Shohar Namard Ho to Kya Kare In Urdu | Husband Namard Ho To Biwi | Husband agar Jismani Talaq Na Rakhy To Biwi Kiya Kare | Shohar Namard Ho To Biwi Kya Kare | نامرد کے ساتھ نکاح

 نامرد کے ساتھ نکاح بالکل صحیح ہوجاتاہے

Shohar Namard Ho to Kya Kare In Urdu | Husband Namard Ho To Biwi | Husband Agar Jismani Talaq Na Rakhy To Biwi Kiya Kare | Shohar Namard Ho To Biwi Kya Kare | نامرد کے ساتھ نکاح

 یعنی اس کو مثل عورت کے سمجھ کر عورت کے ساتھ اس کے نکاح کو باطل

سمجھتے ہیں، سو یہ بالکل ہی غلط ہے۔ صریح دلیلِ فقہی اس کے غلط ہونے کی یہ ہے کہ اس صورت میں منکوحہ کے مطالبے پر اس کو علاج کے لیے مہلت دی جاتی ہے، اور اگر شفا ہوجائے ت اس نکاحِ سابق پر اکتفا کیا جاتاہے، نکاحِ جدید کا حکم نہیں کیا جاتا، معلوم ہوا کہ پہلا نکاح منعقد وصحیح ہوجاتا ہے۔

نامرد کو از خود نکاح کرنا گناہ ہ

: البتہ ایسے شخص کو جب کہ اس کو علامات سے اپنا عاجز ہونا معلوم ہو تو خود نکاح کرنا ہی گناہ ہے، تو تحریم بمعنی گناہ تو واقع ہے، مگر تحریم بمعنی عدمِ انعقادِ نکاح (نکاح صحیح نہ ہونا) واقع نہیں، اسی لیے اس کے لیے احقر نے اُوپر یہ عنوان تجویز کیا ہے ’’تحریمِ حلال کے قبیل سے‘‘ (حلال کو حرام سمجھنے کی قسم سے) کیوںکہ یہ ایک وجہ سے تحریم ہے، ایک وجہ سے نہیں۔

نامرد کے پیچھے نماز پڑھنے سے نماز صحیح ہوجاتی ہے

 اور اس شخص کے اسی الحاق بالنساء (عورتوں میں شامل ہونے) کے خیال پر ایک دوسری غلطی جوکہ اس باب سے نہیں ہے، ۔ُجہلا مبتلا ہیں، یعنی اس شخص کے پیچھے نماز کو ناجائز یا مکروہ سمجھتے ہیں، جس کی کچھ اصل نہیں۔

خصی اور ہیجڑے کی امامت مکروہ ہے: اور یہی حکم ہے خصی و مجبوب کا، یعنی جس کے ہیضے نکال دیے گئے ہوں جس کو ’’خوجہ‘‘ یا ’’خواجہ سرا‘‘ کہتے ہیں، یا جس کا خاص اندام (عضوِ مخصوص) قطع کردیا گیا ہو، جس کو ہمارے محاورے میں ’’مخنث‘‘ یا ’’ہیجڑا‘‘ کہتے ہیں، وہ بھی مرد ہے، اور اس کا حکم مردوں کا سا ہے، گو بصورت اس کے فاسق ہونے یا اس سے جماعت کی نفرت کرنے کے اس کی امامت مکروہ ہے، اوّل صورت میں تحریماً دوسری میں تنزیہاً۔

نامرد، خصی اور ہیجڑے وغیرہ سے پردہ واجب ہ

: ان ہی احکام میں سے یہ بھی ہے کہ اس سے عورتوں کو پردہ بھی واجب ہے، جس طرح عام مردوں سے، اس میں بھی ناواقف بہ کثرت مبتلائے غلطی ہیں

عنّینّیت مرض ہے اور قطعِ عضو ِسخت گناہ ہے: اس میں اور عنّین میں اتنا فرق ہے کہ عنّینّیت مرض ہے، جس میں کوئی گناہ نہیں، اور قطعِ عضو سخت گناہ ہے، اگر خود کسی نے اپنے لیے ایسا تجویز کیا وہ فاسق ہے جب تک توبہ نہ کرے، اور جو اس کے ۔ِبلا علم یا بلا اختیار کسی اور نے کیا ہے وہ فاسق ہے۔

مَہِلابھی مردوں میں شامل ہ

: اور اسی کے ساتھ حکم سمجھنا چاہیے ایسے شخص کا جس کی چال ڈھال یا بول چال میں زنانہ پن ہو، اس کو ہمارے محاورے میں’’ مَہلا‘‘ کہتے ہیں، سو وہ بالکل مرد ہے، البتہ اگر اس کی یہ مشابہت بالنساء ۔ُخلقی (عورتوں سے مشابہت قدرتی) ہے تو وہ معذور ہے، اور اگر قصداً (جان بوجھ کر) ہے، جس کو ’’ تشبّہ‘‘ کہتے ہیں تو حدیث میں ایسے شخص پر لعنت آئی ہے۔1

نامرد سے عورت کی تفریق کرانے کا خاص قانون ہ

: اور ایک غلطی عِنّین کے متعلق کم واقفیت لوگوں کو واقع ہوتی ہے، کہ وہ تحلیلِ حرام کی فہرست میں داخل ہوجاتی ہے، وہ یہ کہ اس کے نکاح کو تو منعقد سمجھتے ہیں، مگر شوہر سے اس کی تفریق کردینے کو عورت یا برادری کے اختیار میں سمجھتے ہیں کہ جب چاہا دوسری جگہ اس کا نکاح کردیا گیا، سو یہ بھی شرع کے خلاف ہے۔ اس کی تفریق کا شرعاً خاص قانون ہے جوکتبِ فقہ میں مفصلاً مذکور ہے، اور احقر نے بہت عام فہم اور سلیس عبارت میں اس کو تتمہ’’ امداد الفتاویٰ‘‘ ص: ۱۶۳ مطبوعہ مجتبائی پر لکھ دیا ہے،1 اس کا مطالعہ ضروری ہے


I Covered these points in the video

> mera shohar namard hai

> mera shohar namard

> namard

> shohar namard hai

> agar shohar namard ho

> namard shohar ki pehchan

> shohar namard ho to biwi kya kare

> husband namard ho to biwi

> shohar agar namard ho

> namard shohar

> mera shohar namard hai indian desi housewife

> shohar agar namard nikla

> namard ki shadi

Spread the love

Leave a Comment

%d bloggers like this: