Takbeer e Tashreeq Kab Padhe ! Takbeer e Tashreeq Ka Waqt ! Takbeerat e Tashrek Kabse Padhe | تکبیراتِ تشریق کے کلمات

 ایّامِ تشریق میں تکبیر کب سے کب تک کہی جائے گی 

Takbeer e Tashreeq Kab Padhe ! Takbeer e Tashreeq Ka Waqt ! Takbeerat e Tashrek Kabse Padhe | تکبیراتِ تشریق کے کلمات

Takbeer e Tashreeq Kab Padhe

اِمام ابوحنیفہ  عرفہ کی صبح سے یوم النحر کی عصر نماز کے بعد تک تکبیر کہی جائے گی۔

اِمام احمد اور صاحبین عرفہ کی صبح سےایّامِ تشریق کے آخری دن یعنی تیرہ ذی الحجہ کی عصر کی نماز تک تکبیر تشریق کہی جائے گی مالکیہ اور شوافع﷭: یوم النحر کی ظہر سے لیکر ایّامِ تشریق کے آخری دن یعنی تیرہ ذی الحجہ کی صبح کی نماز تک تکبیر کہی جائےگی ۔(البنایۃ:3/125 ،126)

ایّامِ تشریق میں تکبیر کہنے کا حکم :

ایّامِ تشریق میں تکبیر کہنا لازم ہے یا بہتر ،اِس میں اختلاف ہے :

شوافع اور حنابلہ﷭: سنّت ہے ۔

مالکیہ ﷭: مندوب ہے ۔

احناف﷭: سنت اور وجوب دونوں طرح کا قول ہے ،البتہ راجح اور مشہور قول کے مطابق تکبیراتِ تشریق واجب ہیں۔(الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ:7/325)(عالمگیری:1/152)

تکبیراتِ تشریق کے کلمات 


Takbeer e Tashreeq Ka Waqt

تکبیر ِ تشریق کے کلمات کیا ہیں ، اِس میں اختلاف ہے :

احناف وحنابلہ﷭:”اللَّهُ أَكْبَرُ،اللَّهُ أَكْبَرُ،لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ،اللَّهُ أَكْبَرُ، وَلِلَّهِ الْحَمْدُ“ یعنی شروع میں” اللَّهُ أَكْبَرُ “ دو مرتبہ کہا جائے گا ۔

مالکیہ اور شوافع”اللَّهُ أَكْبَرُ،اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ،لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ،اللَّهُ أَكْبَرُ، وَلِلَّهِ الْحَمْدُ“یعنی شروع میں” اللَّهُ أَكْبَرُ “تین مرتبہ کہا جائے گا۔(الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ:7/325)

تکبیراتِ تشریق کتنی مرتبہ کہی جائیں گی

Takbeerat e Tashrek Kabse Padhe

احناف و حنابلہ﷭: تکبیرِ تشریق صرف ایک مرتبہ کہی جائے گی اِمام مالک﷫: اختیار ہے، دو یا تین مرتبہ بھی کہی جاسکتی ہے۔

اِمام شافعی﷫: تین مرتبہ تکبیر کہی جائے گی۔(البنایۃ:3/129)

قضاء نمازوں میں تکبیراتِ تشریق کہنا 

ایّامِ تشریق کی فوت شدہ نمازیں غیر ایّامِ تشریق میں قضاء کی جائیں تو بالاتفاق تکبیر نہیں کہی جائے گی ،اور ایّامِ تشریق میں قضاء کی جائیں تو اِس کی دو صورتیں ہیں

(1)— پہلی صورت:غیرِ ایّامِ تشریق کی فوت شدہ نمازیں ایّامِ تشریق میں قضاء کی جائیں تو 

اِمام احمد بن حنبل﷫: تکبیر کہی جائے گی ۔

ائمہ ثلاثہ ﷭: تکبیر نہیں کہی جائے گی ۔

(2)— دوسری صورت: ایّامِ تشریق کی فوت شدہ نمازیں ایّامِ تشریق ہی میں قضاء کی جائیں تو :

اِمام مالک﷫: تکبیر نہیں کہی جائے گی ۔

ائمہ ثلاثہ﷭: تکبیر کہی جائے گی ۔(الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ:7/325)

خلاصہ :یہ ہے کہ

اِمام مالک﷫: قضاء نمازوں میں مطلقاً تکبیر نہیں کہی جائے گی ،خواہ کوئی بھی صورت ہو۔

اِمام احمد﷫: ایّامِ تشریق میں پڑھی جانے والی قضاء نمازوں میں مطلقاً تکبیر کہی جائے گی۔

احناف و شوافع﷭: ایّامِ تشریق کی فوت شدہ نمازیں ایّامِ تشریق ہی میں قضاء کی جائیں توتکبیر کہی جائے گی ،ورنہ نہیں۔(تلخیص و ترتیب از مرتب)

Spread the love

Leave a Comment

%d bloggers like this: