kin cheezon se nikah toot jata hai | Shohar Apni Biwi Se Kitne Din Dur Reh Sakta hain | Qasam in Quran | Talaq ka Masla | ایلاء

kin cheezon se nikah toot jata hai

kin cheezon se nikah toot jata hai | Shohar Apni Biwi Se Kitne Din Dur Reh Sakta hain | Qasam in Quran | Talaq ka Masla  | ایلاء


 ایلاء اور اس کا حکم: ایک غلطی اس کے مقابل یہ ہے کہ بعض اسبابِ طلاق کو اسبابِ طلاق نہیں سمجھتے، بیان اس کا یہ ہے کہ اگر کوئی شخص یہ قسم کھالے کہ ’’میں اپنی بی بی کے پاس کبھی نہ جاؤں گا۔‘‘ اور وہ مد۔ّت چار مہینے یا چار مہینے سے زائد ہو تو اس کا حکم یہ ہے کہ اگر چار مہینے سے پہلے اس نے قسم توڑدی اور بی بی کے پاس چلا گیا تب تو نکاح باقی رہا اور صرف کفارہ قسم کا دینا پڑے گا۔ اور اگر چار مہینے اپنی قسم پر رہا تو چار مہینے گزرنے پر اس عورت پر طلاقِ بائن واقع ہوگئی، اس کو ’’ایلاء‘‘ کہتے ہیں۔ اور اگر وہ مد۔ّت چار مہینے سے کم ہے تو اس میں طلاق تو کسی حال میں واقع نہیں ہوتی صرف تفصیل یہ ہے کہ اگر قسم پوری کردی تو خیر اور اگر قسم توڑدی تو صرف کفارہ قسم کا دینا پڑے گا۔1

ایلاء اور تخییر


آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی ازواجِ مطہرات بے انتہا قناعت پسند اور صبر شعار خواتین تھیں ، اکثر 

وفاقہ کا عالم رہتا تھا، ایک موقع پر کچھ ازواج نے نان ونفقہ ولباس اور گھر کے اخراجات کے لئے کچھ وسعت کا مطالبہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو یہ مطالبہ ناگوار ہوا، بعض روایات میں کچھ اور واقعات کا بھی ذکر آیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ازواج کی تادیب کے لئے ایک ماہ ان سے علاحدگی کا قصد فرمایا، جسے شریعت کی اصطلاح میں ’’ایلاء‘‘ کہا جاتا ہے۔ (بخاری: الطلاق: باب قول اللہ: للذین یولون الخ)

یہ مدت آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے مسجد سے اوپر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے مکان کے اوپری کمرے میں گذاری۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں شور ہوگیا کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ازواج کو طلاق دے دی ہے، افرا تفری کا عالم تھا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے رہا نہیں گیا، آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، کئی مرتبہ کی درخواست کے بعد باریابی کی اجازت ملی، پہنچے تو دیکھا کہ آقا صلی اللہ علیہ و سلم غم زدہ ہیں ، ایک چٹائی پر تہہ بند میں لیٹے ہیں ، جسم اقدس پر بوریے کے نشان پڑگئے ہیں ، سر کے نیچے چمڑے کا ایک تکیہ ہے، جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی ہے، ایک طرف مٹی کے برتن میں جو کے کچھ دانے ہیں ، دوسری طرف پانی کا ایک مشکیزہ ہے، یہ منظر دیکھ کر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بے قابو ہوجاتے ہیں ، اور زار وقطار رونے لگتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے رونے کا سبب دریافت کیا، عمر عرض کرتے ہیں :آقا صلی اللہ علیہ و سلم ! اللہ کے دشمن قیصر وکسریٰ ریشم ودیبا کے بستروں میں ہیں ، اور آپ حبیب اللہ ہوکر اس حال میں ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ و سلم للہ سے اپنے لئے اور امت کے لئے کشادگی کی دعا فرمائیے۔

آقا صلی اللہ علیہ و سلم اٹھ کر بیٹھ گئے اور فرمایا کہ ابن خطاب! کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ ان کے لئے دنیا ہو اور ہمارے لئے عقبیٰ، وہ دنیا کے مزے لوٹ لیں اور ہمارا نصیب آخرت کی ابدی نعمتیں ہوں ۔ (مسلم: الطلاق: باب فی الایلاء)

اس کے بعد گفتگو کا سلسلہ دراز ہوا، تاآں کہ آقا صلی اللہ علیہ و سلم کا ملال دور ہوگیا، 

۲۹؍دن کے بعد ازواج کے پاس آئے، دریافت کرنے پر بتایا کہ یہ مہینہ ۲۹؍دن کا تھا۔ (بخاری: الطلاق: باب قول اللہ: للذین یولون الخ)

اور سب سے پہلے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور پھر باری باری تمام ازواجِ مطہرات کے سامنے آیت تخییر سناکر فرمایا کہ تم اچھی طرح غور وفکر اور مشورہ کے بعد فیصلہ کرلو۔

ارشادِ ربانی ہے:

یَاأَیُّہَا النَّبِیُّ قُلْ لِاَزْوَاجِکَ اِنْ کُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَیَوٰۃَ الدُّنْیَا وِزِیْنَتَہَا فَتَعَالَیْنَ اُمَتِّعْکُنَّ وَاُسَرِّحْکُنَّ سَرَاحاً جَمِیْلاً، وَ اِنْ کُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہُ وَ الدَّارَ الْآخِرَۃَ فَإِنَّ اللّٰہَ اَعَدَّ لِلْمُحْسِنَاتِ مِنْکُنَّ اَجْراً عَظِیْماً۔ (الأحزاب: ۲۸-۲۹)

اے نبی !اپنی بیویوں سے کہو کہ : اگر تم دنیوی زندگی اور اس کی زینت چاہتی ہو توآؤ، میں تمہیں کچھ تحفے دیکر خوبصورتی کے ساتھ رخصت کردوں ، اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم ور عالم آخرت کی طلب گار ہو تو یقین جانو اللہ نے تم میں سے نیک خواتین کے لئے شاندار انعام تیار کررکھا ہے ۔

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے سب سے پہلے عرض کیا : یا رسول صلی اللہ علیہ و سلم للہ! مجھے کسی مشورے کی ضرورت نہیں ، میں اللہ اور اس کے رسول کو اختیار کرتی ہوں ، پھر تمام ازواج کا یہی جواب تھا کہ ہمیں صرف آپ صلی اللہ علیہ و سلم مطلوب ہیں ، دنیا مطلوب نہیں ہے۔(مسلم: الطلاق: باب بیان ان تخییرہ الخ)

یہ واقعہ ازواجِ مطہرات کے زہد واتقاء، عشق رسول صلی اللہ علیہ و سلم اور ایمان کامل کا بہت واضح نمونہ ہے

I Covered these points in the video

> kin cheezon se nikah toot jata hai

> nikah kin cheezo se toot jata hai

> Mnikah kin cheezon se toot jata hai

> kin cheezon se nikah toot jata hai in urdu

> nikah toot jata hai

>  wo gunah jin se nikah toot jata hai

> woh galtiyan jinsay nikah toot jata hai

> kya piche karne se nikah toot jata hai

> nikah kab toot jata hai

> sali se zina karne se nikah toot jata hai

> wo gunah jis se nikah toot jata hai

> kya biwi se door rahne se nikah toot jata hai

> wo gunah jin se nikah toot jata ha

> kin chizon se nikah toot jata hai

Spread the love

Leave a Comment

%d bloggers like this: