Kin Janwar Ki Qurbani Jaiz Hai ! Qurbani Ke Janwar Ki Umar Kitni Honi Chahiye ! Qurbani Ke Masail | قربانی کے جانور | قربانی کے جانوروں کی عمریں :

Kin Janwar Ki Qurbani Jaiz Hai ! Qurbani Ke Janwar Ki Umar Kitni Honi Chahiye ! Qurbani Ke Masail | قربانی کے جانور | قربانی کے جانوروں کی عمریں :

 قربانی کے جانور :

شریعت میں تین طرح کے جانوروں کی قربانی کو مشروع کیا گیا ہے :

(1)—ابل : اس میں اونٹ ،انٹنی خواہ کسی بھی نسل کے ہو ں،سب شامل ہیں ۔

(2)—بقر: اس میں گائے ،بیل بھینس سب شامل ہیں ۔

(3)—غنم : اِس میں بکرا ،بھیڑ اور دنبہ نر و مادہ سب شامل ہیں

مذکورہ تین قسم کے جانوروں کی قربانی جائز ہے اگرچہ یہ وحشی ہی کیوں نہ ہوگئے ہوں ، اِن کے علاوہ کسی بھی قسم کے جانور خواہ وہ ماکول اللحم ہوں یا غیر ماکول اللحم، یعنی حلال ہوں یا حرام ،اُن کی قربانی درست نہیں ہوتی ۔(البنایۃ:12/45 ،46)(الفقہ الاسلامی و ادلتہ : 4/2719) (مرقاۃ :3/1079)

قربانی کے جانوروں میں ائمہ کا اختلاف :

اصحابِ ظواہر : ہر قسم کے جانور وں کی کی قربانی درست ہے ۔

جمہور ائمہ کرام : صرف ، ابل ، بقر اور غنم کی قربانی ہوسکتی ہے۔(البنایہ : 12/45)

قربانی کے جانوروں کی عمریں 

قربانی کے جانوروں میں مندرجہ ذیل عمروں کا لحاظ ضروری ہے ، اس کے بغیر قربانی درست نہیں ہوتی۔

اونٹ میں : پانچ سال مکمل ہوکر چھٹا شروع ہوچکاہو ۔

بقر میں : دو سال مکمل ہوکر تیسرا شروع ہوچکا ہو۔

غنم میں : ایک سال مکمل ہوکر دوسرا شروع ہوچکا ہو۔(مرقاۃ :3/1079)

قربانی کے جانوروں کی عمروں میں ائمہ کا اختلاف

احناف و حنابلہ ﷭: اونٹ 5 سال بقر 2 سال غنم 1 سال ۔

مالکیہ﷭ : اونٹ5 سال بقر 3 سال غنم 1 سال اور تقریباً ایک مہینہ ۔

شوافع﷭: اونٹ 5 سال بقر 2 سال غنم 2 سال ۔

خلاصہ: یہ ہے کہ اونٹ کے بارے میں سب کا اتفاق ہے کہ وہ کم ازکم پانچ سال کا ہونا چاہیئے ۔دوسرے جانوروں میں اختلاف ہے :

بقر :

٭— امام مالک ﷫ : گائے ،بیل اور بھینس میں کم ازکم تین سال ہونے چاہیئے ۔

٭— ائمہ ثلاثہ ﷭: کم از کم دو سال مکمل ہونے چاہیئے ۔

غنم:

٭— امام شافعی ﷫: دو سال مکمل ۔

٭— امام مالک ﷫: ایک سال اور تقریباً ایک مہینہ ۔

٭— احناف اور حنابلہ : ایک سال مکمل۔(الفقہ الاسلامی: 4/2724)(الفقہ علی المذاہب: 1/605)

جَذع کی تفصیل :

جَذع لغت میں چھوٹے بچے کو کہتے ہیں ، اور یہ در اصل ”ثنی “ کے مقابلے میں آتا ہے ، یعنی وہ جانور جس کی قربانی کی عمر پوری نہ ہوئی ہو ۔، چنانچہ :

٭— جَذع من الابل: پانچ سال سے کم کا اونٹ

٭— جَذع من البقر: دو سال سے کم عمر کی گائے ،بیل وغیرہ ۔

٭— جَذع من الغنم : ایک سال سے کم عمر کا بکرا،بکری ،بھیڑ اور دنبہ 

جَذع من الضّان کی تعریف :

”ضان“ سے مرادذوات الصوف یعنی اون والا جانور ہے ،خواہ چکتی والا ہو جیسےدنبہ ،یا بغیر چکتی کاجیسے بھیڑ،چنانچہ احسن الفتاوی میں اسی عمومی معنی کو راجح قرار دیا ہے ۔ (احسن الفتاوی : 7/523)

”جَذع من الضّان“ کی تعریف یہ کی جاتی ہے:

وہ بھیڑ یا دنبہ ہے جس کے چھ مہینے مکمل ہوچکے ہو ں۔مَا تَمَّتْ لَهُ سِتَّةُ أَشْهُرٍ۔(البنایۃ:12/47)

وہ بھیڑ یا دنبہ ہے جس کے سال کا اکثر حصہ گزر چکا ہو ۔مَا أَتَى عَلَيْهِ أَكْثَرُ الْحَوْلِ۔(ردّ المحتار:6/321)

لیکن جذع من الضان یعنی سال سے کم مگر چھ مہینے سے زیادہ کا دنبہ یا بھیڑ قربانی کیلئے تب کافی ہوسکتا ہے جبکہ وہ اتنا بڑا ہوکہ سال بھر کے جانوروں میں کھڑا کرنے سے سال ہی کا معلوم ہوتا ہو ۔(البنایۃ :12/47)

جَذع من الضان کی تفسیر میں ائمہ کا اختلاف :

جذع من الضان کی تفسیر میں ائمہ کا اختلاف ہے ، جس کی تفصیل یہ ہے :

امام ابو حنیفہ اور امام احمد ﷮: کم از کم چھ مہینے پورے ہوکر ساتویں مہینے میں داخل ہوگیا ہو۔

امام شافعی اور امام مالک ﷮: کم از کم ایک سال مکمل ہوچکاہو اور دوسرے سال میں داخل ہوگیا ہو۔(الفقہ الاسلامی : 4/2723) (الفقہ علی المذاہب: 1/603 ــ 605)(تکملہ فتح الملہم : 3/558)

احناف کے نزدیک جذع کے قربان کرنے کے لئےچھ مہینے پورے ہونے کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اس قدر فربہ ہو کہ ثنی (سال بھر )کے ساتھ مل کر سال کا ہی محسوس ہوتا ہو۔ (رد المحتار : 6

خلاصہ: یہ ہے کہ بھیڑ او ر دنبہ اگر سال سے کم بھی ہو تو اُس کی قربانی دو شرطوں کے ساتھ جائز ہوتی ہے۔ (1)چھ ماہ سے زیادہ ہو۔ (2)اتنا فربہ ہو کہ سال کا محسوس ہو۔(البنایۃ:12/45 ،46)

جذع کا حکم :

جذع من الضان یعنی بھیڑ اور دنبہ کے علاوہ کسی جانور کا جذع یعنی مقررہ عمر سے کم عمر کا جانور جائز نہیں ، اور اُس کے قربان کرنے سے قربانی بھی درست نہیں ہوگی ، اگر چہ ایک دن ہی کی کمی ہو۔اِسی لئے جب قربانی کے مسائل میں ”جَذع“کا لفظ استعمال ہوتا ہے تو اس سے مراد ”جَذع من الضّان“ ہی لیا جاتا ہے ،کسی اور نوع کا جذع مراد نہیں ہوتا ۔

جذع من الضان کے جواز میں اختلاف :

امام زھری ﷫: درست نہیں ، اس سے قربانی نہیں ہوتی ۔

جمہور ائمہ کرام ﷭: قربانی ہوجاتی ہے ۔ (تکملہ فتح الملہم : 3/557)

”عَتُود “ کا معنی اور حکم :

عَتود کا معنی : بکری کا وہ بچہ ہے جو ایک سال کا ہو ، اور یا وہ بکری کا بچہ ہے جو سال بھر سے کم کا ہو ۔

عَتود کا حکم : پہلے معنی کے اعتبار سے اس کی قربانی جائز ہے کیونکہ اُس کی عمر یعنی سال مکمل ہے ، لیکن دوسرے معنی کے اعتبار سے قربانی جائز نہیں ،کیونکہ عمر یعنی سال مکمل 

حضرت عقبہ بن عامر﷜سے مَروی ہے کہ نبی کریمﷺنے اُنہیں ایک کچھ چھوٹے جانور دیے تاکہ وہ اُنہیں صحابہ کرام﷡میں تقسیم کردیں ، اُنہوں نے وہ تقسیم کردیں لیکن ایک ”عَتود“ باقی رہ گیا ،اُن صحابی نے آپﷺسے یہ ذکر کیا تو آپﷺنے اِرشاد فرمایا:تم اسے ذبح کرلو ۔(بخاری:2300)

عَتود کے پہلے معنی کے اعتبار سے حدیث پر کوئی اشکال نہیں کیونکہ ایک سال کی بکری کی قربانی جائز ہے البتہ دوسرے معنی کے اعتبار سےحدیث پر یہ اِشکال ہوگا کہ ایک سال سے کم عمر بکری کی قربانی کو جائز کہا گیا ہے ؟ اِس کا جواب شارحین نے یہ دیا ہے کہ یہ حضرت عقبہ ﷜کی خصوصیت پر محمول ہے،یعنی دوسروں کیلئے اِس پر عمل کرنا درست نہیں۔(مرقاۃ : 3/1079

I Covered these points in the video


qurbani

kin janwaro ki qurbani jaiz hai

qurbani ke janwar ki umar

qurbani ke janwar

qurbani ka janwar

qurbani ke masail

kis janwar ki qurbani jaiz hai

qurbani ke janwar ki umar kitni honi chahiye

kin janwaron ki qurbani jaiz hai

kis janwar ki qurbani nahi hoti 

kin janwar ki qurbani jaiz hai

bhains ki qurbani

kya khasi janwar ki qurbani jaiz hai

qurbani ka janwar kaisa hona chahiye

khasi janwar ki qurbani hadees

bhains ki qurbani jaiz hai

qurbani 2021

Spread the love

Leave a Comment

%d bloggers like this: