Kiya Bhains (Buffalo) Qurbani | Bhains Ki Qurbani Karna Islam Main Jayez Hai | katte ki Qurbani Krna Kesa Hai | Qurbani Ke janwar Price 2021 | کیا کٹے کی قربانی جائز ہے

 بھینس کی قربانی

Kiya Bhains (Buffalo) Qurbani | Bhains Ki Qurbani Karna Islam Main Jayez Hai | katte ki Qurbani Krna Kesa Hai |  Qurbani Ke janwar Price 2021 |  بھینس کی قربانی

کیا کٹے کی قربانی جائز ہے

 بعض حضرات یہ خیال کرتے ہیں کہ بھینس کی قربانی درست نہیں ہے، ان کا یہ خیال غلط ہے، کیوں کہ شریعتِ مقدسہ میں تین قسم کے جانوروں کی قربانی کرنا جائز ہے، اور فقہاء کرام نے ان تین قسموں میں گائے کے ساتھ بھینس کو بھی شمار کیا ہے۔(

قربانی کے جانور

کن جانوروں کی قربانی درست ہے؟

صرف درج ذیل جانوروں کی قربانی درست ہے:

(۱) بکری (جس کے ضمن میںپالتو بھیڑ، دنبہ اور مینڈھے وغیرہ بھی شامل ہیں)

(۲) اونٹ۔

(۳) گائے (جس کے ضمن میںبھینس اور کٹرے بھی شامل ہیں)

فہو ان یکون من الاجناس الثلاثۃ الغنم اوالابل او البقر ویدخل فی کل جنس نوعہ، والذکر والانثیٰ منہ۔ (ہندیۃ ۵؍۲۹۷، تبیین الحقائق زکریا ۶؍۴۸۳، درمختار مع الشامی زکریا ۹؍۴۶۶، بدائع الصنائع زکریا ۴؍۲۰۵)

بھینس کی قربانی


بھینس بھی گائے کی قسم کا جانور ہے؛ لہٰذااس کی قربانی میںکوئی حرج نہیں ہے۔ وتجوز بالجاموس لانہ نوع من البقر۔ (البحر الرائق زکریا ۹؍۳۲۴، تاتارخانیۃ زکریا ۱۷؍۴۳۴، شامی زکریا ۹؍۴۶۶، کراچی ۶؍۳۲۲، بزازیۃ ۶؍۲۸۹، المحیط البرہانی ۸؍۴۶۸، فتاویٰ محمودیہ ڈابھیل ۱۷؍۳۴۹)

فتنہ کے ڈر سے گائے کی قربانی ترک کرنا

گائے کی قربانی کرنا اسلام میں بلاشبہ جائز ہے، اور اس کی قربانی پر پابندی محض ظلم ہے؛ لیکن اگر کسی جگہ ملکی قانون کی خلاف ورزی سے فتنہ کے اندیشہ کی وجہ سے گائے کی قربانی سے احتراز کیا جائے تو یہ جائز ہے۔ ما یؤدی إلی الشرشر۔ (روح المعانی ۷؍۲۵۲، الانعام: ۱۰۸، مستفاد: فتاویٰ

محمودیہ ڈابھیل ۱۷؍۳۳۳-۳۳۹، امداد الاحکام ۴؍۱۹۱-۱۹۳) أن الطاعۃ إذا أدت إلی معصیۃ راجحۃ وجب ترکہا لأں ما یؤدی إلی الشرشر۔ (تفسیر مظہری ۳؍۲۷۶)

قانوناً ممنوع ہونے کے باوجود گائے کی قربانی

اگر کسی جگہ گائے کے ذبح پر قانوناً پابندی ہو پھر بھی قربانی میں گائے ذبح کرلی جائے تو یہ قربانی شرعاً درست ہے اور اس کے گوشت کو کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے (کیوںکہ گائے پر پابندی کا حکم شرعی نہیں ہے اور وہ فی نفسہٖ حلال جانور ہے جو کسی قانون کی وجہ سے حرام نہیں ہوسکتا) (فتاویٰ محمودیہ ڈابھیل ۱۷؍۳۴۵-۳۴۷)

قربانی کے جانوروں کی عمریں

قربانی کے جانوروں کی عمریں کیا ہوں؟ تو اس بارے میں درج ذیل تفصیل ہے:

(۱) بکرا / بکری: ایک سال کا مکمل ہوچکا ہو۔ (البتہ دنبہ یا بھیڑ اگر فربہ اور صحت مند ہو تو ایک سال سے کم بھی ان کی قربانی درست ہے، جب کہ چھ مہینہ سے زائد کے ہوں) وصح الجذع ذو ستۃ أشہر من الضأن إن کان بحیث لو خلط بالثنایا لا یمکن التمیز من بعد۔ (درمختار ۹؍۴۶۵)

(۲) بھیڑ: اگر صحت مند ہو اور دیکھنے میں بڑا لگتا ہو تو چھ مہینہ کا بھی کافی ہے۔

(۳) گائے/بھینس / کٹرا: دو سال کے مکمل ہوچکے ہوں۔

(۴) اونٹ: پانچ سال کا مکمل ہوچکا ہو۔

والثنی من الغنم الذی تم لہ سنۃ وطعن فی الثانیۃ، ومن البقر الذی تم لہ سنتان وطعن فی الثالثۃ، ومن الابل الذی تم لہ خمس سنین وطعن فی السادسۃ۔ (تاتارخانیۃ زکریا ۱۷؍۴۲۵، درمختار مع الشامی زکریا ۹؍۴۶۶، تبیین الحقائق زکریا ۶؍۴۸۴، بدائع الصنائع زکریا ۴؍۲۰۶، مسائل قربانی وعقیقہ ۱۸

I Covered these points in the video

> bhains ki qurbani

 > bhains

> qurbani

> kya bhains ki qurbani jaiz hai

> bhains ki qurbani jaiz hai

> kia bhains ki qurbani jaiz hai

> bhains qurbani

> bhains ki qurbani jaiz hai ya nahi

> bhains ki qurbani video

> kia bhains (buffalo) ki qurbani jaiz hai 

> buffalo ki qurbani,buffalo qurbani

> bhainsa qurbani,cow qurbani

> bhains ki qurbani halal ya haram

> qurbani 2020,bhains ki qurbani adv faiz syed

> eid par bhains ki qurbani

> kya bhains ki qurbani jaiz hai?

> kya bhains ki qurbani durust hai

bhains ki qurbani in islam

Spread the love

Leave a Comment

%d bloggers like this: