناہے۔ ع

برچنیں دعویٰ الفت آفرین

۳۔ مرثیہ پڑھنا: جس کی حدیث ’’ابن ماجہ‘‘ میں سخت ممانعت آئی ہے۔ اکثر موضوع اورمن گھڑت روایات پڑھنا جس کی نسبت حدیث میں سخت وعیدیں آئی ہیں۔ ماتم کرنا، نوحہ کرنا، سینہ کوبی کرنا، ہائے ہائے کرناسب ممنوع ہیں۔

۴۔ محرم کے ایام میں قصداً زینت ترک کرنا

: جس کو سوگ کہتے ہیں۔ مثلاً: مہندی لگانا اور سرپرتیل لگانا ان ایام میں سوگ کے لیے بعض عورتیں ترک کردیتی ہیں۔ اس کا حکم شرع شریف میں یہ ہے کہ مردکے لیے سوگ کسی جگہ جائز نہیں، اور عورت کو خاوند کی وفات پرچار مہینہ دس دن یاوضعِ حمل تک سوگ کرناواجب ہے اور دوسرے عزیزوں کی وفات پرصرف تین دن تک جائز ہے۔ سو اب تیرہ سو سال کے بعد شہدائے کربلاکاسوگ کرنابلاشبہ حرام ہے۔ اسی طرح بعض لوگ ان ایام میں شادی بیاہ کرنے اور خوشی کرنے سے سوگ کی وجہ سے رُک جاتے ہیں۔ بعض میاں بیوی کے خاص تعلقات کو ان دنوں میں بُرا سمجھتے ہیں۔ اسی طرح پان کا کھانا چھوڑ دینا، پلنگ پرنہ سونا بلکہ اس کواُلٹاکردینا، عمدہ کپڑے نہ پہننا، چوڑی توڑدینا، ان دنوں میں شرع سے ثابت نہیں ہے اور نہ شریعت میں ان کاموں کی ایامِ محرم میں کوئی ممانعت آئی ہے۔

۵۔ کسی خاص لباس یاخاص رنگ وغیرہ کے ذریعہ اظہارِ غم کرنا: ’’ابن ماجہ ‘‘میں عمران بن حصین ؓ سے منقول ہے کہ ایک جنازہ میں رسول اللہ ﷺ نے بعض لوگوں کو دیکھا کہ غم میں چادر اُتار کر صرف کرتہ پہنے ہوئے ہیں۔ یہ وہاں غم کی اصطلاح اور اس کے اظہار کا طریقہ تھا۔ آپﷺ نہایت ناخوش ہوئے اور فرمایا کہ کیا جاہلیت کے کام کرتے ہو؟ یا یہ فرمایا کہ جاہلیت کی رسم کی مشابہت کرتے ہو؟ میرا تویہ ارادہ تھاکہ تم پرایسی بد دعاکروں کہ تمھاری صورتیں بدل جائیں۔ پس فوراً ان لوگوں نے چادریں لے لیں اورپھر کبھی ایسانہیں کیا۔ اس سے معلوم ہواکہ کوئی خاص وضع اور ہیئت اظہارِ غم کے لیے بنانا حرام ہے۔

۶۔ حضراتِ اہلِ بیت کی عورتوں کا ذکر برسرِبازار کیا جاتا ہے: کوئی مُنصِف مزاج شریف الطبع انسان اپنے خاندان کی عورتوں کا اعلان اس طرح گلیوں کوچوں اور بازاروں میں ہونا پسند نہیں کرسکتا۔ پھر غور کیاجائے کہ کیا حضرت امام حسینؓ جیسی غیّور شخصیت اس کوپسند فرمائے گی کہ ان کے خاندان کی ان مطہرات کا ذکر اس طرح برسرِبازار کیاجائے جن کے دامنِ تطہیر پر نگاہِ غیر کا گزر خدائے قدوس کو گوار ا نہیں اور {وَقَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ}1 سے ان کو قرار فی البیوت کا خاص طور پر حکم فرمایا گیا ہے۔ بعض امور اس ماہ میں ایسے بھی مروّج ہیں جوفی نفسہٖ جائز اورمباح تھے مگربوجہ فسادِ عقیدہ کے یا عمل کے وہ بھی ممنوع ہوگئے۔

۷۔کھچڑا یا اور کچھ کھانا پکاکر احباب کو یا مساکین کو دینا اس کا ثواب حضرت امام کو پہنچانا: اس کی اصل وہی حدیث ہوسکتی ہے کہ جوشخص اس دن اپنے اہل وعیال پروسعت کرے اللہ تعالیٰ سال بھر تک اس پروسعت فرماتے ہیں۔ جب اہل وعیال کے لیے وسعت کی غرض سے کھانا زیادہ پکایاگیا تو اب اگر اس میں سے غربا کو بھی کچھ دے کر اس کا ثواب حضرات امامین ؓ کے ساتھ دیگر اموات کو بھی بخش دیاجائے تواس میں کچھ حرج نہیں تھا۔ لیکن کھچڑا یا کسی اور طعام کو معیّن

اور خاص کر لینا درست نہیں۔ اسی طرح اس دن کو ایک تہوار قرار دے لینا بھی ٹھیک نہیں۔ بغیر رسم اور کسی خاص طعام کی پابندی اور تخصیص کے بغیر اگر اس روز فراخی کھانے میں کرے تو کوئی مضایقہ نہیں۔

۸۔شربت پلانا: جب پانی پلانا ثواب کا کام ہے تو گرمی میں شربت پلانے میں کیا حرج تھا؟ مگر اس شربت کی بعض جگہ ایسی پابندی کرلی گئی ہے کہ چاہے موسم سردی ہی کا کیوں نہ ہو مگر شربت پلایا جاتا ہے۔ یہ رسم کی پابندی ہے اس کو ترک کرنا چاہیے۔ اس شربت پلانے میں ایک پوشیدہ اعتقادی خرابی یہ بھی ہے کہ حضرات شہدائے کربلا چوں کہ پیاسے شہیدہوئے تھے اور شربت پیاس بجھانے والا ہے اس کو اس لیے تجویز کیاگیا ہے۔ اس سے معلوم ہواکہ ان لوگوں کے عقیدہ میں عین شربت پہنچتاہے جس کا باطل ہوناقرآن سے ثابت ہوتاہے۔ اللہ تعالیٰ قربانی کے گوشت کے متعلق فرماتے ہیں: {لَنْ یَّنَالَ اللّٰہَ لُحُوْمُہَا وَلااَا دِمَآؤُہَا وَلٰـکِنْ یَّنَالُہُ التَّقْوٰی مِنْکُمْط}۔ 1

شربت پلانے سے اگرمقصود ثواب کا حاصل کرنا ہے تو وہ دوسری چیز کے صدقہ کرنے سے بھی ہوسکتاہے۔ کیا شربت کے ثواب میںپیاس بجھانے کاخاصہ ہے؟ پھر اس سے یہ بھی لازم آتاہے کہ ان کے گمان میں شہدائے کربلا (نعوذباللہ) اب تک پیاسے ہیں، یہ کس قدر بے ادبی ہے۔ ان مفاسد کی وجہ سے شربت کی تخصیص سے بھی احتیاط لازم ہے۔ جو میسر ہو نقدی، غلہ وغیرہ سے فقیروں کی امداد کرکے ثواب شہدا وغیرہ کو پہنچا دیا کریں۔

۹ شہادتِ حسین ؓکا قصہ بیان کرنا

: اگر صحیح روایات سے اس کو بیان کردیا جایا کرتا تو کچھ حرج نہ تھا۔ مگراس میں چندخرابیاں پیدا ہوگئی ہیں:

الف۔عام طور پر مقصود اس قصہ کے ذکر سے ہیجان اور جلبِ غم اور گریہ و زاری ہوتا ہے۔ اس میں صریح مقابلۂ شریعتِ مطہرہ ہے، کیوں کہ شریعت میں ترغیبِ صبر کا حکم ہے، اور تعزیت سے مقصود یہی ہے کہ صبراورتسلی کے کلمات کہے جاویں تاکہ غم زدہ کا غم ہلکا ہو کر اس کو صبر کی طرف توّجہ ہو۔ ’’درمختار‘‘ میںہے: ولا بأس بتعزیۃ أھلہ و ترغیبھم في الصبر۔

اس لیے گریہ و زاری کا سامان مہیا کرکے اور قصداً قصہ غم ناک کی یاد تازہ کر کے غم کو زیادہ کرنا مقصودِ شرع کے خلاف ہونے کی وجہ سے ممنوع ہوگا۔ البتہ اگر کسی کو غلبۂ غم سے از خود آنسو آجائیں تو اس میں گناہ نہیں مگر زبان سے بے صبری کا کلمہ نہ نکلنے دے، صدمہ کے ہونے یا اس کے یاد آنے کے وقت إِنَّالِلّٰہِ إلخ پڑھنے او رصبر کرنے کاحکم ہے، نہ کہ حسرت

افسوس کے اظہار کا، نہ بتکلف افسوس کرنے کا۔ پس مصیبت کے پیش آجانے یا اس کے یاد آجانے کے وقت جوصابروں کا شیوہ ہے اس کولازم پکڑنا چاہیے۔

اورگریہ و زاری اور بے صبری اور غم کے اسباب جمع کرنابے شبہ صابروں کے طریقہ کے خلاف ہے۔

ب۔ایسی مجلس کامنعقد کرنا جس میں صرف قصۂ کربلا ہی کو بیان کیا جائے چوں کہ اہلِ بدعت کا شعار ہے، اس لیے مشابہتِ روافض کی وجہ سے ممنوع ہے اور اس کے اندر شرکت بھی ناجائز ہے۔ اگر اس مجلس میں دوسرے شہدا کے تذکرہ کے ساتھ شہادتِ حسینؓ کابھی ذکرکیاجائے تو بظاہر کچھ حرج معلوم نہیں ہوتا، جب کہ واقعات صحیح روایات سے بیان کیے جائیں اور مقصود غم کو تازہ کرنا بھی نہ ہو، کہ اس صورت میں تخصیصِ مضمون کی کراہت نہیں رہتی۔ مگر غور کے بعد معلوم ہوتاہے کہ تخصیصِ ایام کی کراہت پھر بھی پائی جاتی ہے۔ ا س لیے ایامِ محرم کے ساتھ اس تذکرہ کو خاص نہ کیاجائے۔

’’جامع الرموز‘‘ میں ہے کہ جب واعظ شہادت حسینؓ بیان کرنے کاارادہ کرے تو پہلے صحابہ کی شہادتوں کا بیان کرے تاکہ رافضیوں سے مشابہت نہ ہو۔ 1

اور’’نفع المفتي والسائل‘‘ میںہے

ان ہی وجوہات کی بنا پرہمارے بعض اکابر نے اس تذکرہ کو محرم ہی کے ساتھ خاص کرلینے اور مشابہتِ روافض کی وجہ سے ناجائز فرمایاہے۔ جیسا کہ ’’فتاویٰ رشیدیہ‘‘ میں ہے:

محرم میں ذکرشہادت حسین ؓکرنا

اگرچہ بروایات صحیحہ ہو، یاسبیل لگانا، دودھ پلانا، شربت پلانا، چندہ سبیل و شربت میں دینا نا درست اورتشبہ روافض کی وجہ سے حرام ہے۔2

ویسے بھی جوفعل کسی بدعتی فرقہ کا شعار بن جاتاہے

 وہ فعل اگرچہ اپنی ذات میں مباح اور مستحسن ہو مگراس سے مسلمانوں کو منع کردیا جاتا ہے۔ علامہ قاری مکی ایک حدیث کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں: فیہ إشارۃ إلٰی أن کل سنۃ تکون شعار أھل البدعۃ فترکھا أولٰی۔

چوںکہ ہمارے ملک میں یہ تمام باتیں روافض کا شعار اور ان کا خاص نشان و علامات ہوچکی ہیں لہٰذا اس وجہ سے بھی ناجائز اور واجب الترک ہیں۔ اب جو لوگ عاشوراکے ایام میں شہادتِ حسینؓ کے لیے مساجد وغیرہ میں جمع ہو کر کرنے کے جواز پر اصرار کرتے ہیں، حتیٰ کہ بعض اہلِ علم بھی اس کوجائز سمجھنے کی عظیم غلطی میں مبتلا ہیں وہ ان وجوہات پر غور کریں اور سوچیں کہ کیا اس طریقۂ مروّجہ سے شعارِ روافض کی ترویج اور تائید نہیں ہوتی۔

بعض عوام توتعزیہ اور عَلم وغیرہ بھی نکالتے ہیں اور حضرات اہلِ بیت ؓ کے مصائب کا ذ کر کرتے ہیں اور ان کا ماتم بھی کرتے ہیں اورمرثیہ پڑھتے اور روتے چلاتے ہیں۔ ان سب باتوں کا ترک کرنا واجب اور ضروری ہے۔

اور بعض لوگ ان امور سے تو بچتے ہیں

 اور وہ سینہ کوبی بھی نہیں کرتے مگر وہ مساجد وغیرہ میں جمع ہو کر ذکرِشہادتِ حسین ؓ سنانے کا اہتمام کرتے ہیں اور قصداً ایسے مضامین سناتے ہیں جن سے خود بھی روتے ہیں اور دوسروں کو بھی رُلاتے ہیں اور اس سے مقصود بھی جلبِ غم ہوتاہے۔ تعجب ہے کہ اس میں بعض ثقہ لوگ بھی غلط فہمی سے شریک ہوجاتے ہیں او رعام طور پر یہ سمجھاجاتاہے کہ جب تک ایسے مضامین نہ بیان کیے جائیں اس وقت تک یومِ حسین ؓ ہی نہیں منایاگیا حالاں کہ اگرغور و تدبر سے کام لیاجائے تومعلوم ہوسکتا ہے کہ درحقیقت اس طریقہ سے بھی اہلِ بدعت کے شعار ’’ماتم‘‘ کی تائید اور اس کی ترویج ہوتی ہے۔ کیوں کہ یہ بھی ماتم کا ہی ایک مہذب طریقہ ہے اور شریعت میں ماتم کرنے کی کوئی اصل نہیں ہے۔ لہٰذا ماتم جس صورت میں بھی ہو وہ شرعاً ناجائز اورممنوع ہوگا، شرع میں اس کے جواز کی کوئی صورت نہیں  کے ذکر کے ساتھ بھی دوسرے شہدا کے ذکر کو گوارہ نہیں کرتے۔ حتیٰ کہ صحابہ ؓ کے واقعاتِ شہادت کے ذکر کو بھی پسند نہیں کیا جاتا اور اگر ان دنوں میں بدر و اُحد کے فضلائے صحابہ ؓ کی شہادت کابھی تذکرہ کیاجاتاہے تو عوام اہلِ سنت کی یہ حالت ہے کہ اس کو بھی ایک اجنبی اور بے تعلق ذکرسمجھتے ہیں۔ حالاں کہ اہلِ سنت والجماعت کا اس پر اتفاق ہے کہ جن حضرات نے اسلام کے ضُعف اور احتیاج کے زمانہ میں تقویتِ اسلام کے لیے قتال اور مالی وجانی جہاد کیاہے ان کا وہ قتال اور مالی انفاق ان لوگوں کے مالی اور جانی جہاد سے افضل ہے جنھوں نے اسلام کی قوت کے بعد ان امور خیر کوانجام دیا ہے، اس لیے اہلِ سنت کے نزدیک وہ حضرات جو جنگِ بدر میں شریک ہوئے ہیں اپنے بعد والی تمام جنگوں میں شریک ہونے والوں سے افضل ہیں۔ پھر اس کے بعد اُحد میں شریک ہونے والوں کامرتبہ ہے۔

اسی طرح درجہ بدرجہ بعد کی جنگوں میں شریک ہونے والوں کوفضیلت حاصل ہے۔ یہاں تک کہ فتحِ مکہ سے قبل جن لوگوں نے مالی اور جانی جہاد کیا ہے وہ ان تمام لوگوں سے افضل ہیں کہ جنھوں نے فتح مکہ کے بعد مالی اور جانی جہاد کیا ہے، کیوں کہ فتح مکہ کے بعد اسلام کے ضعف اور احتیاج کا زمانہ ختم ہوگیا تھا اور اسلام کو قوت اور غلبہ حاصل ہوجانے کی وجہ سے اس قدر احتیاج اور ضرورت باقی نہیں رہی تھی کہ جس قدر فتح مکہ کے قبل احتیاج اور ضرورت تھی۔

حق تعالیٰ شانہ کاصاف اور صریح ارشاد ہے:

{لااَا یَسْتَوِیْ مِنْکُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَقَاتَلَط اُولٰٓئِکَ اَعْظَمُ دَرَجَۃً مِّنَ الَّذِیْنَ اَنْفَقُوْا مِنْم بَعْدُ وَقَاتَلُوْاط وَکُلًّا وَّعَدَ اللّٰہُ الْحُسْنٰیط} 1

جولوگ فتح مکہ سے پہلے فی سبیل اللہ خرچ کرچکے اور (فی سبیل اللہ) لڑچکے (اور جوکہ فتح مکہ کے بعدلڑے اورخرچ کیادونوں) برابر نہیں، (بلکہ)وہ لوگ درجہ میںان لوگوں سے بڑے ہیں جنھوں نے (فتح مکہ) کے بعد میں خرچ کیا اور لڑے، اور (یوں ) اللہ تعالیٰ نے بھلائی (ثواب) کا وعدہ سب سے کر رکھا ہے۔

اس سے معلوم ہواکہ جو بھی مالی اور جانی قربانی فتح مکہ سے قبل کی گئی ہے وہ اس قربانی سے درجہ میں بڑھ کرہے جوکہ بعد فتح مکہ کے کی گئی ہے اور اس فتح مکہ کے قبل اور فتح مکہ کے بعد اجرمیں تفاوت کی وجہ بیان کرتے ہوئے تفسیر ’’روح المعانی‘‘ میں لکھاہے کہ فتح سے پہلے جانی اورمالی امداد کی زیادہ حاجت تھی کیوں کہ مسلمان کم تھے اور دشمن زیادہ تھے اورمالِ غنیمت وغیرہ کی بھی امید نہ تھی اس لیے ایسے وقت میں مال کاخرچ کرنا زیادہ نافع تھا۔ اسی طرح ایسے وقت میں قتال کرنا نفس پر زیادہ گراں تھا۔ فتح مکہ کے بعد جب ان امورمیں تفاوت ہوگیا تو پھر جانی اور مالی امداد پر اس قدر اجر و ثواب بھی نہیں رہا

I Covered these points in the video

> waqia e karbala

> karbala full waqia

> waqia karbala imran aasi

> waqia

> karbala ka bayan

> waqia karbala full bayan

> waqia karbala ajmal raza qadri

> karbala ki jung

> ka waqia by tariq jameel

> hafiz imran aasi karbala ka waqia

> karbala ki kahani

> hafiz imran aasi waqia karbala 2021

> battle of karbala

> Who was Yazid Karbala

Spread the love

Leave a Comment

%d bloggers like this: