Ma Bap Ke Kehne Par Biwi Ko Talak Dena Jaiz Hai ! Wald Ke Kehne Par Biwi Ko Talaq Dena | ماں باپ کہنےپربیوی کو طلاق

 بلا تحقیق محض وقوعِ طلاق سے شوہر یا بیوی پر کوئی حکم لگانا گناہ ہے

Ma Bap Ke Kehne Par Biwi Ko Talak Dena Jaiz Hai ! Wald Ke Kehne Par Biwi Ko Talaq Dena | ماں باپ کہنےپربیوی کو طلاق


 ایک غلطی اس کے

مقابلے میں کہ وہ بھی رسمِ جاہلیت ہی ہے، یہ ہے کہ بعضے لوگ طلاق دینے والے کو بلا دلیل ظالم قرار دے لیتے ہیں اور اسی بنا پر پھر اس کا نکاح دشوار ہوجاتاہے۔ سو یہ بھی پہلے کی طرح رجم بالغیب (اٹکل پچو) ہے، کہیں کہیں عورتیں سرکشی ونافرمانی وایذا رسانی کرتی ہیں، تو اس صورت میں مرد بجز طلاق کے کیا کرے؟ حاصل یہ کہ محض وقوع طلاق سے بلا تحقیق نہ شوہر پر الزام لگاوے، نہ عورت پر، بلکہ جن لوگوں کا اس قصے سے کوئی تعلق نہیں ہے، ان کو تو اس سے تعرض ہی کی ضرورت نہیں، اور جن کا کچھ ضروری تعلق ہے وہ بھی بدون تحقیق کے کوئی حکم نہ لگائیں، کہ بدون دلیلِ شرعی کوئی حکم لگا

Spread the love

Leave a Comment

%d bloggers like this: