Waldain ke Huqooq Essay in Urdu | Maa Baap Ke Huqooq | Parents Rights (والدین کے حقوق) In Islam – Waldain Ke Huqooq |

Waldain ke Huqooq Essay in Urdu

Waldain ke Huqooq Essay in Urdu | Maa Baap Ke Huqooq | Parents Rights (والدین کے حقوق) In Islam - Waldain Ke Huqooq  |


 : والدین کے حقوق

 بیان کرتے ہوئے آپ ا نے فرمایا : کوئی اولاد اپنے باپ کا بدلہ نہیں چکاسکتی ، سوائے اس کے کہ وہ باپ کو کسی شخص کا غلام دیکھے اور اسے آزاد کردے ۔

 ( ترمذی ؍ ج ۳ ص ۲۶۳ )

آپ نے والدین کی خدمت کو جہاد فرماکر بھی ان کی خدمت کی ترغیب دی ( مسلم شریف ؍ ج ۴ ، ص ۱۶۳ )

آپ انے والدین کی نافرمانی کو کبیرہ گناہوں میں شمار کیا ہے ، ایک بار صحابۂ کرام سے آپ ا نے سوال کیا کہ کیا میں تمہیں سب سے بڑے گناہ کی خبر نہ دوں ، صحابہ نے عرض کیا جی ہاں یارسول اللہ ا آپ نے فرمایا : اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا ۔ ( بخاری ؍ ج ۵ ص ۲۲۲۹ )

ماں کی خدمت کو جنت کے حصو ل کاذریعہ قرار دیتے ہوئے فرمایا : جنت ماں کے قدموں کے نیچے ہے ۔ ( عجلونی اسماعیل بن محمد )

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالی عنھما سے روایت ہے کہ ایک شخص آپ ا کے پاس ہجرت پر بیعت کرنے کی غرض سے حاضر ہوا ، وہ والدین کو روتا چھوڑکر آیا تھا ؛ آپ انے ا س سے فرمایا ان کے پاس جاؤ ان کو اسی طرح ہنساؤ جیسے ان کو رُلاکر آئے ہو ( الادب المفرد ) حقوقِ والدین پر بہت ساری روایات اور بھی ہیں

 

والدین کے حقوق اُن کی حیات میں

Maa Baap Ke Huqooq

مسئلہ(۲۲۱): علماء کرام نے قرآن وحدیث کی روشنی میں ماں باپ کی حیات میں اُن کے سات حقوق بیان فرمائے ہیں:

(۱) عظمت؛ یعنی دل سے ان کو بڑا ماننا، (۲) محبت؛ یعنی دل سے ان کو چاہنا اور ان سے محبت کرنا، (۳) اطاعت؛ یعنی جائز اُمور میں ان کی فرماں برداری کرنا، (۴) خدمت؛ یعنی انہیں مالی یا جسمانی جس طرح کی خدمت کی ضرورت ہو پوری کرنا، (۵) فکرِ راحت؛ یعنی ان کی راحت وآرام کا خیال رکھنا، (۶) رفعِ حاجت؛ یعنی ان کی ضرورت پوری کرنا، (۷) گاہے گاہے ان کی ملاقات؛ یعنی اگر وہ کہیں اور رہتے ہوں، تو کبھی کبھی ان سے ملنے اور خیریت معلوم کرنے کے لیے جانا۔

Parents Rights (والدین کے حقوق) In Islam – Waldain Ke Huqooq 

والدین کے حقوق اُن کی وفات کے بعد

مسئلہ(۲۲۲): علماء کرام نے قرآن وحدیث کی روشنی میں ماں باپ یا ان میں سے کسی ایک کے انتقال کے بعد ان کے سات حقوق بیان فرمائے ہیں:

(۱) ان کے لیے اللہ سے معافی اور رحمت کی دعائیں کرنا، (۲) ان کی جانب سے ایسے اعمال کرنا جن کا ثواب ان تک پہنچے، (۳) ان کے رشتے دار دوست ومتعلقین کی عزت کرنا، (۴) ان کے رشتے دار دوست ومتعلقین کی حتی الامکان مدد کرنا، (۵) ان کی امانت اور قرض ادا کرنا، (۶) ان کی جائز وصیت پر عمل کرنا، (۷) کبھی کبھی ان کی قبر پر جانا۔

والدین کی اطاعت اور خالق کی نافرمانی

مسئلہ(۲۱۶): بعض والدین کو ایسی چیزوں کی عادت ہوتی ہے، جو شرعاً منع ہیں، مثلاً؛ شراب، جُوا، سٹہ، فلم بینی وغیرہ، ان چیزوں کے لیے وہ اپنی اولاد سے روپیہ پیسہ مانگتے ہیں، اس صورت میں اولاد اگر دین دار ہے، تو وہ عجیب مخمصے میں پڑجاتی ہے کہ ایک طرف خدائی فرمان ہے کہ یہ چیزیں منع ہیں(۱)، اور دوسری طرف یہ حکم ہے کہ والدین کی اطاعت وفرمانبرداری لازم ہے(۲)، اس صورتِ حال میں حکمِ شرع یہ ہے کہ والد صاحب کا احترام ملحوظ رکھتے ہوئے انہیں منع کیا جائے(۳)، اور مذکورہ چیزوں کے لیے انہیں روپیہ پیسہ نہ دیں، کیوں کہ فقہ کا یہ قاعدہ ہے کہ’’ مخلوق کی ایسی بات جس میں خالق کی نافرمانی لازم آتی ہے، قابلِ تسلیم نہیں ہے

I Covered these points in the video


> waldain ke huqooq

> waldain ke huqooq in urdu

> waldain ke huqooq in hindi

> waldain ke huqooq ki hadees

> maa baap ke huqooq

> aulad ke huqooq

> walidain ke huqooq

Spread the love

Leave a Comment

%d bloggers like this: