Zina se Tauba Karne Ki Dua | Kya Zina Se Nikah Toot Jata Hai | zina ki saza islamic | زنا اور اس کی سزا |

  زنا اور اس کی سزا

Zina se Tauba Karne Ki Dua | Kya Zina Se Nikah Toot Jata Hai |  zina ki saza islamic |   زنا اور اس کی سزا |


احنافؒ کے نزدیک زنا کی تعریف یہ ہے کہ ایسی زندہ عورت کے ساتھ رحم کی جانب سے مجامعت کرنا جو ملک اور نکاح میں نہ ہو اور نہ اس کے ملک اور نکاح میں ہونے کا شبہ ہو اورعورت زانیہ اس وقت شمار ہوگی ، جب کہ وہ رضا کی حالت میں مرد کو اپنے ساتھ اس فعل کا ارتکاب کرنے دے ۔

اگر زنا کرنے والا مرد یا عورت کنوارا یاکنواری ہوں تو ان کے لیے دو سزائیں حدیث میں آئی ہیں ۔

( ۱ ) سو کوڑے ( ۲ ) جلا وطنی ۔


سو کوڑے تو حد ہے ، اس میں کسی بھی صورت میں کمی بیشی یا ردو بدل نہیں ہوسکتا ؛ البتہ جلا و طنی کی سزا قاضی کی رائے پر موقوف ہے ، اگر وہ مناسب سمجھے تو شہر بدر کرسکتا ہے ورنہ نہیں ۔ اور اگر زانی شادی شدہ ہے تو اس کی سزا رجم ( سنگ سارکرنا ) ہے ۔

شریعتِ اسلامیہ زنا پر اس لحاظ سے سزا دیتی ہے کہ زنا سماجی وجود اور معاشرتی سلامتی پر اثر اندازہوتا ہے اور یہ کہ خاندانی نظام کو نہایت بری طرح مجروح کردیتا ہے ؛ حالاں کہ خاندان ہی وہ بنیاد ہے ، جس پر معاشرہ استوار ہوتا ہے ، اسی وجہ سے شریعتِ اسلامیہ معاشرے کے مضبوط پیوست اور ہم آہنگ رہنے کی بہت زیادہ متمنی ہے ۔

اورجدید قوانین میں اگر باہمی رضامندی سے کوئی زنا کرے ، تو پھر سزا کا کوئی جواز نہیں بل کہ بے معنی ہے ، اس لیے کہ زنا ان کے نزدیک شخصی امور میں سے ہے نہ کہ معاشرتی اور سماجی امور سے اور اس کے اثرات صرف افراد کے تعلقات پر مرتب ہوتے ہیں ، نہ کے سماجی مفاد ات پر ۔

 کو ہوا وہوس کی آفتوں کا خوف ہو وہ اس کو پڑھے امن میں رہے۔

شراب خوری اور زنا کاری کی عادت چھڑانے کے لئے

البر (نیکی کرنے والا)۔

خاصیت:جو شراب خوری اور زنا میں مبتلا ہو روزانہ سات بار(۷) پڑھے تو اس کا دل ان چیزوں سے سرد ہو جائے

مفاسدِ زنا

۱-ز نا سے نسب مختلط اور مشتبہ ہوجاتا ہے۔

۲- ولدالزنا کی پرورش کا مسئلہ پیدا ہوجاتا ہے۔

۳-معاشرہ میں ایسی عورت کو حقیر اور ذلت آمیز نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

۴- خود ماں ہی زنا کی اولاد کو مار ڈالتی ہے یا پھینک دیتی ہے جس کی بے شمار زندہ مثالیں موجود ہیں۔

۵-رشتوں کا تقدس پامال ہوجاتا ہے

۶- ایسی عورت کا اگر سوسائٹی میں لوگوں کو علم ہوجائے تو اس کے نکاح کا مسئلہ پیدا ہوجاتا ہے اور کوئی اس سے نکاح پر تیار نہیں ہوتا اور شادی شدہ عورتوں کے لئے طلاق کی نوبت آجاتی ہے بہت سے میاں بیوی کے درمیان جدائی وطلاق ز نا کی بدولت واقع ہوتی ہے۔

۷- زنا کار عورت کسی ایک مرد کی ہوکر نہیں رہتی بلکہ ہر شخص بد کی بدنگاہیں اس پر پڑتی ہیں اور ہر شخص اس کو اپنی تکمیل ہوس کا شکار بنانے لگتا ہے۔

۸-زنا کی کثرت سے کوئی قانون ضابطہ نہیں رہتا آوارہ گردی اور حقوق تلفی رواج پاتی ہے کہ کوئی مرد ، عورت کسی کے پاس بھی جائے۔

۹- محبت والفت نہیں رہتی ، خود غرضی کا دور دورہ ہوجاتا ہے

۱۰- باہمی محبت ، اولاد کی تعلیم وتربیت ، گھر باہر کے کاموں میں ایک دوسرے کی معاونت کا بیڑا غرق ہوجاتا ہے ۔

۱۱- زنا سے شرم وحیاکا جنازہ نکل جاتا ہے، مرد وعورت بے شرمی وبے حیائی پر کمر بستہ ہوجاتے ہیں۔

۱۲- زناکار اپنے والدین ، خاندان اعزا اقربا ورشتہ داروں کی عزت پر بھی بٹہ لگاتے اور معاشرہ میں ان کو ذلیل کرتے ہیں، ان کی ذلت ورسوئی کے ساتھ دلوں کو ٹھیس اور تکلیف بھی پہنچاتے ہیں۔

۱۳- زنا سے ایمان کمزور ہوجاتا ہے ، بعض نیک اعمال کی توفیق سلب ہوجاتی ہے اور ایمان کے سلب ہوجانے کا خطرہ بھی ہے، جو لوگ دوسروں کی ماں بہن بیٹی کی عصمت وعزت لوٹنے کی جستجو میں لگے رہتے ہیں ان کی ماں بہن بیٹیوں کی عصمت وعزت بھی محفوظ نہیں رہتی، جو دوسروں کی بہو بیٹیوں کو تکتے ہیں تو ان کی بہو بیٹیوں کو بھی تکا جاتا ہے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’ اَلْخَبِیْثٰتُ لِلْخَبِیْثِیْنَ وَالْخَبِیْثُوْنَ لِلْخَبِیْثٰتِ وَالطَّیِّبٰتُ لِلطَّیِّبِیْنَ وَالطَّیِّبُوْنَ لِلطَّیِّبٰتِ ‘‘۔(النور : ۲۶)

’’گندی عورتیں گندے مردوں کے لائق ہوتی ہیں اور گندے مرد گندی عورتوں کے لائق ہوتے ہیں اور صاف ستھری عورتیں صاف ستھری مردوں اور ستھرے مرد ستھری عورتوں کے لائق ہوتے ہیں‘‘۔

اس آیت پاک سے معلوم ہوتا ہے کہ زنا کار مرد کیلئے زنا کار عورتیں ہیں اور بدکار عورتوں کیلئے بدکار مرد ہیں ۔ (یعنی بدکاروں کو بدکار ہی نصیب ہوتے ہیں۔)

’’ اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ واِیْتَائِ  ذِی الْقُرْبٰی وَیَنْہٰی عَنِ الْفَحْشَآئِ وَالْمُنکَرِ۔ (النحل:۹۰) ’’بے شک اللہ تعالیٰ اعتدال اور احسان اور اہل قرابت کو دینے کا حکم فرماتے ہیں او رکھلی برائی اور مطلق برائی اور ظلم کرنے سے منع فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ تم کو اس لئے نصیحت فرماتے ہیں کہ تم نصیحت قبول کرو‘‘۔

زانی کا فعل خود اپنے اوپر بھی ظلم ہے کہ اس سے اخلاق واعمال مٹی پلید ہوجاتی ہے خون اور روپیہ بے فائدہ ضائع ہوتا ہے مادہ تولید جو باعث افزائش نسل انسانی ہے ناحق برباد ہوتا ہے ، صحت پر ناخوش گوار اثر پڑتا ہے ذلت ورسوائی ہوتی ہے زانی خوف وہراس میں مبتلا رہتا ہے ، حزن وملال سے دوچار ہوتا ہے، متعدی امراض شوزاک، آتشک، ایڈس وغیرہ جیسی بیماریوں کے خطرہ میں اپنے آپ کو گرفتار کرنا پڑتا ہے ، بے حیائی، فریب کاری، جھوٹ ، بدنیتی، خود غرضی، نفسانی خواہش کی غلامی، ضبط نفس کی کمی، خیالات کی آوارگی اور بیسیوں جسمانی ذہنی اور روحانی امراض میں زنا آدمی کو مبتلا کردیتا ہے۔

کی شاہرہ بناتا ہے ، زنا نسوانی عفت وعصمت کی لوٹ ہے ، زانی‘ عورت کے خاندان والوں ،ماں باپ بھائی وغیرہ کو بھی رسوا کرتا ہے جس کی بدولت بسا اوقات خوں ریزی، قتل وغارت گری خود کشی تک انہی رسوائیوں کی بدولت نوبت آجاتی ہے۔

ز نا بچے پر بھی ظلم ہے زنا کی بدولت یا تو اس کو بے سہارا کہیں ڈال دیا جاتا ہے یا قتل کردیاجاتا ہے اس کی تعلیم وتربیت ونگرانی کی ذمہ داری کا کوئی مرکز باقی نہیں رہتا۔ یہ سیاہی زندگی بھر اس کی پیشانی پر لگی رہتی ہے۔ او رکبھی امراض خبیثہ گونگے، بہرے، اپاہج پن وغیرہ امراض اسی بدکاری کی وجہ سے لگ جاتے ہیں۔

زنا کا لفظ تو ایک بسیط مختصر سا لفظ ہے لیکن اس کے مفاسد کا دائرہ خاندانوں اور قوموں کو اپنے احاطہ میں عموماً لے لیتا ہے۔

اسی لئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’لاَتُشْرِکُوْا بِاللّٰہِ شَیْئًا وَّلاَ تُسْرِفُوْا وَلاَ تَزْنُوْا وَلاَ تَقْذِفُوْا مُحْصِنَۃٌ‘‘۔(مشکوٰۃ) اللہ تعالیٰ کا نہ کسی کو شریک ٹھہرائو نہ چوری کرو نہ زنا کرو اور نہ کسی پاک دامن کو زنا سے متہمکرو۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک شخص نے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے بڑا گناہ یعنی اکبر الکبائر کونسا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کا کسی کو شریک بنانا، حالانکہ اس نے ہی پیدا کیا اس شخص نے پوچھا اس کے بعد پھر کونسا کام؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے بچہ کو اس خوف سے مارڈالنا کہ وہ ساتھ کھائے گا، اس شخص نے پوچھا پھر کونسا یا رسول اللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ان تزنی حلیلۃ جارک‘‘ ۔ (بخاری باب اثم الزناۃ) تیرا اپنے پڑوسی کی عورت کے ساتھ زنا کرنا ۔ ایک حدیث میں ہے اپنے پڑوس میں چوری یا زنا کرنا دس گنا گنا ہ ہے۔ ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دوزخ میں لوگ زیادہ تر اپنی زبان اورا پنی شہوت کی دولت ڈالے جائیں گے

شادی شدہ عورت سے اگر زنا ہو جائے تو کہیا نکاح ٹوٹ جاتا ہے 

سوال اگر کوئی شادی شدہ عورت زنا کر لے تو کیا اس کا اس کے خاون سے نکاح ٹوٹ جائے گا اس مسئلہ کے بارے میں وضاحت فرما دیں 

جواب 

اللہ رب العزت قرآن پاک میں ارشاد فرماتے ہیں ولا تقربوا الزنا انہ کان فاحشہ تم زنا کے قریب بھی مت جاؤ اگر کوئی شادی شدہ عورت زنا کر لیتی ہے تو اس کا اس کے خاوند سے نکاح نہیں ٹوٹے گا لیکن یہ گناہ بہت بڑا ہے ایک اچھی عورت کی نشانی یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے خاوند کے جانے کے بعد اپنی عزت کی حفاظت کرتی ہے اس کے جان کے مال کی عزت کی حفاظت کرتی ہے آتا ہے کہ اگر کوئی شادی شدہ انسان زنا کرے تو اس کوسنگسار کیا جائے گا اگر کوئی کنوارا زنا کرے تو اس کو کوڑے مارے جائیں گے

I Covered these points in the video

> zina ki saza in islam

zina

> zina ka azab

> islam me zina ki saza

> islam main zina ki saza kia hai

> islam main zina ki saza kia hai

> zina in islam

> zina ki saza kya hai

> zina ki maafi

> zina ki saza in quran

> zina ki saza by dr farhat hashmi

> zina ki saza by molana raza saqib mustafai

> islam ma zina ki saza

> islam mein zina ki saza

Spread the love

Leave a Comment

%d bloggers like this: