Zair e Naaf Baal kahan Tak Katay Jain ! Naaf k Baal Kahan Tak katne Chahiye ! Hair Removing In Islam | زیرِ ناف بالوں کی صفائی

 زیرِ ناف بالوں کی صفائی 

Zair e Naaf Baal kahan Tak Katay Jain 

Zair e Naaf Baal kahan Tak Katay Jain ! Naaf k Baal Kahan Tak katne Chahiye ! Hair Removing In Islam | زیرِ ناف بالوں کی صفائی


حضرت انس ﷜فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺنےمونچھیں کترنے، ناخن کاٹنے، بغل کے بال اکھیڑنےاور زیرِ ناف بالوں کے مونڈنے میں ہمارے لئےیہ وقت مقرر کیا ہےکہ ہم چالیس دن سے زیادہ انہیں نہ چھوڑیں۔وَقَّتَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَصِّ الشَّارِبِ، وَتَقْلِيمِ الْأَظْفَارِ، وَحَلْقِ الْعَانَةِ، وَنَتْفِ الْإِبْطِ، أَنْ لَا نَتْرُكَ أَكْثَرَ مِنْ أَرْبَعِينَ يَوْمًا۔(نسائی:14)(مسلم:258)


اِس روایت میں زیادہ سے زیادہ کی حد ذکر کی گئی ہے ، اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس سے پہلے نہیں کاٹنا چاہیئے بلکہ افضل اور بہتر یہی ہے کہ ہر ہفتہ ایک مرتبہ کاٹ لیا جائے اور اس کیلئے جمعہ کا دن مقرر کرنا افضل ہے، کیونکہ اُس میں غسل کرکے اچھی طرح صفائی اور پاکیزگی کا اہتمام کیا جاتا ہے ، لہٰذا زائد بالوں کو بھی صاف کرلینا زیادہ بہتر ہوگا ۔چنانچہ درِّ مختار میں ذکر کیا گیا ہے کہ ہفتہ میں ایک مرتبہ زیرِ ناف بالوں کو مونڈنا اور اپنے بدن کو غسل کرکے صاف ستھرا کرنا مستحب ہے،اور افضل یہ ہےکہ جم<>عہ کے دن کیا جائے، اور پندرہ دن میں ایک مرتبہ جائز ہے اور چالیس دن سے زیادہ چھوڑنا مکروہ ہے۔وَ يُسْتَحَبُّ حَلْقُ عَانَتِهِ وَتَنْظِيفُ بَدَنِهِ بِالِاغْتِسَالِ فِي كُلِّ أُسْبُوعٍ مَرَّةً وَالْأَفْضَلُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَجَازَفِي كُلِّ خَمْسَةَ عَشْرَةَ وَكُرِهَ تَرْكُهُ وَرَاءَ الْأَرْبَعِينَ۔(الدر المختار :6/407)

صاحبِ مرقاۃ ملّاعلی قاری ﷫فرماتے ہیں کہ زیرِ ناف بالوں کی صفائی کے تین درجہ ہیں :

الْأَفْضَلُ: افضل درجہ ہرہفتے صاف کرنا ہےالْأَوْسَطُ: درمیانہ درجہ ہر پندرہ دن میں صاف کرنا ہے۔

الْأَبْعَدُ: بعید درجہ چالیس دن میں صاف کرنا ہے ۔(مرقاۃ المفاتیح:7/2816)

فائدہ

 :ہر جمعہ کو زیرِ ناف بالوں کی صفائی کرنے سے متعلّق کوئی حدیث تو نہیں ملی ، تاہم چونکہ ہر جمعہ کو ناخن اور مونچھیں کاٹنے سے متعلّق آپﷺکا عمل اور ترغیب روایات میں منقول ہے، اس لئے اُس پر قیاس کرتے ہوئے زیرِ ناف اور بغل کے بالوں کی صفائی کو افضل قرار دینا بالکل درست ہے۔غالباً اِسی لئے کتبِ فقہ میں جمعہ کے دن ”حلق العانۃ“ زیرِ ناف بالوں کی صفائی کا ذکر کیا گیا ہے ۔

بعض روایات سے جمعرات کے دن ناخن کاٹنا ،بغل اور زیرِ ناف بالوں کی صفائی کرنا معلوم ہوتا ہے ، جو شاید واللہ أعلم اِس بات پر محمول ہیں کہ جمعہ کی تیاری ایک دن قبل ہی سے شروع کردینی چاہیئے ، کیونکہ اِس میں جمعہ کا زیادہ اہتمام کا معنی پایا جاتا ہے۔روایت یہ ہے : آپﷺنے حضرت علی کرّم اللہ وجہہ سے اِرشاد فرمایا : اے علی!ناخن کاٹنا ،بغل کے بال اکھیڑنا اور زیرِ ناف بال مونڈنا جمعرات کے دن کیا کرو اور غسل ، خوشبو اور لباس کا اہتمام جمعہ کے دن کیا کرو۔قَصُّ الظُّفْرِ وَنَتْفُ الإِبْطِ وَحَلْقُ الْعَانَةِ يَوْمَ الخمِيسِ وَالْغُسْلُ والطِّيبُ وَاللِّبَاسُ يَوْمَ الجُمُعَةِ۔(فیض القدیر شرح الجامع الصغیر:6130)(کنز العمال:17256 ،17240


I Covered these points in the video


> zair e naaf baal kahan tak katay jain

> zair-e-naaf baal kahan tak katain

> zere naaf baal kahan tak katne chahiye

> zair-e-naaf baal (hair) kahan tak katain

> zer e naaf baal

> zair e naaf baal kahan tak katain

> zer e naaf baal kahan tak katne chahye

> zer e naaf baal kahan tak katne chahiye

> zair-e-naaf baal (hair) kahan tak katain 

> zere naaf baal kahan tak

> zair e naaf baal saaf karne ka islamic tariqa

> naaf k baal kahan tak katne chahiye

> zer e naaf kya hai

Spread the love

Leave a Comment

%d bloggers like this: