Wehm kya hai ! Weham Ka Ilaj in Urdu ! Shak Or Weham Ka Ilaaj ! Weham Ki Bimari Ka Ilaj Obsessive Compulsive Disorder Elaj | ٹینشن اور وہم کی بیماری کا علاج

 بدگمانی کے نقصانات

Wehm kya hai ! Weham Ka Ilaj in Urdu ! Shak Or Weham Ka Ilaaj !  Weham Ki Bimari Ka Ilaj Obsessive Compulsive Disorder Elaj | ٹینشن اور وہم کی بیماری کا علاج


Weham Ki Bimari Ka Ilaj Obsessive Compulsive Disorder Elaj

بدگمانی سے یہ آفتیں پیداہوتی ہیں ، دوسرے کو حقیر سمجھنا ، اس سے بغض وعداوت کرنا ، اس کے افعال حسنہ ( یعنی اچھے افعال ) کو کسی نفسانی غرض پر محمول کرنا ، اس کی غیبت کرنا ، اس کے نقصان اور ذلت پر خوش ہونا ، اور طرح طرح کی خرابیاں اس پر مرتب ہوتی ہیں ، مسلمانوں کو چاہئے کہ قوی قرائن کے ہوتے ہوئے بھی حتی الامکان بدگمانی نہ کریں بلکہ کچھ تاویل کرکے اس کو اپنے دل سے رفع کریں ، اس سے بڑھ کر کیاہوگا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ایک شخص کو اپنی آنکھوں سے چوری کرتے دیکھ کر ٹوکا اس نے خدا کی قسم کھاکر کہا کہ میں چوری نہیں کرتا ہوں ، آپ فرماتے ہیں میرے خدا کا نام سچا ہے میری آنکھ جھوٹی ہے ۔

البتہ اگردفع کرنے پر بھی ( وہ بدگمانی کا خیال ) دل سے دفع نہ ہو تو اس پر مواخذہ نہیں مگر اس کا ذکرکرنا ، اس کے مقتضیٰ کے موافق برتاؤ کرنا یہ ضرور گناہ ہے ، خصوصاً چغلخوری کی وجہ سے کسی سے بدگمانی ہوجانا ۔

( آداب انسانیت

بدگمانی کا علاج
ایک طالب کے استفسار پر بدگمانی کا یہ علاج تحریر فرمایا کہ جب ایسی بدگمانی قلب میں آئے اول علیحدہ بیٹھ کر یاد کرے کہ اللہ تعالیٰ نے بدگمانی سے منع فرمایا ہے تو یہ گناہ ہوا ، اور گناہ پر عذاب کا اندیشہ ہے تو اے نفس ! توحق تعالیٰ کے عذاب کوکی سے برداشت کرے گا ، یہ سوچ کر توبہ کرے ۔
اور دعا بھی کرے کہ اے اللہ میرے دل کو صاف کردے ، اور جس پر بدگمانی ہوئی ہے اس کے لئے بھی دعا کرے کہ اے اللہ اس کو دونوں جہاں کی نعمتیں عطافرما ، دن رات میں تین بار ایسا کرے ۔
اگر پھر بھی اثر رہے دوسرے اور تیسرے دن ایسا ہی کرے ، اگرپھر بھی اثر رہے اب اس شخص سے مل کرکہے کہ بلاوجہ مجھ کو تم پربدگمانی ہوگئی تم معاف کردو ، اور میرے لئے یہ دعا کردوکہ یہ دورہوجائے ۔ ( اشرف السوانح ص۱۳۴ج۲ )

بدگمانی ، بدزبانی ، عیب گوئی ، عیب جوئی کا علاج


( حال ) بعض وقت ذراسی بات پردوسروں کی طرف سے بدگمانی بھی ہوتی ہے مگر اس کو بھی دل سے بہت دورکرتا ہوں ۔

( جواب ) اسی کے ساتھ یہ بھی ضرور ی ہے کہ زبان پر اس کوکسی کے سامنے نہ لاویں ۔ ( تربیت السالک ص۳۷۶ج۱ )

( حال ) مجھ میں ایک بڑا عیب راسخ ہوگیا ہے کہ دوسروں کا عیب تو بہت بڑا معلوم ہوتا ہے حتیٰ کہ اس میں غیبت تک کی نوبت آجاتی ہے ، اور اپنا عیب نہیں معلوم ہوتا ، ہرچند کوشش کرتا ہوں کہ یہ بری عادت مجھ سے دور ہوجائے لیکن کسی طرح نہیں جاتی ، کوئی طریقہ ہدایت فرمائیں تاکہ یہ بری عادت دورہوجائے ۔

( جواب ) دعا بھی کرتا ہوں باقی تدبیریہ ہے کہ آپ ہر کلام سے پہلے یہ سوچ لیاکیجئے کہ اگر یہ کلام میں نہ کرو ں توکوئی ضرور ی نفع فوت تو نہ ہوگا ، جس میں ضرور ی نفع کا فوت نہ ہونامعلوم ہو اس سے زبان کو بندرکھئے یہ تو زبان کا انتظام ہے ۔

باقی اس کی جڑ کا انتظام یہ ہے کہ جب کسی کے عیب پر نظر پڑے تویوں سوچاکیجئے کہ اس شخص میں یہ عیب ہے مگر ممکن ہے کہ اس میں کچھ خوبیاں ایسی ہوں جن کے اعتبار سے اس کی مجموعی حالت میری مجموعی حالت سے عنداللہ احسن ( اللہ کے نزدیک زیادہ اچھی ) ہو ، پھر مجھ کو اس کی عیب جوئی یاعیب گوئی کا کیا حق حاصل ہے ۔ جس طرح اندھے کویہ حق نہیں کہ کانے کو چڑاوے ، باربار اس مضمون کے استحضار سے انشاء اللہ یہ عیب جڑ سے ختم ہوجائے گا ، اور اگر کبھی اتفاق سے پھر بھی اس کاصدورہوجائے توبطورجرمانہ کے بیس رکعت نفل پڑھا کیجئے انشاء اللہ نفس سیدھا ہوجائیگا ۔ ( تربیت السالک ص۲۷۸ 

بدگمانی وبدزبانی حرام ہے جس سے سوء خاتمہ کا خطرہ ہے

ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت اگرتاویل کی جائے توپھر کوئی بھی مؤاخذہ کے قابل نہیں رہتا ، تاویل میں توبڑی وسعت ہے ، فرمایا : تاویل اور توجیہ کا بھی ایک معیار ہے ، ایک وہ شخص ہے جس کی غالب حالت صلاحیت کی ہے ، دین کا مطیع ہے ، عقائد صحیح ہیں ای سے شخص سے اگرکوئی غلطی ہوجائے وہاں تاویل واجب ہے ، اور جہاں فسق وفجور کا غلبہ ہے وہاں تاویل نہ کی جائے گی ، اور مستحقین تاویل کی شان میں اگر تاویل بھی نہ کی جائے تب بھی کف لسان ( زبان روکنا ) واجب ہے گوان کا معتقد ہو نا بھی واجب نہیں ۔ جی سے شیخ محی الدین ابن عربی رحمۃ اللہ علیہ ہیں ، با یزید رحمۃ اللہ علیہ ہیں ان کا معتقد ہونا واجب نہیں ، مگر گستاخی بھی خطرہ سے خالی نہیں اور خطرہ بھی ایسا جس کو امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ اہل طریق سے بدگمانی کرنے میں سوء خاتمہ ( یعنی خاتمہ اچھا نہ ہونے ) کا اندیشہ ہے ، اور اگر کچھ نہ کہو تو کچھ اندیشہ نہیں توبہتر صورت یہی ہے اور احتیاط اسی میں ہے کہ کچھ نہ کہو گویہ بھی ضرور ی نہیں کہ معتقد ہوجاؤ ، بس نہ معتقد ہو اور نہ کوئی بے جاکلمہ کہو ، اسی میں خیر ہے ، اس کی بالکل ایسی مثال ہے کہ کوئی شخص امیر ہو اسکے امیر ہونے کا کوئی معتقد نہ ہولیکن اگریوں کہے کہ وہ غریب مفلس ہے یہ جھوٹ ہوگا ، اور موجب ایذاء ( تکلیف کاباعث ) بھی ، سومعتقد نہ ہونا جرم نہ تھا ، جھوٹ بولنا جرم ہے ۔ اسی طرح اگرکوئی ان حضرات کا معتقد نہ ہو کوئی جرم نہیں لیکن برابھلا کہنا یہ بڑی خطرناک بات ہے ہمارے بزرگوں کا مذہب تویہ ہے کہ وہ افراط وتفریط کو پسند نہ فرماتے تھے ، منصوص علیہ حضرات کے سوا کسی خاص بزرگ کا نہ معتقد ہونا فرض ہے نہ برا بھلا کہنا جائز ۔ ( ملفوظات حکیم الامت ص۱۰۰ج۲

اختلاف اور لڑائی کی بنیاد عموماً بدگمانی اور وہم پرستی پر ہوتی ہے

غور کرکے دیکھا جائے تو ( باہم اختلاف اور ) لڑائیوں کی بنیاد صرف اوہام پرستی ہے کسی کے بارے میں ذراساشائبہ ہوا اور اس پر حکم لگاکر لڑائی شروع کردی ، دوسرے نے جب کوئی لڑائی دیکھی تو شبہ کی اور زیادہ گنجائش ہے ، ادھر سے سیر بھر لڑائی تھی ادھر سے پانچ سیر بھر ہونا کچھ بات ہی نہیں ، اور جب اصل بات کی تحقیق کی جائے تو بات کیا نکلتی ہے کہ فلاں نے کہا تھا کہ وہ تمہاری شکایت کررہاتھا ( اور تمہارے متعلق اس طرح کی بات کررہا تھا ) سننے والا کہتا ہے کہ نقل کرنے والا بہت معتمد ایماندار ہے ، بے سنے اس نے کبھی نہ کہا ہوگا ۔عموماً لڑائی ایسی ہی باتوں پر ہوتی ہے کسی خدا کے بندے کو یہ توفیق نہیں ہوتی کہ جب شکایت سنے تو اس بیچ کے واسطے کوقطع کرکے خوداس شکایت کرنے والے سے پوچھ لیں کہ تم نے میری شکایت کی ہے ( اور میرے متعلق یہ بات کہی ہے ؟ ) ۔

جس کی طرف سے بدگمانی اور شکایت ہو اس کے ساتھ کیا کرنا چاہئے ، مسنون طریقہ

مسنون طریقہ بھی یہی ہے کہ اگر کسی سے کوئی شکایت دل میں ہو اس شخص سے ظاہر کردے کہ تمہاری طرف سے میرے دل میں یہ شکایت ہے اس شخص سے اس کا جواب مل جائے گا ، اور اگر وہ شکایت غلط تھی تو بالکل دفعیہ ہوجائے گا ، اور سنی سنائی باتوں پر اعتبار کرلینا اور اس پر کوئی حکم لگادینا بالکل نصوص ( قرآن وحدیث ) کے خلاف اور جہالت ہے اسی موقع کے لئے قرآن شریف میں موجود ہے ’’ اِجْتَنِبُوْا کَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ ‘‘ ( حجرات پ۲۶ )

( ترجمہ ) یعنی بدگمانیوں سے بچوبیشک بہت سی بدگمانیاں گناہ ہوتی ہیں ، اور ارشاد ہے ’’ اِیَّاکُمْ وَالظَّنَّ فَاِنَّ الظَّنَّ اَکْذَبُ الْحَدِیْث ‘‘ بدگمانی سے اپنے آپ کو بچاؤ کیونکہ بدگمانی بدترین جھوٹ ہے ، ہم نے تو تجربہ سے تمام عمر دیکھا کہ سنی ہوئی بات شاید کبھی سچ نکلتی ہو ۔ ایک شخص کا قول ہے کہ ای سے واقعات کی روایتیں کہ جن سے راوی ( نقل کرنے والے ) کا کچھ ذاتی تعلق بھی نہ ہو ، اور راوی بھی ایسا ہوکہ جھوٹ کا عادی نہ ہو تب بھی جب کبھی دیکھا گیا اور تحقیق کی گئی تو تمام باتوں میں چوتھائی بات بھی سچ نہیں نکلی ، اور ان باتو ں کی روایت کا تو پوچھناہی کیا جن میں راوی کی ذاتی غرض بھی شامل ہو ۔ عموماً بدگمانیاں اور لڑائیاں ان ہی روایتوں کی بنا پر ہوتی ہیں کہ اصلیت کچھ بھی نہیں ہوتی ، کچھ حاشیے اس پرروایت کرنے والے لگاتے ہیں کہ اس سے یہ خیال پیدا ہو جاتا ہے کہ فلاں ہمارا مخالف ہے ، بس اس خیال ووہم سے لڑائی ٹھن جاتی ہے ، اس کی مثال ایسی ہے کہ جی سے جنگل میں رات کے وقت آدمی اکیلا ہو اور اسکو شیر کا خوف ہو تو جب وہ ایک طرف کو دھیان جماتا ہے تو کوئی درخت ا سے شیر معلوم ہونے لگتا ہے ، پھرجب خیال کوترقی ہوتی ہے تو اسی خیالی صورت میں ہاتھ پیر بھی نظرآنے لگتے ہیں ۔ اور سچ مچ کا شیر معلوم ہونے لگتا ہے حالانکہ واقع میں کچھ بھی نہیں ہوتا صرف وہم کی کارگذاری ہوتی ہے ، اسی طرح نفس سنی سنائی باتوں میں اختراع کرتا ہے اور خواہ مخواہ کی شکایت ہوجاتی ہے ۔

( غوائل الغضب ، حقوق الزوجین ص۲۲۴ )

بدگمانی حرام اور باہمی اختلاف کاذریعہ ہے

یَااَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا اجْتَنِبُوْا کَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ

( سورہ حجرات پ۲۶ ) اے ایمان والو ! بہت سے گمانوں سے بچاکرو کیونکہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں اور تجسس یعنی سراغ مت لگایاکرو ، اور کوئی کسی کی غیبت بھی نہ کیا کرے ۔

اور فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ بدگمانی سے اپنے کو بچاؤ ، بیشک بدگمانی سب سے بڑھ کر جھوٹ ہے ( روایت کیااس کو بخاری ومسلم نے )

آج کل نااتفاقی ( اور باہم اختلاف ) اور پریشانی کے منجملہ اسباب میں سے ایک بڑا سبب بدگمانی ہے کہ قرائن ضعیفہ ومحتملہ ( یعنی محض معمولی قرائن وانداز اور احتمال کی بناپر ) یاجھوٹی خبروں کی بنا پر دوسرے مسلمان بھا ئی سے بدگمانی کربیٹھتے ہیں اس کے بعد معمولی قرائن کی تائید وتقویت کرتے جاتے ہیں حتیٰ کہ وہ بدگمانی درجۂ یقین تک پہنچ جاتی ہے ۔ ( فروع الایمان ملحقہ اصلاحی نصاب ص : ۳۷۳

Spread the love

Leave a Comment

%d bloggers like this: