Muhobat main kia kuch kar sakte hain ! Pyar Mein zina karna jaiz hai ! Kuch Waqat Ke Liye Nikah | zina ki saza | زنا کی سزا

 زنا کی سزا 

Muhobat main kia kuch kar sakte hain ! Pyar Mein zina karna jaiz hai ! Kuch Waqat Ke Liye Nikah | zina ki saza |  زنا کی سزا


{ الزانیۃ والزاني فاجلدوا کل واحد منہما مائۃ جلدۃ ولا تأخذکم بہما رأفۃ في دین اللّٰہ إن کنتم تؤمنون باللّٰہ والیوم الاٰخر } ’’ زنا کرنے والی عورت اور زنا کرنے والا مرد ، سو اُن میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو اور تم لوگوں کو ان دونوں پر اللہ تعالیٰ کے معاملے میں ذرا رحم نہیں ہونا چاہیے ، اگر تم اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہو ۔ ‘‘ ( ۴۳ )

شریعت میں زنا کی سزا یہ بیان کی گئی ، کہ اگر زانی وزانیہ شادی شدہ ہیں ، تو اُنہیں رجم وسنگ سار کردیا جائے ، اور اگر غیر شادی شدہ کنوارے ہوں ، تو اُنہیں سو کوڑے رسید کیے جائیں ۔ اب بعض مغربیت سے مرعوب ومسحور ذہنوں کا اس مناسب اسلامی سزا پر پیٹ مروڑ کر رہ جاتا ہے ، وہ اس پر بھی نہایت غیر مناسب وسخت سزا ہونے کا واویلا مچاتے ہیں ، اگر صحیح معنی میں ذرا غور کیا جائے ، تو معلوم ہوگا کہ زنا کس قدر سخت ترین جرم ہے اور اُس پر دی جانے والی شرعی سزائیں بالکل اس کے مناسب ہیں ، ایک کافر اپنے کفر کو برا نہیں سمجھتا ، ایک قاتل اپنے عملِ قتل کو اپنی بہادی سمجھتا ہے ، مگرزنا ایک ایسی چیز ہے کہ اس میں مبتلا ہونے والا ہر شخص اُسے فحش ، بدی اور جرم تصور کرتا ہے ، اسی لیے تو وہ خود اپنی ماں ، بہن ، بیٹی اور بیوی کے ساتھ کسی دوسرے کا یہ عمل گوارانہیں کرتا ، بل کہ مرتکب کے قتل کے درپے تک ہوجاتا ہے ، اور کبھی خاندان کے لیے عار کا باعث بننے والی بیٹی بہن کا گلا ریت کر قتل بھی کردیتا ہے ، تو زنا یہ ایسا جرم ہے جو خود کرنے والے کے نزدیک بھی برا ہوتا ہے اور دوسروں کی نگاہ میں بھی برا ہوتا ہے ، لہٰذا اُس پر دی جانے والی سزا بھی اسی کے مناسب ہے ، اور ہاں ! اس پہلو کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ جہاں اس جرم کی سزا سخت ترین مقرر کی گئی ، وہیں اس کے ثبوت کی شرطیں بھی نہایت سخت واحتیاطی رکھی گئیں ، گنہگار انسان کی حتی الامکان پردہ پوشی کی گئی ، کہ ( ثبوتِ زناکے لیے ) چار گواہوں کا ہوناشرط ہے ، جواس طرح گواہی دیں کہ ہم نے اپنی سگی آنکھوں سے فلاں مرد اور فلاں عورت کو ایسی حالت میں دیکھا جیسے سرمے دانی میں سلائی ۔ چار چشم دید گواہ ، تاکہ احتمالات اور گمان کا شبہ نہ رہے ؛ حتی الامکان حد کے اِجراء سے احتیاط برتا جاتا ہے ، جیسا کہ فقہی قاعدہ ہے : ’’ اَلْحُدُوْدُ تَنْدَرِئُ بِالشُّبْہَاتِ ‘‘ کہ حدود ( سزائیں ) شبہات سے ٹل جاتی ہیں ۔ ( ۴۴ )

امید ہے کہ اسلامی قانون سے متعلق اتنی وضاحت کے بعد تو کم از کم انصاف پسند ، وحقیقت پسند طبیعتوں کو اس قانون کی افادیت وضرورت سے اِبا وانکار نہیں ہوگااور حق کے متلاشی معترضین کا ، چوری ، ڈاکہ اور زنا پر جاری کی جانے والی اسلامی سزاؤں سے متعلق ذہن صاف ہوجائے گا ، اس لیے کہ یہ ایسا فطری قانون ہے کہ صرف مسلمان ہی نہیں ، بل کہ غیروں کو بھی اس کے اعتراف میں ہچکچاہٹ نہیں ، جیسا کہ مضمون کی ابتدا میں ، بعض شدت پسند ہندو تنظیموں کے حوالے سے ’’ حقیقت پسند طبیعتوں کی پکار ‘‘ کے عنوان سے ، زانیوں کو اسلامی سزا دینے کی بات کہی گئی ۔ ( اُسے دوبارہ دیکھ لیا جائے

Spread the love

Leave a Comment

%d bloggers like this: