Muharram Aor ashura Ki Haqeeqat | Muharram Ki Fazilat | Waqia Karbala In Urdu | Waqia Karbala history | ماہِ محرم کی تاریخی اہمیت |

 ماہِ محرم کی تاریخی اہمیت

muharram aor ashura ki haqeeqat


محرّم باب تفعیل کا تحریم سے اسمِ مفعول ہے۔ عربی میں تحریم کے دوسرے معانی کے ساتھ اس کے معنی تعظیم کرنے کے بھی آئے ہیں تومحرّم کے معنی معظم (عظمت والا)ہوئے، چوںکہ یہ مہینہ عظمت کے قابل ہے اس لیے اس کانام محرم ہے ۔ کسی زمانہ، دن یا مہینہ میں عظمت وحرمت کا اصل سبب تو اللہ تبارک وتعالیٰ کی تجلیات و انوار کا اس زمانہ میں ظاہر ہونا ہی ہے (مگر بعض عظیم الشان اور اہم واقعات کا کسی زمانہ میں انجام پذیر ہونا بھی دوسرے درجہ میں اس زمانہ کی عظمت و فضیلت کا سبب اور مُوجِب ہوجاتا ہے اور اس عظیم الشان واقعہ کے رونما ہونے کی وجہ سے بھی بواسطہ اس واقعہ کے زمانہ میں فضیلت آجاتی ہے) جس زمانہ میں انوار و تجلیات کا زیادہ ظہور ہوتا ہے۔ ان انوار و تجلیات کی وجہ سے اس زمانہ میں فضیلت حاصل ہو کر اس میں اجر و ثواب بہ نسبت اور دنوں کے بڑھ جاتاہے، ورنہ زمانہ اپنی ذات میں یکساں اور برابر ہے، فضیلت اگراس میں آتی ہے تواللہ تعالیٰ کی تجلیاتِ خاصہ کے نزول کی وجہ سے آتی ہے۔ جب کسی زمانہ کی فضیلت کامدار اس میں خاص تجلیاتِ حق کے نزول پرہے اور تجلیات خاصہ کے نزول کاعلم بجزوحی کے کسی کویقینی طور پر نہیں ہوسکتا تو پھر کسی زمانہ کی فضیلت کا علم بغیر رسول اللہﷺ کے بتلائے ہوئے ناممکن ہے۔ لہٰذا وحی کی روشنی کے بغیر اپنی طرف سے کسی زمانہ کی فضیلت کا یقین کرلینا ناجائز ہے اور {وَلااَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌط }1(جس چیز کاتجھے علم نہیں اس کے پیچھے نہ پڑ) کے خلاف ہونے کی وجہ سے ممنوع ہوگا۔ چوں کہ اس ماہِ محرم میں حق تعالیٰ کی تجلّیاتِ رحمت اور بندوں کی طرف اس کی خصوصی توجہات کا نزول اجلال ہوتا ہے۔ اس لیے ہمیں حکم ہے کہ ہم اس ماہ میں حق تعالیٰ شانہ کی عظمت کا اظہار اس اَحکام کو اِجمالی طور پر کسی قدر یکجاکرکے بیان کردیاجائے تاکہ ایساشخص بھی ان احکام سے فائدہ اٹھاسکے جس کو علمائے کرام کی مختلف اور متفرق کتابو ں کے مطالعہ کرنے کا موقع نہیں ملتا مگر یہ تحریر بطورِ مسودہ کے متفرق اوراق میں پڑی رہی اور ’’ہدایۃ الحیران‘‘ وغیرہ تصنیفات میں مشغولی کی وجہ سے ادھر توجہ نہیں ہوئی۔ اب ایک عزیز نے فرمایش کی کہ وہ مسودہ صاف کرکے مجھے دے دیا جائے۔ لہٰذا اب اس پر نظرِ ثانی کرکے اس کو صاف کیا گیاہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے نفع کوعام وتام فرمائے اور جو اس میں کوتاہی و لغزش ہوگئی ہو اس سے درگزر فرمائے۔

إِنْ أُرِیْدُ إِلَّا الْأِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُ وَمَا تَوْفِیْقِيْ إِلَّا بِاللّٰہِ،

عَلَیْہِ تَوَکَّلتُ وَإِلَیْہِ أُنِیْبُ۔



ماہِ محرم کی تاریخی اہمیت

muharram ki fazilat

محرّم باب تفعیل کا تحریم سے اسمِ مفعول ہے۔ عربی میں تحریم کے دوسرے معانی کے ساتھ اس کے معنی تعظیم کرنے کے بھی آئے ہیں تومحرّم کے معنی معظم (عظمت والا)ہوئے، چوںکہ یہ مہینہ عظمت کے قابل ہے اس لیے اس کانام محرم ہے ۔ کسی زمانہ، دن یا مہینہ میں عظمت وحرمت کا اصل سبب تو اللہ تبارک وتعالیٰ کی تجلیات و انوار کا اس زمانہ میں ظاہر ہونا ہی ہے (مگر بعض عظیم الشان اور اہم واقعات کا کسی زمانہ میں انجام پذیر ہونا بھی دوسرے درجہ میں اس زمانہ کی عظمت و فضیلت کا سبب اور مُوجِب ہوجاتا ہے اور اس عظیم الشان واقعہ کے رونما ہونے کی وجہ سے بھی بواسطہ اس واقعہ کے زمانہ میں فضیلت آجاتی ہے) جس زمانہ میں انوار و تجلیات کا زیادہ ظہور ہوتا ہے۔ ان انوار و تجلیات کی وجہ سے اس زمانہ میں فضیلت حاصل ہو کر اس میں اجر و ثواب بہ نسبت اور دنوں کے بڑھ جاتاہے، ورنہ زمانہ اپنی ذات میں یکساں اور برابر ہے، فضیلت اگراس میں آتی ہے تواللہ تعالیٰ کی تجلیاتِ خاصہ کے نزول کی وجہ سے آتی ہے۔ جب کسی زمانہ کی فضیلت کامدار اس میں خاص تجلیاتِ حق کے نزول پرہے اور تجلیات خاصہ کے نزول کاعلم بجزوحی کے کسی کویقینی طور پر نہیں ہوسکتا تو پھر کسی زمانہ کی فضیلت کا علم بغیر رسول اللہﷺ کے بتلائے ہوئے ناممکن ہے۔ لہٰذا وحی کی روشنی کے بغیر اپنی طرف سے کسی زمانہ کی فضیلت کا یقین کرلینا ناجائز ہے اور {وَلااَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌط }1(جس چیز کاتجھے علم نہیں اس کے پیچھے نہ پڑ) کے خلاف ہونے کی وجہ سے ممنوع ہوگا۔ چوں کہ اس ماہِ محرم میں حق تعالیٰ کی تجلّیاتِ رحمت اور بندوں کی طرف اس کی خصوصی توجہات کا نزول اجلال ہوتا ہے۔ اس لیے ہمیں حکم ہے کہ ہم اس ماہ میں حق تعالیٰ شانہ کی عظمت کا اظہار اس طریقہ پرکریں جس کی تعلیم ہم کو صاحبِ وحی رسول اللہﷺ نے فرمائی ہے۔

Waqia Karbala In Urdu

فائدہ:قبل ازاسلام زمانہ ٔجاہلیت میں بھی محرم الحرام ان چار مہینوں میں شمار ہوتاتھا جن کے احترام کی وجہ سے مشرکینِ عرب اپنی خانہ جنگیوں کو بند کردیا کرتے تھے، تو اس ماہِ محرم کی حرمت و عظمت قدیم الایام سے چلی آتی ہے اور اس ماہ کوکفار عرب بھی محترم سمجھتے تھے۔ ابتدائے اسلام میں اسلام نے بھی اس مہینہ کے احترام کے باعث اس کے اندر قتال کے ممنوع ہونے کوباقی رکھا۔ چناں چہ آیت قرآنیہ: {یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الشَّہْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِیْہِط قُلْ قِتَالٌ فِیْہِ کَبِیْرٌط} 2میں اَشہُرِحرم کے اندر جن میں محر م کا مہینہ بھی شامل ہے قتال کرنے کو گناہِ کبیرہ بتلایا گیا ہے، مگر باتفاق امت حرمتِ قتال کا یہ حکم عموماتِ قرآنیہ سے بعد میں منسوخ ہوگیا اور اب ان مہینوں میں قتال جائز ہے۔ اگرچہ اب بھی افضل یہی ہے کہ ان مہینوں میں قتال کی ابتدا نہ کی جائے ۔ 3

لیکن اس نسخ سے اصل مسئلہ تعظیمِ محرم پرکوئی اثرنہیں پڑتااس لیے کہ حرمتِ قتال علت نہیں ہے ماہِ محرم کے احترام کی بلکہ ماہِ محرم کے احترام کا ایک خارجی اثر حرمتِ قتال بھی تھا۔ کسی اثرکے فوت ہوجانے سے مؤثر کا فوت ہونا لازم نہیں آتا۔ مثال کے طور پر اگر سنکھیا کا اثر یعنی مہلک ہونے کی قوت کسی طریقہ سے زائل کردی جائے توبھی اس کو سنکھیا ہی کہا جائے گا، اب وہ شیرینی نہیں بن گیا۔ اسی طرح حرمتِ قتال کا حکم گو اب باقی نہیں رہا مگر احترامِ محرم اب بھی باقی ہے۔ غرضے کہ پورا ماہِ محرم شروع سے آخر تک قابلِ احترام اور لائقِ تعظیم ہے اور پورا مہینہ حق تعالیٰ کی خصوصی توجہات کامحل ہے۔ اس مہینہ میں جتنا ہوسکے عبادات میں کوشش کرنی چاہیے کہ خیر و برکت کا مہینہ خالی نہ گزر جائے

Muharram Mein Kala Kapra Pehna

I Covered these points in the video

> muharram

> muharram ki haqeeqat

> muharam ki haqiqat

> muharram ki fazilat

> muharram aor ashura ki haqeeqat

> muharram ki haqiqat

> mahe muharram ki ibadat

> Waqia Karbala history

Spread the love

Leave a Comment

%d bloggers like this: