Khwab Main Sanp Dekhna |خواب میں سانپ کے ذریعہ علاج | khwab ki tabeer in urdu

 Khwab Main Sanp ki  Dekhna

Khwab Main Sanp ki  Dekhna |خواب میں سانپ کے ذریعہ علاج | khwab ki tabeer in urdu


خواب میں سانپ کے ذریعہ علاج

کسی مرد صالح کا بیان ہے کہ ایک بار میرے پیر میں ہڈی گڑگئی اس کی وجہ سے میں نہایت سخت بے چینی میں مبتلا ہوا پھر میں ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر خداکی بارگاہ میں اس کے اسمائے حسنیٰ کے ذریعہ دعاء کرنے لگا اسی اثناء میں مجھ پر خواب کا غلبہ ہوا اور میں سوگیا، خواب میں دیکھتا ہوں کہ ایک سانپ میرے پیر کو چوس رہاہے اور خون اور پیپ اگلتا جاتا ہے اور اس نے ہڈی بھی نکال لی اس کے بعد جب میں بیدارہوا تو دیکھا کہ خون اور پیپ اور ہڈی میں سے ہرشیٔ زمین پر پڑی ہے۔ (نزہۃ المجالس موسوم بہ خیرالمجالس صفحہ ۱۶۴؍ مولف: مولانا عبدالرحمن صفویؒ)


ایک مرد صالح کا عجیب وغریب خواب

بعض صلحاء سے منقول ہے کہ ایک مرد صالح پر تین ہزار دینار کا قرض ہوگیا۔ قرض خواہ نے قاضی کے یہاں مقدمہ دائر کردیا قاضی نے مہینے بھر کی مہلت دیدی۔ وہ غریب بڑاپریشان تھا۔ عدالت سے لوٹ کر اللہ کی باگاہ بے کس پناہ میں تضرع اور زاری کی اور مدنی سرکار صلی اللہ علیہ وسلم پر درودوں کی کثرت شروع کردی۔ چھبیس دن اسی طرح گزر گئے ستائیسویں رات خواب میں دیکھا کہ کوئی کہہ رہا ہے کہ اللہ تعالی تیرا قرض اداکردے گا۔

تو علی ؒبن عیسی وزیرکے پاس جا اور اس سے کہہ دے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میرے قرض کی ادائیگی میں تین ہزار دینار اداکردے۔ وہ مردصالح کہتے ہیں کہ جب میں خواب سے بیدارہوا تو اپنے وجود کے اندر کافی خوشحالی کے آثار پائے مگر دل میں یہ بات آئی کہ اگر وزیر صاحب نے مجھ پر اعتماد نہ کیا تو دلیل کیادوں گا؟ اس وجہ سے میں وزیر کے پاس نہ جاسکا ۔ دوسری رات پھرقسمت جاگ اٹھی ۔


khwab ki tabeer in urdu

میں سرکارِ مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت سے فیضیاب ہوا۔ حضور پرنور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے وزیر کے پاس نہ جانے کا سبب دریافت فرمایا۔ میں نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں اسے اپنی صداقت کی کیا دلیل پیش کروں؟ سرکارنے میری اس بات کو پسند فرمایا اور فرمایااگر وزیر دلیل مانگے تو کہہ دینا کہ تم روزانہ بعدنماز صبح مجھے پانچ ہزار بار درود شریف کا نذرانہ بھیجتے ہو اور پھر اس کے بعد کسی سے بات چیت کرتے ہو اور تمہارے پاس اس عمل کے سوا اللہ عزوجل اور کراماً کاتبین کے اور کوئی نہیں جانتا۔

Khab Men Chota Saanp Dekhna

khwab kintabeer

 مردصالح کہتے ہیں کہ جب میں وزیر علی بن عیسیٰ ؒکےپاس گیا اور اس کو اپنا خواب سنایا اور آپ کی ارشادکردہ دلیل بھی سنائی تو وہ بہت خوش ہوا اور کہا مَرْحَباً بِرَسُوْلِ اللّٰہِ حَقًّا پھر اس نے تین ہزار دینار مجھے دئے اور کہا جاؤ اس سے اپنا قرض اداکرو۔ تین ہزارمزید اخراجات کیلئے اور تین ہزارکاروبار شروع کرنے کیلئے دئے اور مجھے قسم دی کہ مجھ سے دوستی کاتعلق نہ توڑنا اور جب کبھی کوئی حاجت ہو بلا تکلف میرے پاس آجانا۔ چنانچہ میں تین ہزار دینار لے کر قاضی کی عدالت میں پہونچا تاکہ قرض خواہ کو قرض اداکردوں۔ قرض خواہ کو بڑی حیرت ہوئی کہ اتنی رقم کہاں سے آئی میں نے سارا ماجرا قاضی کے سامنے بیان کردیا ۔قاضی نے کہا ساراثواب وزیر علی بن عیسیٰؒ ہی کیوں لے جائے؟ قرض کی رقم میں خود اپنی طرف سے اداکرتاہوں۔ قرض خواہ نے کہا کہ واہ یہ نعمت میں کیوں چھوڑوں’’ میں نے اپنا ساراقرض معاف کیا‘‘ لِلّٰہِ وَلِرَسُوْلِہٖ،

قاضی نے کہا میں نے جو کچھ اللہ تعالیٰ اور اس کے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے دینے کی نیت کی تھی وہ تیرے حوالے کرتاہوں میں اس تمام مال (بارہ ہزار دینار کو لیکر اپنے گھر آیا اور اللہ کاشکر بجالایا۔ (جذب القلوب ، شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ

Spread the love

Leave a Comment

%d bloggers like this: