musibat se bachne ka wazifa ! aane wali musibat se bachne ka wazifa ! پریشانی سےبچنےکاوظیف | مصیبت سے نجات کیسے

 مصیبت سے نجات کیسے؟

musibat se bachne ka wazifa

musibat se bachne ka wazifa ! aane wali musibat se bachne ka wazifa ! پریشانی سےبچنےکاوظیف  |مصیبت سے نجات کیسے

سعودی عرب کے ایک نامور عالم دین ڈاکٹر عائض بن عبد اللہ القرنی کی کتاب لاتحزن کے اردو ترجمہ غم نہ کریں سے ماخوذ ہیں، جنہیں میدان عمل میں لاکر پر لطف اور فرحت وتازگی سے بھر پور زندگی گذاری جاسکتی ہے۔

ایمان سے رنج وغم اور فکریں ختم ہوتی ہیں، ایمان اہل ایمان کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اور عبادت گذاروں کی تسلی جو گزرا سو گزرا، گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں ، لہٰذا جو گزرگیا اس کے بارے میں مت سوچو، کسی کے شکر یہ کا انتظار نہ کرو، بس اللہ الصمد کا ثواب کافی ہے منکروں کے انکار اور حاسدوں کے حسد سے آپ کو کوئی نقصان نہیں ہوگا، اپنے دل کوحسد سے پاک کر لو اس بغض وعداوت کو نکال پھینکو۔

لوگوں سے بس خیر کے لئے ملو گھر میں زیادہ رہو اپنے کام سے کام رکھو، لوگوں سے کم ملو جلو، کتاب بہترین دوست ہے، اس کی ہم نشینی اختیار کرلو، علم ومعرفت سے ہمیشہ کے لئے دوستی کرلو، تاریخ کا مطالعہ کرو، اس کے عجائب وغرائب پر غور کرو، اس کے قصوں اور کہانیوں سے لطف اندوز ہو، حزن وملال، مایوسی اور حسرت پیدا کرنے والی کتابیں نہ پڑھو، جو تم پر ظلم کرے اس سے در گزر کرو، جو تم کو کاٹے اس سے جڑو، جو محروم کرے اس کو دو، جو برائی کرے اس سے بردباری برتو تم کو خوشی وامن ملے گا، جان لو کہعسر کے ساتھ یسر ہے اور کرب کے ساتھ کشادگی ہے ایک حالت ہمیشہ نہیں رہتی، زمانہ الٹتا پلٹتا رہتا ہے، اللہ نے جو تمہارے لئے چنا ہے اس پر خوش رہو، کیونکہ مصلحت کیا ہے تم نہیں جانتے،

 کبھی شدت بھی فراخی سے بہتر ہوسکتی ہے، مصیبت سے اللہ او ربندے کے درمیان قربت ہوتی ہے تم دعا کرتے رہو، مصیبت کبر وغرور اور فخر کو ختم کردے گی، یقین کرو کہ دنیا ابتلاء وآزمائش ، رنج وغم اور کدورتوں کی جگہ ہے اس لئے اسے اسی طرح قبول کرو اور اللہ سے مدد مانگو، جو مصیبت پہونچی اس کا ثواب ملے گا، حاسدوں، سخت دلوں اور چغل خوروں کے ساتھ نہ بیٹھو، کیونکہ وہ روح کا تجار ہیں کدورت پھیلاتے اور افسردہ کرتے پھرتے ہیں ،تمہارے بارے میں جو بھی بری بات کہی جائے کہنے والے کو ہی تکلیف دے گی تمہیں نہیں، اس سے ذرا بھی اثر نہ لینا، اگر دشمن تمہیں برا بھلا کہتے ہیں حاسد سب وشتم کرتے ہیں تو اس سے تمہارا ہی وزن بڑھتا ہے اس کے معنی ہیں کہ تم اہمیت والے ہوگئے تبھی تو تمہارا ذکر ہورہا ہے ، سعادت کے بڑے دروازوں میں سے والدین کی دعا ہے اسے غنیمت جانو تاکہ ان کی دعا ہر برائی سے تمہارے لئے ڈھال بن جائے، لوگوں سے خندہ پیشانی سے ملو ان کی محبت مل جائے گی نرمی سے ان سے بات کرو تواضع سے پیش آئو تو وہ تمہارا احترام کریں گے، متوسط درجہ کا لباس پہنو نہ کہ عیش پسندوں او رمحتاجوں کا اس لباس سے اپنے آپ کو ممتاز کرو، عام لوگوں کی طرح رہو، صدقہ دیا کرو چاہے

 تھوڑا ہی کیوں نہ ہو اس سے گناہ ختم ہوگا دل کو خوشی ملے گی فکر دور ہوگی ، رزق میں اضافہ ہوگا، اپنا نمونہ اپنے امام محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بنائو، دینی سعادت تک پہونچائیں گے وہی نجات دہندہ اور فلاح وکامیابی سے ہمکنار کریں گے، رحمان کی رحمت کے بارے میں سوچو کہ اس نے زانیہ عورت کو بخش دیا جس نے کتے کو پانی پلادیا تھا اسے بخش دیا جس نے سوقتل کئے تھے اسے بخش دیا۔ توبہ کرنے والوں کی توبہ قبول کرتا ہے حتی کہ اس نے نصرانیوں کو بھی توبہ کی دعوت دی ہےپریشانیوں سے نہ گھبرائو اس سے دل مضبوط ہوگا، عافیت کا مزہ ملے گا حوصلہ بڑھے گا، تمہارا صبر ظاہر ہوگا، شان بلند ہوگی، ماضی کے بارے میں سوچنا حماقت اور جنون ہے، وہ تو ایسا ہی ہے جیسے آٹے کو پیسنا، چرے ہوئے کو چیرنا اور قبروں سے مردے اکھاڑنا، جو اعتدال کو اپنا ئے گا اسے سعادت ملے گی

، جو میانہ رو ہوگا اسے کامیابی ملے گی جو آسان پہلو پر توجہ دے گا وہ کامران ہوگا، جب کوئی بحران در پیش ہو تو یاد کرو کہ کتنے بحران تم پر گذرے اور اللہ نے تمہیں ان سے نجات دی اس سے پتہ چلے گا کہ جس نے پہلی بار عافیت دی اب کی بار بھی دے گا ، دن کو ضائع کرنے والا وہ ہے جو اسے بغیر حق ادا کیے، بغیر کسی فرض نبھائے، بغیر کسی مقام کو پائے خوشی حاصل کئے ، بغیر علم سیکھے، بغیر کسی صلہ رحمی کے اور بغیر کسی خیر کو انجام دیئے گزارے۔

اچھا یہ ہے کہ ہمیشہ ہاتھ میں کتاب رکھو، کیونکہ بہت سا وقت ضائع ہوجاتا ہے وقت کی حفاظت اور فرصت کے استعمال کا بہترین ذریعہ کتاب ہے ، چار چیزیں سعادت لاتی ہیں ، نفع بخش کتاب، صالح اولاد، پیار کرنے والی بیوی، نیک دوست ان سب کا اجر اللہ کے یہاں ہے ، امن سب سے نرم قالین ہے عافیت بہترین پردہ، علم لذیذ تر غذا اور محبت سب سے زیادہ مفید تر دوا اور حجاب سب سے اچھا لباس ہے، خوشی لحظۂ مستعار ہے ، حزن کفارۂ ہے غضب ایک شعلہ ہے بیکاری خسارہ ہے اور عبادت نفع بخش تجارت ہے، آنسو کے ساتھ مسکراہٹ ہے تکلیف کے ساتھ خوشی بھی ہے، بلاء کے ساتھ عطیہ ہے ، آزمائش میں انعام بھی ہے ،یہ اللہ کی سنت اور اس کا قاعدہ ہے۔

جو اختلاف کو ترک کردے ، تفاخر سے بچے، جھوٹ سے محفوظ رہے ، تقدیر پر راضی ہو، حسد کو چھوڑ دے اللہ اس کے لئے اپنی مخلوق کے دل میں جگہ بنادیتا ہے، نیکی سے آدمی غلام بن جاتا ہے، احسان سے انسان بندہ بے دام ہوجاتا ہے، بردباری سے دشمن مغلوب ہوجاتا ہے، اور صبر شعلوں کو بجھادیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین

Spread the love

Leave a Comment

%d bloggers like this: